Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
جمعہ, جون 12, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • مری حادثہ: والدہ، اہلیہ اورپانچ بچے مجھے تنہا چھوڑ گئے ۔۔ سوتری وٹ ملتان کا کاشف علی غم سے نڈھال
  • مظفر آباد میں پاک فوج کے ہیلی کاپٹر حادثے میں 20 شہادتوں کی تصدیق
  • آزاد کشمیر میں ہڑتال اور بداعتمادی کی فضا : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • مری حادثہ، ملتان سوگوار : ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے 10 افراد کی میتیں ناقابلِ شناخت
  • ڈاکٹر علی شاذف : زمانے کی دھول میں چھپا سچ : محمد عمران کا کتاب کالم
  • رات گئے شدید حملوں کے بعد ایران کے خلاف امریکی جوابی کارروائیاں ختم
  • کوئٹہ : سرکاری ملازم نے مبینہ طور پر بیوی اور چار بچوں کو قتل کرکے خودکشی کر لی
  • ڈکار مینیجمنٹ فورس اور بریتھ ریگولیشن اتھارٹی :شہزاد عمران خان کا کالم
  • پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا لانگ مار چ شروع
  • جنگ کے دو متوالوں کے درمیان پھنسے صدر ٹرمپ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»لکھاری»حامد میر»حامد میر کا کالم : ایک تھا آئین
حامد میر

حامد میر کا کالم : ایک تھا آئین

ایڈیٹرجولائی 21, 202513 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

اسلام آباد کے جناح ایونیو سے ڈی چوک کی طرف جائیں تو سامنے پارلیمنٹ ہاؤس کی خوبصورت عمارت نظر آتی ہے جسکی پیشانی پر لکھا کلمہ طیبہ آپکی توجہ کھینچ لیتا ہے۔ لا الہٰ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ۔ یہ کلمہ اسلام کی بنیاد ہے جس میں اقرار ہے کہ’’ اللّٰہ تعالیٰ کے سواکوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اسکے رسول ہیں‘‘۔ پارلیمنٹ ہاؤس کی پیشانی پرموجود کلمہ طیبہ مجھے آئین پاکستان کا ابتدائیہ یاد دلاتا ہے جو’’ بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم‘‘ سے شروع ہوتا ہے اور جسکی دفعہ 2 کے مطابق اسلام ریاست کا مذہب ہے۔ اسلام اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت اور امن و سلامتی کا نام ہے لیکن میں جب بھی پارلیمنٹ ہاؤس کے مرکزی دروازے سے اندر داخل ہوتا ہوں تو اسکا سنگ بنیاد مجھے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں دھکیل دیتا ہے جوتلخیوں اورتضادات سے بھری ہوئی ہے اور یہ تضادات کم ہونے کی بجائے آج بھی بڑھتے چلے جارہے ہیں۔ پارلیمنٹ ہائوس کے سنگ بنیاد پر لکھا ہے کہ اس عمارت کا افتتاح 14؍اگست 1974ء کو وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو نے کیا تھا۔
ستم ظریفی یہ ہےکہ پارلیمنٹ ہائوس کا سنگ بنیاد تو ایک منتخب وزیراعظم نے رکھا لیکن 28؍مئی 1986ء کو اس عمارت کا افتتاح ایک فوجی ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق نے کیا۔ وہی جنرل ضیاء الحق جس نے پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کیساتھ ملکر ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کے پھندے پر لٹکایا اور پھر کئی سال کے بعد سپریم کورٹ آف پاکستان نے پھانسی کے اس فیصلے پر افسوس کا اظہارکیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جنرل ضیاء الحق نے آئین پاکستان کے خالق وزیراعظم کو تو پھانسی پر لٹکا دیا
bhutto news paper
لیکن پارلیمنٹ ہائوس کی عمارت کا افتتاح خود کیوں کیا؟ محمد خان جونیجو کو تو انہوں نے خود وزیراعظم بنایا تھا۔انہیں پارلیمنٹ ہائوس کی عمارت کا افتتاح کیوں نہ کرنے دیا؟ یہ درست ہے کہ جونیجو کو جنرل ضیاء نے وزیراعظم بنایا تھا لیکن جونیجو کا اصرار تھا کہ مارشل لا ختم کیا جائے ۔ ایک دن انہوں نے پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ مارشل لا اور جمہوریت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ جونیجو کی تقریر کا یہ حصہ پاکستان ٹیلی ویژن نے سنسر کردیا کیونکہ سیکریٹری اطلاعات لیفٹیننٹ جنرل مجیب الرحمان فوجی صدر کی مرضی کے مطابق چلتے تھے۔ جنرل ضیاء الحق نے 1985کی غیرجماعتی قومی اسمبلی سے وعدہ کیا تھا کہ اگر آٹھویں ترمیم منظور کرکے انہیں قومی اسمبلی توڑنے کا اختیار دیدیا جائے تو وہ مارشل لاہٹانے کا اعلان کردیں گے۔ 17؍اکتوبر 1985ء کی صبح پونے چار بجے آٹھویں ترمیم منظور کرلی گئی لیکن جنرل ضیاء نے مارشل لا ہٹانے کا اعلان نہ کیا جس پر جونیجو ناراض ہوگئے۔ آخر کار 25؍دسمبر 1985ء کو جنرل ضیاء نے مارشل لا ہٹانے کا اعلان کردیا۔ اس اعلان کے چند ماہ کے بعد 10اپریل 1986ء کو محترمہ بینظیر بھٹو اپنی جلاوطنی ختم کرکے پاکستان واپس آئیں۔ لاہور میں ان کا فقید المثال استقبال ہوا جسکی وجہ سے جنرل ضیاء شدید سیاسی دبائو میں تھے۔ وہ محترمہ بینظیر بھٹو کو گرفتارکرنا چاہتے تھے لیکن وزیراعظم جونیجو گرفتاری کیخلاف تھے۔ یہی وہ اختلاف تھا جسکی وجہ سے جنرل ضیاء الحق نے جونیجو کو پارلیمنٹ ہائوس کی عمارت کا افتتاح نہیں کرنے دیا اور 28؍مئی 1986ء کو خود ہی افتتاح کرنے پہنچ گئے تاکہ یہ بتا سکیں کہ مارشل لا تو ختم ہوگیا لیکن پارلیمنٹ ہائوس پر جنرل ضیاء کا قبضہ برقرار ہے۔
عدم تحفظ کےشکار جنرل ضیاء نے کچھ عرصے بعد کرپشن کے الزامات لگا کر محمد خان جونیجو کی حکومت کو برطرف کردیا۔ جس قومی اسمبلی نے آٹھویں ترمیم کے تحت صدر کو اسمبلی توڑنے کا اختیاردیا جنرل ضیاء نےاسی اسمبلی کو توڑ ڈالا۔ یہ سیاستدانوں کیلئے ایک سبق تھا کہ غیر جمہوری قوتوں کی خوشنودی کیلئے آئین میں ترامیم منظور کرنا دراصل اپنے پائوں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہوتا ہے لیکن افسوس کہ سیاستدانوں نے کوئی سبق حاصل نہیں کیا جنرل ضیاء توچلا گیا لیکن اس کے اختیار کو کبھی صدر غلام اسحاق خان اور کبھی صدر فاروق لغاری نے استعمال کیا۔ دونوںنے نواز شریف اور محترمہ بینظیر بھٹو کی حکومتوں کو برطرف کیا۔ 1997ء میں تیرہویں ترمیم کے ذریعے نواز شریف اور محترمہ بینظیر بھٹو نے صدر کا اسمبلی توڑنے کا اختیارختم کیا اور پھر 2010 میں اٹھارہویں تر میم کے ذریعے پارلیمانی نظام حکومت کو بحال کرنے کی کوشش کی گئی۔ پہلے صدر صاحبان اسمبلیاں توڑا کرتے تھے لیکن 2022میں وزیراعظم عمران خان نے تحریک عدم اعتماد سے بچنے کیلئے قومی اسمبلی توڑ دی جسے سپریم کورٹ نے فوری طور پر بحال کردیا۔ 2024 میں 26ویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کی ساخت اور کردار بھی بدل چکا ہے۔ قومی اسمبلی کی پریس گیلری میں بیٹھ کر جب میں حکومت اور اپوزیشن کو ایک دوسرے پر الزامات لگاتے اور بعض اوقات گالی گلوچ کرتے دیکھتا ہوں تو میری نظریں قومی اسمبلی کی چھت کی طرف اٹھ جاتی ہیں جس پر اللہ تعالیٰ کے نام آویزاں ہیں۔ اراکین پارلیمنٹ جو حلف اٹھاتے ہیں وہ حلف پارلیمنٹ میں انکے کردار سے مطابقت نہیں رکھتا۔ پارلیمنٹ ہائوس کی پیشانی پرکلمہ طیبہ اور قومی اسمبلی کے ایوان کی چھت پراللہ تعالیٰ کے نام صرف حکومت نہیں بلکہ تمام اراکین پارلیمنٹ پرایک بڑی ذمہ داری عائد کردیتے ہیں ۔ انہیں کلمہ طیبہ کے احترام میں صرف کلمہ حق کہناہے۔انہیں دین اسلام کی تعلیمات کے مطابق اللّٰہ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہیں ڈرنا اور اپنے ذاتی مفاد کو عوامی مفاد پر قربان کرنا ہے۔ پاکستان کے تمام اہم اداروں میں جو حلف لیا جاتا ہے وہ آئین پاکستان میں لکھا ہوا ہے۔ ہر حلف آئین پاکستان کے مطابق لیا جاتا ہے۔ ایفائے عہد اسلام کی اہم تعلیمات میں سے ایک ہے۔ قرآن مجید کی سورہ بنی اسرائیل میں حکم ہے کہ اور عہد کی پابندی کرتے رہو بے شک عہد کے بارے میں باز پرس ہوگی۔ سورہ المائدہ میں کہا گیا کہ ’’اے ایمان والو! (اپنے) عہدوں کو پورا کرو‘‘۔ اب ذرا اپنےدل پر ہاتھ رکھیں اور سوچیں کہ آپ اور میرے سمیت اس ملک کا حکمران طبقہ ایک دوسرے سے جووعدے کرتا ہے اور حلف اٹھاتا ہے اس پرکتنا عمل کرتا ہے؟ قول و فعل کے تضاد اور عہد شکنی کیوجہ سے وہ آئین پاکستان غیر موثر ہوچکا ہے جس میں اسلام کو ریاست کا مذہب قرار دیا گیا۔
وہ پارلیمنٹ بھی بے توقیر ہوچکی ہے جسکی پیشانی پر کلمہ طیبہ آویزاں ہے۔ جمہوریت کا حال وہی ہے جو اسلام آباد کے ڈی چوک میں نظر آتا ہے۔ ڈی چوک کا اصل نام ڈیموکریسی چوک ہے کیونکہ یہاں پر یوم پاکستان کی پریڈ ہوا کرتی تھی۔ پھر ڈیموکریسی کو صرف ڈی تک محدود کردیا گیا اور آج ڈی چوک میں خاردار تاریں اور جنگلے نظر آتے ہیں۔ آئین،پارلیمنٹ اور جمہوریت کو خاردار تاروں سے نجات دلانے کیلئے کلمہ طیبہ کے تقاضوں اور حلف کی اہمیت کو سمجھنا ہوگا۔ آئین پاکستان آج کمزور ضرور ہے لیکن اسکا حلیہ بگاڑنےوالوں کاانجام اچھا نہیں ہوا۔ جنرل ضیاء اورجنرل مشرف کا انجام آپکے سامنے ہے۔ وہ آئین جو 14؍اگست 1973ء کو پاکستان میں نافذ ہوا تھا اسے پھر سے بگاڑ دیا گیا ہے۔ یہ آئین واپس ضرو رآئیگا۔ یہ تاریخ کا فیصلہ ہے جو مجھے دیوار پرلکھا نظر آرہا ہے۔
( بشکریہ : روزنام جنگ )

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

#OnceThereWasAConstitution #HamidMirColumn #PakistaniConstitution #DemocracyInDanger #JudiciaryUnderAttack #PoliticalCrisis #RuleOfLaw #CivilSupremacy #JusticeAndDemocracy #PakistanPolitics ایک_آئین_تھا #حامد_میر_کالم #آئین_پاکستان #جمہوریت_خطرے_میں #عدلیہ_پر_حملہ #سیاسی_بحران #آئین_کی_بالادستی #قانون_کی_حکمرانی #جمہوریت_اور_انصاف #پاکستانی_سیاست
Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleنصرت جاوید کا تجزیہ کینیائی ناول نگار نگوگی وا تھیونگو اور مادری زبان کی اہمیت
Next Article گلِ نوخیز اختر کا آمیانہ کالم
ایڈیٹر
  • Website

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • مری حادثہ: والدہ، اہلیہ اورپانچ بچے مجھے تنہا چھوڑ گئے ۔۔ سوتری وٹ ملتان کا کاشف علی غم سے نڈھال جون 12, 2026
  • مظفر آباد میں پاک فوج کے ہیلی کاپٹر حادثے میں 20 شہادتوں کی تصدیق جون 11, 2026
  • آزاد کشمیر میں ہڑتال اور بداعتمادی کی فضا : سید مجاہد علی کا تجزیہ جون 11, 2026
  • مری حادثہ، ملتان سوگوار : ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے 10 افراد کی میتیں ناقابلِ شناخت جون 10, 2026
  • ڈاکٹر علی شاذف : زمانے کی دھول میں چھپا سچ : محمد عمران کا کتاب کالم جون 10, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.