اب بھی دنیا میں جن چند لوگوں سے پاکستان کا تعارف ہوتا ہے ان میں عمران خان شامل ہیں۔ان کا بنیادی حوالہ تو کھیل کا میدان تھا۔ اس میدان میں ان کا کردار،عزم،اصول پسندی اور شخصیت کا حسن ایک رومانس بن کر سامنے آ یا اور اسے پاکستان کے "ہیرو”کے طور پر لیا جانا لگا تو ذہن سازی اور استعمال کرنے والی قوتوں نے اسے "سیاست”کی پرخار وادی میں اتار دیا۔
ضروری نہیں ہوتا کہ ہر "ہیرو”سیاست دان بھی ہو،وہ کسی ریاست کی حکمرانی بھی کر سکے،سیاست اور حکمرانی کرنے والے لوگ ایک اور طرح کا شعور رکھے والے ہوتے ہیں،محض مقبولیت اور ہردلعزیزی حکمرانی کرنے کی قابلیت نہیں ہوتی اس کے لیے کچھ اور بھی ضروری ہوتا ھے جو جناب عمران خان کے پاس بوجوہ نہیں تھا اور نہ ہے ۔حکومت ملی بھی تو کسی "حوالہ” سے ملی اور جو حکمرانی کا وقت ملا وہ بھی اسی "حوالہ” سے بسر ہوا۔ایک پپٹ کے طور پر اقتدار کو چلانا کہاں کا تدبر تھا۔کسی بھی بحران یا تکلیف دہ واقعہ کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا، کون حکومتیں غیر مستحکم کرتا ہے اور کون سیاست میں مداخلت کر کے جمہوری ٹرین کو ڈی ریل کر دیتا ہے ؟اتنی سی سمجھ بھی نہ آ ئی۔گذشتہ حاضر میتوں سے سبق نہ سیکھا اور ڈگڈگی بجانے والے مداریوں کی ڈگڈگی کی لے پر ناچنا کہاں کی عقل مندی تھی۔
بہترین موقع وہ تھا جب "عدم اعتماد”کا واقعہ ہوا اور عدم اعتماد کرانے والوں کے چہرے بھی عیاں ہوگئے تو اس وقت اپنے گولیگ(سیاست دانوں )کی جانب لوٹ جاتے اور برملا کہتے کہ جو المیے آ پ کے ساتھ ہوئے تھے وہی المیہ آ ج اس کے ساتھ ہو گیا ہے ، ھم سب کا دشمن ایک ہی ہے۔میں آ پ کے ساتھ ہوں آ ئیں مل کر غیر جمہوری قوتوں کے خلاف مزاحمت کریں،پارلیمنٹ کو مضبوط کریں اور عوام کو ریلیف ڈلیور کریں۔پر آ پ نے کیا کیا اسمبلیوں کو خیرباد کہا اور اپنے ہی کولیگ کو "چور ڈاکو”کہنے والی روایت کو برقرار رکھا۔یہ بھی نہ سمجھا کہ جنھوں نے آ پ کے منہ سے سیاست دانوں کو برابھلا کہلوانا تھا وہ کہلوا کر اپنے مقاصد پورے کرکے آپ کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں،آ پ نے استعمال ہونا تھا اور آ پ استعمال ہو لیے۔
اب وہ وقت بیت گیا ہے ۔ہر وقت کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں۔عقل مندی اس میں ہوتی ہے کہ انسان روحِ عصر کو سمجھے اور نئی راہوں اور نئی منزلوں کی تلاش میں نکلے۔تاریخ عالم گواہ ہے کہ ہاتھیوں کی لڑائی میں گھاس ہی روندا جاتا ہے،کمزور ہمیشہ نقصان ہی میں رہتا ہے ۔آ پ جن سے لڑ رہے ہیں اور لڑائی کا انداز بھی احمقانہ ہے اس میں نقصان بہت ہو چکا اور آنے والے دن بھی آ پ کے لیے اچھے نہیں ہیں،آپ اپنے تمام آپشنز ایک ایک کر کے گنوا بیٹھے ہیں۔آپ سے آ پ کی پارٹی کا نشان چھینا گیا،الیکشن کے نتائج آ پ کے خلاف سامنے آئے،آ پ کے جو امیدوار جیتے وہ آ پ نے ایک لایعنی سا فیصلہ کرتے ہوئے ایک مولوی کے حوالے کر دیے۔جبکہ اسمبلی میں موجود بڑی پارٹیاں بھی تھیں ان میں سے کسی پارٹی کے حوالے ان ممبران کو کر دیتے ،بے شک یہ سپردگی مشروط ہوتی،کوئی چینل تو بناتے ۔الیکشن مہم کے دوران میں بلاول بھٹو نے بارہا یہ کہا کہ ہم اقتدار میں آ ئے تو سب سے پہلے سیاسی قیدیوں کو رہا کریں گے یہ مفاہمت کا ایک اشارہ تھا جو آ پ کی سمجھ میں نہ آ یا پر آ پ تو "،چور ڈاکو” کی رٹ سے نیچے آئے ہی نہیں۔کچھ بھی ہو جائے آ پ کے ریسکو کے لیے سیاست دانوں نے ہی آ ناہے ۔اگرچہ پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکا ہے ۔لیکن آ پ کو کوئی راستہ نکالنا ہوگا۔سیاست دان ضدی اور ڈھیٹ نہیں ہوتے وہ مفاہمت کی راہیں نکالتے رہتے ہیں۔ہمارے اچھے دوست ہمارے کولیگ ہی ہوتے ہیں۔آ پ جس گرداب میں پھنس چکے ہیں اس سے آ پ کو سیاست آ زاد کرائے گی۔آ پ اصولی موقف پر مقید نہیں ہیں ذاتی دشمنی اور ریاست مخالف بیانیے میں مقید ہیں،ایسے جرائم میں لمبی جیلیں یا تختہ دار مقدر ہوتا ہے ،اگر اس طرح کی سزا ملی تو یہ آ پ کو تاریخ میں "ہیرو” کا منصب نہیں دے گی۔سوفٹ رویہ اختیار کیجیے اور اس گرداب سے نکلیے۔اس وقت آ پ کے پاس فقط یہی ایک آ پشن بچا ہے ۔

