Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
ہفتہ, اپریل 18, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • نیو یارک ٹائمز کی رپورٹر ٹرمپ کے وفد کے ساتھ واپس کیوں نہیں گئیں ؟ نصرت جاوید کا کالم
  • ایک بریکنگ نیوز کی کہانی : حامد میر کا کالم
  • مذاکرات کا دوسرا دور : ہوشمندی اور لچک کی ضرورت سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • دوبارہ مذاکرات ہوئے تو پاکستان میں ہی ہوں گے : وائٹ ہاؤس
  • ایران نے چینی سیٹلائٹ کی مدد سے امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا
  • بات دل میں کہاں سے آتی ہے : ( کچھ باتیں حفیظ ہوشیار پوری کی ) وجاہت مسعود کا کالم
  • ڈونلڈ ٹرمپ: نوبل امن انعام کا خواہاں مگر امن دشمن ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • دو خطوط اور جنگ کا بیانیہ : معصومہ شیرازی کا کالم
  • ایران سے مذاکرات اگلے دو روز میں پاکستان میں ہو سکتے ہیں، فیلڈ مارشل عاصم منیر ’بہت اچھا کام‘ کر رہے ہیں: ٹرمپ
  • ’ اس شہر میں تم جیسے دیوانے ہزاروں ہیں‘ : آشا بھوسلے لاکھوں دیوانوں کو اداس کر گئیں
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»کالم»محمد حنیف کا کالم: اُمتِ مسلمہ کی کانپتی ٹانگیں
کالم

محمد حنیف کا کالم: اُمتِ مسلمہ کی کانپتی ٹانگیں

ایڈیٹرمئی 17, 20210 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

رام اللہ سے یروشلم جانے والی سڑک پر اسرائیلی فوج کے چند انتہائی مسلّح لونڈوں نے ایک بس کو روکا اور تلاشی شروع ہوئی۔ مسافروں نے فوراً اپنے شناختی کارڈ پیش کرتے ہوئے بیگ کھول دیے۔
اسرائیلی فوج کے لونڈے اس لیے کہہ رہا ہوں کہ زیادہ تر کی عمریں اُنیس بیس سال ہوتی ہیں۔اس عمر کے لڑکے کو وردی، ہیلمٹ، وائرلیس اور M16 بندوق پکڑا دی جائے تو وہ دنیا کی خطرناک ترین مشین بن جاتا ہے۔
ایک بزرگ کو حکم ہوا کہ بس سے نیچے آؤ۔ پھر بندوق کا رخ میری طرف ہوا اور گالی نما آرڈر آیا کہ بس سے باہر چلو۔ میں اور فلسطینی بزرگ عین سڑک کے بیچ میں اور دو اسرائیلی فوجیوں کی بندوق کی نالی ہم سے ایک فٹ کے فاصلے پر، اور دونوں ایسے نشانہ باندھ کر کھڑے تھے جیسے اُنھیں نشانہ خطا ہو جانے کا خوف ہو۔
اقوامِ متحدہ کی چند سال پرانی ایک رپورٹ کے مطابق صرف غربِ اُرن میں اسرائیلیوں نے فلسطینیوں کی نقل و حرکت کنٹرول کرنے کے لیے تقریباً 705 چیک پوائنٹس بنائے ہوئے ہیں۔ یہ چیک پوائنٹ چڑیا گھروں کے پنجروں کی طرح ہیں جہاں فلسطینیوں کو یاد کروایا جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو انسان نہ سمجھنے لگیں۔
بعض چیک پوائنٹس سڑکوں پر لگے ہوئے ناکے ہیں جہاں ایمبولینسوں کو بھی گھنٹوں انتظار کروایا جاتا ہے۔ بعض جگہوں پر خندقیں ہیں، بعض جگہ مٹی و پتھر کے ڈھیر۔وہ اس لیے کہ فلسطینیوں کو غلط فہمی نہ ہوجائے کہ جو کٹی پھٹی، سکڑی ہوئی زمین ان کے پاس ہے وہ اُن کی اپنی ہے۔
اس کے علاوہ ناکوں کی ایک ایسی قسم ہے جنھیں فلائنگ چیک پوائنٹس کہا جاتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ جس جگہ پر مستقل ناکہ نہیں ہے، وہاں اسرائیلی فوجی کسی وقت بھی گاڑی روک کر ناکہ شروع کر سکتے ہیں اور جتنی دیر چاہیں، سڑک بلاک کر کے مسافروں سے پوچھ گچھ کر سکتے ہیں۔
مجھے اور فلسطینی بزرگ کو ایک ایسا ہی فلائنگ چیک پوائنٹ لگائے ہوئے فوجیوں نے اتارا تھا۔ اب نشانہ لے کر کھڑے تھے اور کچھ پوچھ بھی نہیں رہے تھے اور نہ ہی کچھ بتا رہے تھے۔
میں دل ہی دل میں دعا کر رہا تھا کہ میرے ساتھی مسافروں کو بس کے اندر سے میری کانپتی ٹانگیں نظر نہ آئیں۔
فلسطینی بزرگ نے اُن سے عربی میں کوئی بات کی تو اسرائیلی فوجی نے جواب دینے کے بجائے بندوق کے اشارے سے چپ رہنے اور ہاتھ اوپر اٹھانے کا اشارہ کیا۔ میں نے دل ہی دل میں اللہ سے رحم کی دعا مانگی۔
بزرگ نے اب کی بار اسرائیلی فوجی کو انگریزی میں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ زمین میری، شہر میرا، کاغذات میرے پورے، تم ہوتے کون ہو مجھے بس سے اتارنے والے؟ کہاں سے آئے ہو؟ امریکہ سے؟ کینیڈا سے؟ میں سات نسلوں سے یہیں رہ رہا ہوں، تمہارے ماں باپ نے تمہیں کس کام پر لگایا ہوا ہے؟
اب میری ٹانگیں باقاعدہ کانپنے لگیں اور دل سے آواز آئی کہ یہ بابا مجھے بھی مروائے گا۔اسرائیلی فوجی نے بغیر سر گھمائے اپنے افسر کو آواز دی اور پوچھا کہ اس خوفزدہ صحافی کا کیا کرنا ہے۔ میں نے دل ہی دل میں ایک مرتبہ پھر جان کی سلامتی کی دعا مانگی۔
بچپن سے لے کر آج تک شاید ہی ایسا کوئی جمعہ پڑھا ہو جہاں پر فلسطین کی آزادی اور اسرائیل کی بربادی کی دعا نہ مانگی گئی ہو۔ اگر ہماری دعا میں ذرا بھی اثر ہوتا تو اسرائیل اب تک نیست و نابود ہو گیا ہوتا لیکن ہماری دعائیں اور ہیں اور ہماری ادائیں اور۔
ہم نے فلسطینی بھائیوں کے ہاتھ پیر باندھ کر اُن کی پیٹھ میں خنجر گھونپ کر اُنھیں اسرائیلی لونڈوں کے حوالے کر دیا۔ جب عید پر اسرائیلیوں نے غزہ میں فلسطینیوں کو لوہے کے پنجرے میں بند کر کے آسمان سے اُن پر آگ برسائی تو ہم نے اور دعائیں مانگیں۔
میں اُن تمام طاقتور مسلمان ممالک کا ذکر نہیں کروں گا جو سالانہ اپنی پریڈوں میں جنگی جہاز، میزائل اور بم دکھاتے ہیں، کیونکہ وہ تو اپنی ہی عوام سے لڑنے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔
لیکن برادر اسلامی ممالک اتنا تو کر سکتے تھے کہ اسرائیل کے سرپرست ملکوں کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوجاتے کہ ہمارے بچوں کی جان بخشی کرو۔
اسرائیل کے ہر چیک پوائنٹ پر کوئی فلسطینی بزرگ کسی اسرائیلی فوجی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر رہا ہے۔ ہر محلے میں کوئی بچہ اسرائیلی ٹینک کے انتظار میں غلیل بنا رہا ہے اور ایک ہماری عظیم اُمتِ مسلمہ ہے کہ نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر کانپتی ٹانگوں کے ساتھ دعائیں مانگ رہی ہے اور دل میں سوچ رہی ہے کہ یہ فلسطینی ہمیں بھی مروائیں گے۔

( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

اسرائیل فلسطینی
Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleملتان انتظامیہ نے جاوید ہاشمی کی ’کمرشل پراپرٹی‘ مسمار کر دی
Next Article سہیل وڑائچ کا کالم:ایک قدم آگے، دو قدم پیچھے
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

اسرائیلی میڈیا کا تہران حملے میں ایران کے انٹیلیجنس وزیر اسماعیل خطیب کی شہادت کا دعویٰ

مارچ 18, 2026

ایرانی سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنے کا اسرائیلی دعویٰ

مارچ 17, 2026

تل ابیب میں کلسٹر بم حملوں میں متعدد افراد زخمی: اسرائیلی ایمرجنسی سروسز

مارچ 15, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • نیو یارک ٹائمز کی رپورٹر ٹرمپ کے وفد کے ساتھ واپس کیوں نہیں گئیں ؟ نصرت جاوید کا کالم اپریل 16, 2026
  • ایک بریکنگ نیوز کی کہانی : حامد میر کا کالم اپریل 16, 2026
  • مذاکرات کا دوسرا دور : ہوشمندی اور لچک کی ضرورت سید مجاہد علی کا تجزیہ اپریل 16, 2026
  • دوبارہ مذاکرات ہوئے تو پاکستان میں ہی ہوں گے : وائٹ ہاؤس اپریل 16, 2026
  • ایران نے چینی سیٹلائٹ کی مدد سے امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا اپریل 16, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.