کالملکھارینصرت جاوید

متوقع انتخابات سے لگائی گیم۔ بہلاوا اور سراب : برملا / نصرت جاوید

سیاست میں اُلجھے فریقین کا ا یک ”شریک“ ہوا کرتا ہے۔ بسا اوقات اس سے نفرت اتنی شدید ہوجاتی ہے کہ کوئی ایک فریق اپنے ”شریک“ کی دیوار کو ہر صورت گرانا چاہتا ہے چاہے پنجابی محاورے کے مطابق خود بھی گری ہوئی دیوار کے ملبے تلے آجائے۔
”شریک“ کا ذکر چھڑا ہے تو خیال آیا کہ بدھ کی شام گڑھی خدابخش میں بھٹو صاحب کی 39ویں برسی سے خطاب کرتے ہوئے آصف علی زرداری صاحب نے نواز شریف کو قطعی انداز میں اپنا ”شریک“ ٹھہرادیا ہے۔ سپریم کورٹ سے نااہل ہوئے سابق وزیر اعظم اگرچہ آئندہ انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے۔ قومی اسمبلی پہنچ کر لہٰذا ان کے وزیر اعظم کے منصب پر لوٹ آنے کا کوئی امکان موجود ہی نہیں۔ کوشش ان کے نام سے منسوب جماعت کی اب صرف اتنی ہے کہ کسی نہ کسی صورت یہ عہدہ شہباز شریف صاحب کو مل جائے۔شہباز صاحب اس خواہش کو ذہن میں رکھتے ہوئے ”نیویں نیویں“ رہتے ہوئے نئے انتخابات تک ہر صورت پہنچنے کی تگ ودو کررہے ہیں۔سوال اگرچہ یہ بھی اُٹھ چکا ہے کہ وہ خود بھی انتخاب میں حصہ لینے اور اپنی جماعت سے وابستہ امیدواروں کی انتخابی مہم میں بھرپور حصہ ڈالنے کے قابل رہیں گے بھی یا نہیں۔
جون میں جو نگران سیٹ اپ آئے گا اس سے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے انصاف مانگنے کینیڈا کے شیخ السلام ایک بار پھر پاکستان آکر دھرنے وغیرہ دے سکتے ہیں۔ خادمِ اعلیٰ کے ایک بہت ہی چہیتے افسر-احد چیمہ- ان دنوں نیب کی تحویل میں ہیں۔ مزید افسروں کی گرفتاریوں کے عندیے بھی دئیے جارہے ہیں۔ ان میں سے کوئی ایک بھی اس دور کا ”مسعود محمود“ بننے کو آمادہ ہوگیا تو شہباز صاحب جاندارانتخابی مہم چلانے کے قابل نہیں رہیں گے۔ خاص کر اس صورت جب ان کے بڑے بھائی کو احتساب عدالت نے جیل بھی بھیج دیا ہواور یہ سزا محترمہ مریم نواز شریف کو بھی شریک جرم ٹھہرادے۔
شریف خاندان کے کسی طاقت ور نمائندے کی انتخابی اکھاڑے میں موجودگی کے بغیر نواز شریف کے نام سے منسوب مسلم لیگ کے امیدوار خود کو سیاسی یتیم محسوس کریں گے۔ ان ”یتیموں“ کی انتخابی حلقوں میں نقل وحرکت کو محدود تر کرنے کے لئے علامہ خادم حسین رضوی صاحب کے پُرجوش کارکن بھی متحرک ہوں گے۔ کئی قصبوں میں عام انتخاب کے وسیع تر کینوس پر نگاہ رکھے میڈیا تک کو شاید ان کی مشکلات کی خبر ہی نہ پہنچ پائے۔ طالبان کی دہشت نے 2013کے انتخابات کے دوران پی پی پی اور اے این پی کے امیدواروں کو ”محتاط“ رہنے پر مجبور کردیا تھا۔ اس کے باوجود پولنگ سے صرف ایک روز قبل ملتان شہر سے دن دھاڑے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا بیٹا اغواءہوگیا تھا۔ اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہیں رہی تھی۔
یہ بات درست ہے کہ 2013میں طالبان کی دہشت سے خوفزدہ ہوئی پیپلز پارٹی کی بے بسی کا نواز لیگ اور تحریک انصاف نے خوب فائدہ اٹھایا تھا۔ ”انتخابی عمل کے تجربہ کار کھلاڑی ہوتے ہوئے حتمی فائدہ مگر نواز لیگ نے سمیٹ لیا۔ نواز شریف کے نام سے منسوب ہوئی مسلم لیگ کی مشکلات کا فائدہ اب کی بار تحریک انصاف کی جھولی میں گرنا منطقی اعتبار سے پرامکان دِکھ رہا ہے۔ آصف علی زرداری کا مگر یہ خیال ہے کہ اٹک سے رحیم یار خان تک پھیلے آبادی کے اعتبارسے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں وزارتِ اعلیٰ کے حصول کے لئے عمران خان صاحب کو ”ایک زرداری….“ کی ضرورت محسوس ہوگی اور وہ ان کو ”دُعا“ دینے پر تیار نظر آرہے ہےں۔
بھٹو صاحب کی برسی کے موقع پر گڑھی خدابخش میں اپنے والد کے بعد خطاب کرتے ہوئے مگر بلاول بھٹو نے عمران خان کو ”طالبان کا بچھڑا ہوا بھائی“ کہا اور ساتھ ہی یہ اعلان بھی کردیا کہ عہدِ حاضر کے ”فرعون“ مذہبی انتہاءپسند ہیں۔ ان کا مقابلہ کرنے کی تاریخی ذمہ داری اب ان کے سرپر ہے اور وہ یہ ذمہ داری ہر صورت نبھائیں گے۔ ”طالبان کے بچھڑے ہوئے بھائی“ کا ساتھ دے کر یہ ذمہ داری تو نبھائی نہیں جاسکتی۔ شاید بالآخر انہیں ”ایک زرداری….“ کی Pragmaticفراست ہی سے رجوع کرنا پڑے گا۔
اس فراست کا ٹریلر ہمیں 1993میں بھی دیکھنے کو ملاتھا۔ پنجاب کو شریف خاندان سے محفوظ رکھنے کے لئے پیپلز پارٹی نے اس سال حامد ناصر چٹھہ کے نامزدہ کردہ منظور وٹو کو وزارتِ اعلیٰ پیش کی تھی۔ وٹو کے حامیوں کی پنجاب اسمبلی میں تعداد بہت قلیل تھی۔ اپنی قوت کو مضبوط تر کرنے کے لئے وٹو صاحب کوسپاہِ صحابہ کے مولانا اعظم طارق سے رجوع کرنا پڑا تھا۔ شاید اب علامہ خادم حسین رضوی صاحب سے ”دُعائے خیر“ طلب کرنے کی ضرورت پڑجائے۔ ”شریک“ نواز شریف کی دیوار مگر گر جائے گی۔ سینٹ کی طرح پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ کے لئے بھی کوئی ”سنجرانی“ مل جائے گا۔ متوقع ”سنجرانی“ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف سے باقاعدہ تعلق نہ رکھتے ہوئے بھی ان دو جماعتوں کے ووٹ لے کر پنجاب کو شریف خاندان سے بچانے کا ”قومی مفاد“ میں ضروری ٹھہرایا فریضہ سرانجام دے سکتا ہے۔ یہ سب ہوجانے کے بعد کیا ہوگا۔ اس کا جواب کسی کے پاس موجود نہیں ہے۔
ذاتی طورپر میں بہت حیران اس حقیقت کے بارے میں ہورہا ہوں کہ پیپلز پارٹی کی قیادت ان دنوں بھی نواز شریف ہی کواپنا اصل ”شریک“ ٹھہرائے ہوئے ہے۔ سیاسی تجزیے میں ذاتی پسند یا ناپسند کی گنجائش موجود نہیں ہوتی۔Here and Nowسے آغاز کرنا پڑتا ہے۔ اس اصول کو نظر میں رکھیں تو نوازشریف کے ہاتھ کھیلنے کو فی الوقت پتے بہت کمزور ہیں۔ سپریم کورٹ نے انہیں انتخابی عمل سے باہر نکال دیا ہے۔ ان کی جگہ آئے شاہد خاقان عباسی ایک بے بس ”فریادی“ بن چکے ہیں جن کی مشکلات پر رحم بھی نہیں آتا۔ انتخابی اکھاڑے میں پنجاب کی حد تک کوئی پسند کرے یا نہیں عمران خان اور انکی جماعت واحد کھلاڑی کے طورپر نظر آرہی ہے۔
پیپلز پارٹی کی قیادت کو مگر اس کا ادراک نہیں۔ اسے یقین ہے کہ آئندہ انتخابات کے نتیجے میں Hungپارلیمان دیکھنے کو ملے گی۔ وفاق اور صوبوں میں مخلوط حکومتیں بنانا ضروری ہوجائے گا اور کھیل جب ”مخلوط“ ہوجائے تو ایک زرداری سب پہ بھاری ثابت ہوا کرتا ہے۔
مجھے اگرچہ خدشہ ہے کہ پنجاب میں عام انتخابات کے بعد معاملہ ”مخلوط“ نہیں رہے گا۔ تحریک انصاف کو اس صوبے میں بھاری نہیں تو Comfortable اکثریت دلوانے کی گیم Onہے۔ پنجاب کے کئی اضلاع میں تحریک انصاف کے پنجاب اسمبلی کے امیدوار”فائنل“ ہوچکے ہیں۔ ان کے ناموں کا فی الوقت اعلان نہیں ہورہا۔ جو گیم لگی ہے اس کا توڑ نوازشریف کے نام سے منسوب ہوئی مسلم لیگ کے پاس چودھری نثار علی خان کی صورت موجود ہے۔ شہباز شریف اگر اپنی جماعت کے ”سچ مچ“ کے صدر بن گئے تو انہیں چودھری نثار علی خان کو باقاعدہ پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ کے لئے نامزد کرنا ہوگا۔ بچت کی اس کے علاوہ کوئی اور صورت نظر نہیں آرہی۔
متوقع انتخابات سے لگائی گیم میری ناقص رائے میں لیکن ایک Huge Diversionہے۔ بہلاوا اور سراب ۔اپریل کا مہینہ انگریزی کے شاعر ایلیٹ نے ”ظالم ترین مہینہ“ کہا تھا۔اس مہینے میں پھول کھلتے ہیں مگر انجام ان کا خزاں کے ہاتھوں بکھرجانا ہوتا ہے۔ ریاستِ پاکستان کے لئے بھی یہ مہینہ اس برس ٹھوس حوالوں سے بہت کڑا ہے۔ 19اپریل کو FATFکی ٹیم نے یہاں آنا ہے۔ کچھ سوالات کے ساتھ۔ ان سوالوں کے جوابات ہمارے پاس موجود نہیں کیونکہ ”فریادی“ وزیر اعظم پارلیمان سے وہ قوانین منظور نہیں کرواسکتا جو اس ٹیم کی تشفی کا بدوبست کریں۔ جو ”فریادی“ سینٹ کا چیئرمین منتخب نہ کرواپائے وہ پارلیمان کو حافظ سعید صاحب کی Mainstreamingکے لئے کیسے استعمال کرسکتا ہے۔ یہ ”فریضہ“ کسی اور ہی کو سرانجام دینا ہوگا۔ کیسے؟ اس کا انتظار کرنا ہوگا۔
(بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker