چمن : ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) چمن حمید زہری کا کہنا ہے کہ پاک ۔ افغان سرحد پر فائرنگ کے تبادلے میں ایک شخص ہلاک اور 12 افراد زخمی ہوگئے۔
بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں حالات ایک بار پھر کشیدہ ہو گئے ہیں جہاں افغانستان کی حدود سے فائرنگ ہوئی ہے۔حمید زہری نے اپنے مختصر بیان میں فائرنگ کے تبادلے میں ایک شخص کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ واقعے میں 12 افراد زخمی بھی ہوئے۔
قبل ازیں محکمہ صحت بلوچستان کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر وسیم بیگ نے فائرنگ کے مختلف واقعات میں 8 افراد کے زخمی ہونے کا بتایا تھا۔ڈاکٹر وسیم بیگ کا کہنا تھا کہ زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز چمن منتقل کیا گیا ہے۔حکام کے مطابق چمن میں کشیدہ حالات کے بعد کوئٹہ کے ہسپتالوں میں بھی ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر کوئٹہ کے سول ہسپتال، بی ایم سی ہسپتال اور ٹراما سینٹر میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔سیکریٹری صحت کے مطابق تمام طبی عملہ، ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو ہسپتالوں میں طلب کر لیا گیا ہے جبکہ ڈاکٹرز، طبی عملہ اور ادویات چمن کے لیے بھی روانہ کردی گئی ہیں۔
وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیااللہ لانگو نے پاکستانی شہریوں پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی۔انہوں نے ضلعی انتظامیہ کو واقعے میں زخمی ہونے والوں کو تمام طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
میر ضیااللہ لانگو نے ضلع بھر کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے واقعات کا دوربارہ ہونا امن دشمنی ہے، لہٰذا پاک فوج اپنے بارڈر کا دفاع کرنا جانتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ پالیسی پر یقین رکھتے ہیں، امن کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے، ہماری فورسز اپنی سرحد کا دفاع کرنا جانتی ہیں۔
خیال رہے کہ 11 دسمبر کو افغان بارڈر فورسز نے بلوچستان کے ضلع چمن میں شہری آبادی پر توپ خانے/مارٹر سمیت بھاری ہتھیاروں سے بلااشتعال اور اندھا دھند فائرنگ و گولہ باری کی تھی جس کے نتیجے میں 6 شہری جاں بحق اور 17 افراد زخمی ہوئے تھے۔
( ڈان نیوز )
فیس بک کمینٹ

