حسنین جمالکالملکھاری

مائنس ون اور موروثی سیاست : جمال گفت / حسنین جمال

عبداللہ ملک ایک صاحب طرز لکھنے والے تھے۔ پنجاب کی سیاسی تحریکیں، ایک کمیونسٹ کا سفرنامۂ حج اور بہت سی دوسری مشہور کتابیں لکھیں۔ ان کی تحریروں میں ایک جملہ اکثر نظر آتا تھا، ”لطف کی بات تو یہ ہے‘‘۔ اب چاہے کوئی لطف کی بات ہو یا کوئی بری ترین خبر ہو اس کا آغاز غیر ارادی طور پہ اسی جملے سے ہو جاتا تھا۔
ابھی اپنی طرف لطف کی بات یہ ہے کہ جو بیانیہ افواہ کے طور پہ امپورٹ ہوتا ہے دس پندرہ سال بعد مڑ کے دیکھیں تو نظر آتا ہے کہ یار بات تو ٹھیک تھی‘ لیکن اس وقت اتنی ناقابل یقین ہوا کرتی تھی کہ ہم لوگ اسے افواہ سمجھ بیٹھتے تھے۔ مثال کے طور پہ قریب ترین اصطلاح ”مائنس ون فارمولا‘‘ کی بات کر لیجیے۔ بے نظیر بھٹو کے قتل ہونے سے پہلے اگر مائنس ون کا ذکر ہوتا بھی تھا تو دور دور تک اس کے آثار دکھائی نہیں دیتے تھے۔ یقین کرنا تو دور کسی بھی پارٹی کے سرگرم ترین اور اندرونی بھیدیوں سے واقفیت رکھنے والے کارکن بھی ایسا نہیں سوچ سکتے تھے۔ اب مڑ کے دیکھا جائے تو سمجھ آتا ہے کہ در حقیقت مشرف دور میں ہی مائنس ون کی پنیری کاشت ہو چکی تھی۔
ہمارے سامنے تین بڑی پارٹیاں تھیں۔ سب سے پہلے پیپلز پارٹی میں مائنس ون ہوا اور ایسے بے رحمانہ طریقے سے ہوا کہ آج بھی سوچ کے آنکھ اشک بار ہو جاتی ہے۔ اس مائنس ون کے بعد سب نے دیکھ لیا کہ روایتی پیپلز پارٹی کا دم خم نکل گیا‘ اور جماعت کی ساری سیاست اس حد تک انجینئرنگ پہ یقین رکھنے لگی کہ پہلے سب کے سب سینیٹ میں ایک آزاد امیدوار کے پیچھے کھڑے ہوئے‘ اور اب تازہ ترین خبروں کے مطابق آصف علی زرداری تیر کے نشان کو بھی انتخابی مہم میں قربان کرنے پہ آمادہ ہو چکے ہیں۔ ان کے خیال میں دوسری جماعتوں سے الحاق کے نتیجے میں اگر تیر کا روایتی نشان کھونا بھی پڑتا ہے‘ تو کوئی بڑی بات نہیں، انہیں اس ایڈجسٹمنٹ میں زیادہ سیٹیں نظر آ رہی ہیں۔ بلاول چونکہ ابھی نوجوان ہیں تو وہ اس بات کی مسلسل مخالفت کر رہے ہیں۔
ایم کیو ایم اپنے زمانے میں اس عروج پہ تھی کہ اگر اس میں مائنس ون کا ذکر بھی کیا جاتا تھا تو ہر کالم نویس ”اُن‘‘ کا نام تک لینے سے ڈرتا تھا۔ اس کا بھی مائنس ون ہم نے دیکھ لیا۔ پہلے مصطفی کمال آگے آئے، پھر فاروق ستار نے علیحدہ ہونے کا اعلان کیا، پھر کامران ٹیسوری والا معاملہ اٹھا‘ اور اب یہ صورتحال ہے کہ خود ایم کیو ایم کے ووٹر کو سمجھ نہیں آتا کہ اتنے سال ایک ہی بانسری کی لے پہ سر دھننے کے بعد جائیں تو جائیں کہاں، ”مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا!‘‘۔
نون لیگ کا مائنس ون اس وقت ٹیکنیکلی سب سے مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ نواز شریف نظریاتی ہونے کا اعلان کر چکے ہیں۔ نظریہ کیا ہے کہ ووٹ کو عزت دی جائے۔ اس سب کے باوجود سوال یہ ہے کہ اگر وہ تاحیات الیکشن لڑنے کی پابندی کا شکار ہو جاتے ہیں‘ تو کیا ان کے یہ نظریات نواز لیگ آگے لے کر چلے گی؟ اس کا جواب ہمیں شہباز شریف اور چوہدری نثار کی حالیہ ملاقات سے باآسانی مل سکتا ہے‘ جس کے بعد ایک گول مول سا بیان سامنے آتا ہے کہ چوہدری صاحب بدستور نواز لیگ کے رکن ہیں۔ نواز شریف نے جن بنیادوں پہ نظریاتی ہونے کی بات کی ہے وہ جمہوری اثاثہ پوری ن لیگ میں صرف مریم نواز تھامے ہوئے نظر آتی ہیں۔ باقیوں کے لیے ان نظریات کی کچھ اہمیت ہے یا نہیں‘ الیکشن کے نزدیک بات مزید کلئیر ہو جائے گی۔ فی الوقت زمینی صورتحال یہ ہے کہ باوجود عدلیہ کا واضح حکم موجود ہونے کے، پنجاب حکومت کے لیے خادم رضوی لاپتہ اور مفرور ہیں‘ جبکہ تصویروں میں انہیں داتا دربار کے باہر بیٹھے دیکھا جا سکتا ہے۔ مائنس ون کے بعد اسے مائنس ٹو سے بچنے کی ایک کوشش کہا جائے یا کوئی اور وجہ کہہ لیں، بات وہی ہے کہ اگر ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے پھسلن دو قدم پیچھے لے جا رہی ہو تو خاموش کھڑے ہو کر زمین سوکھنے کا انتظار کرنے میں ہی عافیت ہے۔
اگلا مائنس ون کرنے کے لیے دیکھا جائے تو اس وقت صرف تحریک انصاف بچتی ہے۔ ایک بالکل چھوٹی سی خبر دو تین دن پہلے آئی کہ لاہور میں عمران خان کو سکیورٹی خدشات لاحق ہو سکتے ہیں۔ دیکھیے بعض خبریں بظاہر چھوٹی ہوتی ہیں لیکن ان کا امپیکٹ اور کینوس بہت بڑا ہوتا ہے۔ یہی خبر اس کے ایک دن بعد نواز شریف، شہباز شریف اور مریم نواز کے حوالے سے بھی اخباروں میں آ گئی۔ اب نواز شریف کو زیادہ نقصان پہنچنے کا خدشہ اس لیے نہیں کہ وہ عملی طور پہ فی الحال میدان سیاست سے باہر ہیں، جو مرضی بیان بازی کرتے رہیں باقی پارٹی قیادت اپنی طے شدہ لائن پہ چل رہی ہے۔ پوری پاکستانی سیاست میں بھی چونکہ باقی سب فی الحال طے شدہ لائن پہ ہیں اس لیے حقیقی خطرہ اسے ہو سکتا ہے جو مستقبل میں طے شدہ لائن پہ چلنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو یا اس کی پرسنیلٹی میں غیر یقینی کیفیت پائی جاتی ہو۔ اس کوالیفکیشن پہ دو لوگ پورے اترتے ہیں۔ مریم نواز ہیں جو آئندہ سیاست میں کوئی فعال کردار ادا کرتے ہوئے لائن سے ہٹ سکتی ہیں یا عمران خان ہیں۔ عمران خان اس لیے کہ وہ ان پریڈیکٹیبل ہیں۔ وہ کس وقت کیا فیصلہ کر لیں اور اس پہ ڈٹ جائیں، اس کا عملی مظاہرہ کئی مرتبہ دیکھنے والے دیکھ چکے ہیں۔
مریم نواز کو بھی سکیورٹی خدشات والی اس لسٹ سے فی الحال اس لیے نکالا جا سکتا ہے کہ خدانخواستہ کچھ ہونے پہ باقی نواز لیگ کو ہینڈل کرنا ایک طویل عرصے کے لیے چیلنج بن جائے گا اور وہ مائنس ون کی لسٹ میں فی الحال تھوڑا نیچے بھی ہیں۔ لے دے کے عمران خان بچتے ہیں جنہیں اس وقت شدید احتیاط کی ضرورت ہے۔ وہ ہر حوالے سے شدید پُر اعتماد ہیں۔ وہ عدلیہ اور اداروں کی تہہ دل سے عزت کرتے ہیں۔ وہ سینیٹ الیکشنوں کے شفاف ہونے پہ اس قدر کامل یقین رکھتے ہیں کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف بھی الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر چکے ہیں کہ انہوں نے ووٹوں کی خرید و فروخت کا ذکر کیا بھی تو کیسے کیا؟ مولانا سمیع الحق کی یونیورسٹی (پرویز خٹک صاحب کے الفاظ میں) کو فنڈز دینے کے بعد وہ ان قوتوں کے بھی نزدیک شمار کیے جاتے ہیں تو سوال یہ ہے کہ انہیں کسی سے بھی کوئی خطرہ کیسے ہو سکتا ہے؟ اس کا سادہ ترین جواب یہ ہے کہ بے نظیر بھٹو کو کسی سے کیا خطرہ تھا؟ کیا آج تک ہم یہ جان پائے کہ اس حادثے کے پیچھے کون تھا؟ خدا سب کو اپنی امان میں رکھے۔ آمین۔ عمران خان کو اب اپنے صاحب زادوں کو بھی میدان سیاست میں لانے کی فکر کرنی چاہئے۔ باوجود موروثی سیاست سے مکمل انکار کرنے کے، ان کے پاس قابل اعتبار ساتھی کوئی نہیں ہے۔ ایم کیو ایم، پیپلز پارٹی اور نواز لیگ، تینوں کے مائنس ون میں یہ چیز نوٹ کرنے والی ہے کہ جہاں موروثی سیاست موجود تھی وہ جماعت مائنس ون کا جھٹکا سہہ گئی، جہاں ایسا کوئی کونسیپٹ نہیں تھا وہاں اب پارٹی کے اتنے چھوٹے ٹکڑے ہو چکے ہیں کہ بہادر آباد کی بھی ایک الگ ایم کیو ایم ہے۔ نامِ خدا سلیمان خان اکیس برس کے ہیں، قاسم خان کی عمر اٹھارہ برس ہے، اگر اگلے ایک دو برس میں وہ دونوں تحریک انصاف میں شامل ہوتے ہیں تو پانچ چھ سال میں ان کی اتنی تربیت ہو جائے گی کہ پارٹی کو سنبھال سکیں۔ ایسا اس لیے بھی ضروری ہے کہ اگلے الیکشن کے بعد تحریک انصاف میں بہت سی نظریاتی اور فکری تبدیلیاں آتی نظر آ رہی ہیں۔ تو سب سے بڑی لطف کی بات یہ ہے کہ تاریخ ہمارے سامنے لکھی جا رہی ہوتی ہے اور ہم اس سے کچھ سبق نہیں سیکھتے۔ بے نظیر بھٹو کو جب تھریٹ الرٹ ملا تھا اس وقت کون اس پہ یقین کرنے کو تیار تھا؟
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker