حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان ایک ایسے وقت میں غیر متوقع اور نامناسب ہے جبکہ ملکی زر مبادلہ کے ذخائر تیزی سے کم ہورہے ہیں اور بیرونی قرضے ادا کرنے کے لئے وسائل دستیاب نہیں ہیں۔ آئی ایم ایف کے ساتھ نویں ری ویو کا معاملہ بدستور تعطل کا شکار ہے۔ ایسے موقع پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی مزید الجھنیں پیدا کرسکتی ہے۔ پاکستان کو اس وقت آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والے معاہدہ کے تحت سو ا ارب ڈالر پر مشتمل قسط کی اشد ضرورت ہے تاکہ وہ ڈیفالٹ کے فوری خطرہ سے باہر نکل سکے۔
وزیر خزانہ اسحاق ڈار اگرچہ کہتے رہے ہیں کہ ملک ڈیفالٹ نہیں کرے گا لیکن وہ یہ بتانے سے بھی قاصر ہیں کہ مطلوبہ ادائیگیوں کے لئے وسائل کہاں سے فراہم کئے جائیں گے۔ ایک معلوم راستہ آئی ایم ایف کی شرائط مان کر قرض وصول کرنے کا موجود ہے لیکن وزیر خزانہ اس عالمی ادارے کے بارے میں کسی حد تک مغرور رویہ اختیار کرتے رہے ہیں اور یہاں تک کہہ چکے ہیں کہ آئی ایم ایف کو راضی رکھنے کے لئے ہم پاکستانی عوام کے مفادات کا سودا نہیں کرسکتے۔ ایسی باتیں پاکستان کے کسی ٹی وی ٹاک شو میں اپنے حامیوں کو مرعوب کرنے کے لئے تو جائز ہوسکتی ہیں لیکن پاکستان ایک ایسی مالی دلدل میں پھنسا ہؤا ہے کہ اس کے پاس عالمی داروں، قرض خواہوں یا وسائل فراہم کرنے والے دوست ممالک کو آنکھیں دکھانے کی گنجائش نہیں ہے۔قومی خود مختاری اور عوامی مفاد ضرور دل نشین اصطلاحات ہیں لیکن ان کا استعمال بھی سوچ سمجھ کر کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان خود آئی ایم ایف کے پاس گیا تھا۔ تحریک انصاف کی حکومت نے طے شدہ معاہدہ میں خلل ڈال کر مسائل پیدا کئے جنہیں شہباز حکومت کے پہلے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کسی حد تک حل کرنے کی کوشش کی اور غیر مقبول سیاسی فیصلے کرتے ہوئے معیشت کو ٹھوس اور قابل عمل بنیاد فراہم کر کی۔ پیٹرول کی مارکیٹ میں مقرررہ شرح اور عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں مطابقت پیدا کرنا اس سلسلہ میں اہم ترین اقدام تھا۔ اس کے علاوہ مفتاح اسماعیل دو ٹوک الفاظ میں کہتے رہے ہیں کہ ملکی درآمدات کو برآمدات کے مساوی لائے بغیر پاکستان کسی طویل المدت معاشی اصلاحی منصوبے پر عمل نہیں کرسکتا۔
پاکستان میں سیاسی مکالمہ کرتے ہوئے یا سطحی معاشی تبصروں میں آئی ایم ایف کو سامراجی عفریت بنا کر پیش کیا جاتا ہے جو کسی بھی غریب ملک کی معیشت کو تباہ کرکے رکھ دیتا ہے۔ حالانکہ عالمی مالیاتی ادارہ اگرچہ اول تو کسی بھی ملک کی طرف سے درخواست وصول کرنے کے بعد ہی مالی امداد کا معاہدہ پیش کرتا ہے۔ اس قسم کے معاہدہ میں آمدنی و اخراجات میں توازن پیدا کرنے کی بنیادی تجویز پیش کی جاتی ہے۔ جو بھی ملک آئی ایم ایف کی اس تجویز سے اتفاق نہ کرتا ہو، اسے طاقت کے زور پر معاہدہ میں شامل ہونے پر مجبور نہیں کیا جاتا۔ اس لئے پاکستانی سیاست میں آئی ایم ایف کو پاکستان کی خود مختاری کا دشمن بنا کر پیش کرنے کی روایت درحقیقت ناکام سیاست دانوں اور ناقص معیشت دانوں کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے شروع کی گئی تھی۔ اس دلیل کو ہر دور میں عوام کو دھوکہ دینے اور اپنی نااہلی پر پردہ ڈالنے کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
حتی کہ عمران خان جو عوامی مفاد کا چیمپئن ہونے کے دعویدار بنے رہتے ہیں اور اقتدار سنبھالنے سے پہلے آئی ایم ایف کے پاس جانے کی بجائے ’خود کشی‘ کرلینے کو ترجیح دینے کے دعوے کیا کرتے تھے ۔ انہیں بھی حکومت سنبھالنے کے چند ماہ بعد ہی سیاسی خود کشی سے بچنے کے لئے محاورتاً خود کشی کے قصد کو خیرباد کہنا پڑا اور آئی ایم ایف کے ساتھ 6 ارب ڈالر کا معاہدہ کرنا پڑا۔ اس معاہدے کو عدم اعتمادسے پیدا ہونے والی غیر معمولی صورت حال میں خود عمران خان نے ہی ترک کردیا اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو منجمد کرکے آئی ایم ایف سے کئے جانے والے معاہدے کی خلاف ورزی کی جس کی وجہ سے اقساط کی ادائیگی روک دی گئی۔ مفتاح اسماعیل نے اس معاہدہ کو بحال کروانے کے علاوہ ایک ارب ڈالر کا اضافہ بھی کروایا۔ لیکن ستمبر میں وزیر خزانہ بننے کے بعد اسحاق ڈار نے مسلسل پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو منجمد رکھنے کی کوشش کی ہے۔ اور اب ان میں کمی کا اعلان کیا گیا ہے۔ حالانکہ یوکرین جنگ کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بدستور غیر یقینی ہیں اور سپلائی میں رخنہ پڑنے کا امکان بھی موجود رہتا ہے۔
ان حالات میں آئی ایم ایف جیسے ادارے کے لئے محض کسی حکومت کی سیاسی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے خالصتاً معاشی اصولوں کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ جس حکومت کے پاس تیل خریدنے کے وسائل نہ ہوں اور وہ سعودی عرب سے معطل ادائیگیوں پر تیل فراہم کرنے کی درخواست کرنے پر مجبور رہتا ہو، وہ قیمت خرید سے کم پر پیٹرول فروخت کرکے ملکی معیشت کو زیر بار کرنے کے سوا کچھ نہیں کرسکتی۔ پاکستان بڑی معیشت ہونے کے باوجود خود اپنا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں ہے کیوں کی پاکستانی عوام کو ٹیکس دینے کی عادت نہیں ہے۔ وہ ملک بچانے کے لئے بھی قومی خزانہ میں حصہ ڈالنے پر آمادہ نہیں۔ اس کی دوسری سادہ سی وجہ یہ ہے کہ ملک کو بحران میں غیر ملکی امداد لینے کا چسکا پڑ چکا ہے۔ لیکن اب نہ تو علاقے میں کوئی جنگ ہورہی ہے جس میں خدمات پیش کرکے امریکہ سے امداد وصول کی جاسکے اور نہ ہی پاکستان تزویراتی لحاظ امریکہ کے لئے سود مند ہے۔ انڈو پیسیفک حکمت عملی میں بھارت ، امریکہ کا حلیف بھی ہے اور اس کے مفادات کا بہتر محافظ بھی ثابت ہوسکتا ہے۔ پاکستان کے تمام معاشی اور اسٹریٹیجک مفادات چین کے ساتھ وابستہ ہیں۔ لیکن ایک تو چین ، امریکہ کے برعکس محض سیاسی یا عسکری تعاون فراہم کرنے کے لئے مالی سہولت فراہم نہیں کرتا ۔ دوسرے پاکستان کی کوئی بھی حکومت ابھی تک چین کے ساتھ تعلقات کی حقیقی اور عملی نوعیت کا تعین کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔ پاکستان ایک طرف امریکہ کی ’گڈ بکس‘ میں رہنا چاہتا ہے تو دوسری طرف مالی، عسکری اور سفارتی لحاظ سے اس کا واحد معاون و مددگار صرف چین ہوسکتا ہے۔ البتہ پاک چین دوستی کو ہمالہ سے اونچی قرار دینے کے باوجود چین کے ساتھ باہمی تعاون کو کسی واضح اور ٹھوس بنیاد پر استوار نہیں کیا جاسکا۔اس کی ایک وجہ پاکستان کے دگرگوں سیاسی حالات ہیں جن میں مسلسل خرابی دیکھی جاسکتی ہے۔ سب سیاست دان قومی مفاد کے محافظ بنے ہوئے ہیں لیکن باہمی چپقلش میں ملکی مفاد کو سب سے زیادہ زیر بار کرنے کا باعث بھی بن رہے ہیں۔ اب فوج کو سیاسی مباحث میں گھسیٹ کر اور سابق آرمی چیف کو غیر ضروری طور سے مورد الزام ٹھہرا کر حالات کو کشیدہ کیا جارہا ہے۔ ان حالات میں اسلام آباد تک محدود وفاقی حکومت کے اختیارات اور امکانات بھی محدود ہیں۔ ان حالات میں سیاسی عناصر ملکی مفاد سب سے پہلے کے اصول پر عمل کرنے کی بجائے’ میرا مفاد سب سے پہلے‘ کے طریقہ کو سلوگن بنائے ہوئے ہیں۔ عمران خان ہفتہ کے روز صوبائی اسمبلیاں توڑنے کی تاریخ کا اعلان کریں گے اور وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کرکے اس قسم کے کسی اقدام کا مقابلہ کرنے کا قصدظاہر کیا ہے۔ حالانکہ اس وقت پاکستان نہ تو کسی بھی قسم کے انتخابات کا متحمل ہوسکتا ہے اور نہ ہی قومی خزانہ پیٹرولیم مصنوعات میں رعایت دینے کا بار اٹھانے کی سکت رکھتا ہے لیکن سیاسی مقابلہ میں قومی ضرورتوں کو سب سے پہلے منڈی میں پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
وفاقی حکومت کے دو وزیروں نے صدر مملکت عارف علوی سے ایک تازہ ملاقات میں اسمبلیاں توڑنے کے سوال پر کسی مفاہمت کے امکان ات کا جائزہ لیا تھا لیکن صدر علوی کوئی سیاسی کردار ادا کرنے کے اہل نہیں ہیں۔ معاملہ اب چوہدری پرویز الہیٰ کو رام کرنے پر رکا ہؤا ہے۔ اسی لئے لاہور میں ملاقاتوں کے سلسلے دراز ہورہے ہیں اور پرویز الہیٰ اسمبلی توڑنے کی سیاسی قیمت وصول کرنے کے لئے سودے بازی کررہے ہیں۔ اس بات چیت میں اگر عمران خان پرویز الہیٰ کی خواہش کے مطابق انہیں صوبائی اسمبلی کی محفوظ نشستوں کی معقول تعداد دینے پر آمادہ ہوگئے تو واقعی اس ماہ کے اندر پنجاب اسمبلی توڑ دی جائے۔ مسلم لیگ (ق) کے پاس اس وقت صوبائی اسمبلی کی دس نشستیں ہیں اور اس نے 180 سیٹوں والی تحریک انصاف کو سیاسی یرغمال بنایا ہؤا ہے۔ کوئی وعدہ کرنے سے پہلے عمران خان اور ان کے سیاسی مشیروں کو سوچنا پڑے گا کہ اگر وہ پرویز الہیٰ کو بیس سے پچیس نشستیں دینے پر تیار ہوگئے تو مستقبل کی کسی بھی اسمبلی میں وہ بہر صورت پرویزالہیٰ کے رحم و کرم پر رہیں گے اور ان کی ہر سیاسی خواہش پوری کرنے کے پابند ہوں گے۔
پیٹرولیم قیمتوں میں کمی درحقیقت مسلم لیگ (ن) کی طرف سے پنجاب میں انتخاب لڑنے کی تیار ی کا اعلان ہے۔ حکومت کی خواہش ہے کہ انتخاب منعقد ہونے کی صورت میں کسی بھی صورت تحریک انصاف کو پچھاڑنے کا اہتمام کرے۔ ملک کے ابتر مالی حالات، زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور گرتی ہوئی ترسیلات زر اس وقت وفاقی حکومت کا مسئلہ دکھائی نہیں دیتا۔ اور عمران خان تو ان حالات کی بنیاد پر شہباز شریف کو ملک دیوالیہ کرنے کا ذمہ دار قرار دیتے ہی ہیں۔ اب دیکھنا ہے کہ اسحاق ڈار آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کے لئے کس دوست ملک کے در پر سوالی بن کر کھڑے ہوتے ہیں اور ان کے کاسہ میں کہاں سے کتنے سکے ڈالے جاتے ہیں۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

