عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

پیرزادگی اور مشرک کتے: روزن دیوار سے / عطا ء الحق قاسمی

اللہ جانے وہ کون سے لوگ ہیں جنہیں کتے اچھے نہیں لگتے مجھے تو یہ مخلوق بہت اچھی لگتی ہے ۔رات گئے گھر لوٹتے ہوئے جب گلیاں اور کوچے ویران ہوتے ہیں سب لوگ اپنے گھروں میں سو رہے ہوتے ہیں اور ہر طرف سناٹوں کا راج ہوتا ہے اور یوں ماحول کے زیر اثر موٹر سائیکل پر سوار ہونے کے باوجود آنکھوں میں نیند تیرنے لگتی ہے تو اچانک کسی دکان کے پھٹے کے نیچے سے کوئی مریل سا کتا برآمد ہوتا ہے اور عف عف کرتا ہوا موٹر سائیکل کے ساتھ ساتھ بھاگنے لگتا ہے وہ دراصل اظہار عقیدت کے لئے میری قدم بوسی کی سعادت حاصل کرنا چاہتا ہے چنانچہ وہ بار بار اپنا منہ میرے ٹخنے کی طرف لاتا ہے۔ لیکن جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے خود میرے اپنے دل میں کتوں کے لئے محبت کے اتھاہ جذبات موجود ہیں لہٰذا ان لمحوں میں، میں موٹر سائیکل کی رفتار ذرا تیز کر دیتا ہوں تاکہ میری قدم بوسی کے شوق میں کہیں اس کا منہ موٹر سائیکل کے گرم گرم سائلنسر سے ناچھو جائے لیکن کئی کتے وفورعقیدت میں گرم سائلنسر کی بھی پروا نہیں کرتے اور ٹخنوں کے بالکل قریب پہنچ جاتے ہیں ان لمحوں میں ،میں خوف خدا کے باعث اپنی ٹانگ اوپر اٹھا لیتا ہوں کہ اس معاملے میں میں کڑا وہابی واقع ہوا ہوں اور قدم بوسی والے اس اقدام سے مجھے شرک کی بو آتی ہے اور میں تو ویسے ہی بہت گنہگار آدمی ہوں کتوں کے اس اظہار عقیدت سے مجھے خاصی ندامت محسوس ہوتی ہے بلکہ ان لمحوں میں تو عرق ندامت باقاعدہ میری پیشانی پر دیکھا جا سکتا ہے ،اللہ جانے میری پیرزادگی کی بابت کس بدبخت نے انہیں بتایا کیونکہ میں نے تو اسی بنا پر ایک عرصے سے اپنے نام کے ساتھ ’’پیرزادہ‘‘ لکھنا چھوڑ دیا ہے بہرحال کتے مجھے اس لئے اچھے لگتے ہیں کہ یہ سوئے ہوؤں کو بیدار کرتے ہیں۔سونے میں کوئی قباحت نہیں مگر موٹر سائیکل چلاتے ہوئے سونے میں کچھ قباحتیں ہیں جن میں ایک قباحت یہ بھی ہے کہ انسان کو دوبارہ بیدار ہونے کا موقع بہت کم ملتا ہے ۔
ویسے کتوں سے محبت کے دعویداروں میں ایک ہم ہی نہیں اہل مغرب بھی ہیں مغرب میں تو بسااوقات انسانوں پر کتوں کو ترجیح دی جاتی ہے تاہم مشرق میں ایسا نہیں کیونکہ یہاں تو ہم ایسے انسانوں کو بھی کتوں پر فوقیت حاصل ہے ۔مغرب میں ہم نے دیکھا ہے کہ کتے وی آئی پیز کی طرح ٹریٹ ہوتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں اقتدار کے بعد وی آئی پیز کو کتوں کی طرح ٹریٹ کیا جاتا ہے۔ اہل مغرب کو تو کتوں کے ساتھ اس درجہ رغبت ہے کہ اگر شوہر اور کتے میں سے کسی ایک کو ترجیح دینے کا موقع آجائے تو بیوی کتے کو ترجیح دیتی ہے ۔جبکہ ہمارے ہاں اس قسم کی صورتحال میں بہرحال شوہر کو غنیمت سمجھا جاتا ہے۔ امریکہ میں ایک بی بی نے جو میرے ہمسائے میں رہتی تھی اپنے شوہر سے طلاق لے لی کیونکہ وہ آتے جاتے کتے کو جھڑکتا تھا ۔یہ بی بی طلاق کے بعد بہت خوشی تھی کہتی تھی اس روز سے سکھ کی نیند سو رہی ہوں کیونکہ ’’ٹونی ‘‘ سوتے میں خراٹے تو نہیں لیتا!
خیر ان سطور میں مغرب اور مشرق میں موازنہ مقصود نہیں کیونکہ وہ جو کہا جاتا ہے کہ مغرب مغرب ہے اور مشرق مشرق ، یہ نہ کبھی ملے ہیں اور نہ کبھی ملیں گے ۔تو اس کی بنیادی وجہ کتوں کے سلسلےمیں ان علاقوں کے باسیوں کی متضاد پالیسی ہے ۔چنانچہ ہمیں اگر کتے پسند ہیں تو یہ ہمارا انفرادی مسئلہ ہے اس پسند کی ایک وجہ تو ہم شروع میں بتا چکے ہیں ۔دوسری وجہ یہ ہے کہ کتے سوشل بہت ہوتے ہیں ان میں وسیع القلبی بھی بہت ہوتی ہے ان میں نا تو کوئی محبوب ہوتا ہے اور نہ کوئی رقیب، بس سارے کتے ہوتے ہیں ۔کتوں کی جو ایک چیز مجھے مزید پسند ہے وہ ان میں خوشامد اور چاپلوسی کا جوہر ہے ۔جس کتے کو ہڈی ڈال دیں وہ دم ہلانے لگتا ہے پاؤں چاٹنے لگتا ہے اور جتنا چاہے ذلیل کریں وہ ذلیل نہیں ہوتا اسے اپنی عزت افزائی ہی سمجھتا ہے کتے ہمیں اس لئے بھی پسند ہیں کہ ان میں علاقائی تعصب بہت ہوتا ہے وہ کسی اجنبی کو برداشت نہیں کرتے اسے اپنے علاقے میں دیکھ کر بھونکنا شروع کر دیتے ہیں اور ہمیں ان کا یہ علاقائی تعصب ہی پسند ہے۔ کیونکہ ہم انسان ہوتے ہوئے بھی پٹھان، بلوچی، سندھی اور پنجابی ضرور ہیں مگر سب سے پہلے پاکستانی ہیں۔ کتے ان چکروں میں نہیں پڑتے وہ کسی اجنبی کو دیکھ کر سیدھا اس کی ٹانگوں کو پڑتے ہیں چونکہ میرا یہ کالم ان کی نظروں سے نہیں گزرے گا چنانچہ ان کی تعریف کرنا تو سوئے ہوئے بچے کا منہ چومنا ہے جس سے نہ بچہ خوش ہوتا ہے نہ بچے کی ماں خوش ہوتی ہے ۔یوں بھی کتوں کے اس قصیدے سے ہم لوگوں کے وہ جذبات ختم نہیں ہو سکتے جو ہم کتوں کے لئے اپنے دلوں میں رکھتے ہیں۔ایک دوست جن کے گھر میں رحمت کا فرشتہ ایک عرصے سے داخل نہیں ہوا ان دنوں اپنے کتے کو گھر سے نکالنے کی سوچ رہے ہیں کیونکہ انہوں نےسنا ہے کہ جس گھر میں کتا ہو وہاں رحمت کا فرشتہ داخل نہیں ہوتا۔میں نے اپنے دوست کے اس فیصلے پر صادکیا اور کہا ’’تم نے ٹھیک فیصلہ کیا ہے کتے کو واقعی گھر سے نکال دینا چاہئے کہ گھر میں ایک نجس چیز کا وجود مناسب نہیں لیکن اگر اس کے باوجود تمہارے گھر میں برکتوں کا نزول نہ ہو تو تجرباتی طور پر تین چار ماہ کے لئے تم خود مری وغیرہ چلے جانا اس سے تمہاری صحت بہتر ہو جائے گی اور شاید تمہارے گھر رحمت کا فرشتہ بھی آ جائے !‘‘
اور آخر میں ایک راز کی بات یہ جو ان دنوں میں موٹر سائیکل پر نہیں بلکہ کار میں سوار نظر آتا ہوں تو اس کی وجہ کتوں کی مجھ سے حد درجہ عقیدت تھی جو چلتی موٹر سائیکل پر میرے پاؤں چومنے سے باز نہیں آتے تھے اور مجھے یہ منظور نہیں تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ کو تمام گناہوں میں سے شرک سب سے زیادہ ناپسند ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker