کالملکھاریمحمد حنیف

محمد حنیف کا کالم: اُمتِ مسلمہ کی کانپتی ٹانگیں

رام اللہ سے یروشلم جانے والی سڑک پر اسرائیلی فوج کے چند انتہائی مسلّح لونڈوں نے ایک بس کو روکا اور تلاشی شروع ہوئی۔ مسافروں نے فوراً اپنے شناختی کارڈ پیش کرتے ہوئے بیگ کھول دیے۔
اسرائیلی فوج کے لونڈے اس لیے کہہ رہا ہوں کہ زیادہ تر کی عمریں اُنیس بیس سال ہوتی ہیں۔اس عمر کے لڑکے کو وردی، ہیلمٹ، وائرلیس اور M16 بندوق پکڑا دی جائے تو وہ دنیا کی خطرناک ترین مشین بن جاتا ہے۔
ایک بزرگ کو حکم ہوا کہ بس سے نیچے آؤ۔ پھر بندوق کا رخ میری طرف ہوا اور گالی نما آرڈر آیا کہ بس سے باہر چلو۔ میں اور فلسطینی بزرگ عین سڑک کے بیچ میں اور دو اسرائیلی فوجیوں کی بندوق کی نالی ہم سے ایک فٹ کے فاصلے پر، اور دونوں ایسے نشانہ باندھ کر کھڑے تھے جیسے اُنھیں نشانہ خطا ہو جانے کا خوف ہو۔
اقوامِ متحدہ کی چند سال پرانی ایک رپورٹ کے مطابق صرف غربِ اُرن میں اسرائیلیوں نے فلسطینیوں کی نقل و حرکت کنٹرول کرنے کے لیے تقریباً 705 چیک پوائنٹس بنائے ہوئے ہیں۔ یہ چیک پوائنٹ چڑیا گھروں کے پنجروں کی طرح ہیں جہاں فلسطینیوں کو یاد کروایا جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو انسان نہ سمجھنے لگیں۔
بعض چیک پوائنٹس سڑکوں پر لگے ہوئے ناکے ہیں جہاں ایمبولینسوں کو بھی گھنٹوں انتظار کروایا جاتا ہے۔ بعض جگہوں پر خندقیں ہیں، بعض جگہ مٹی و پتھر کے ڈھیر۔وہ اس لیے کہ فلسطینیوں کو غلط فہمی نہ ہوجائے کہ جو کٹی پھٹی، سکڑی ہوئی زمین ان کے پاس ہے وہ اُن کی اپنی ہے۔
اس کے علاوہ ناکوں کی ایک ایسی قسم ہے جنھیں فلائنگ چیک پوائنٹس کہا جاتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ جس جگہ پر مستقل ناکہ نہیں ہے، وہاں اسرائیلی فوجی کسی وقت بھی گاڑی روک کر ناکہ شروع کر سکتے ہیں اور جتنی دیر چاہیں، سڑک بلاک کر کے مسافروں سے پوچھ گچھ کر سکتے ہیں۔
مجھے اور فلسطینی بزرگ کو ایک ایسا ہی فلائنگ چیک پوائنٹ لگائے ہوئے فوجیوں نے اتارا تھا۔ اب نشانہ لے کر کھڑے تھے اور کچھ پوچھ بھی نہیں رہے تھے اور نہ ہی کچھ بتا رہے تھے۔
میں دل ہی دل میں دعا کر رہا تھا کہ میرے ساتھی مسافروں کو بس کے اندر سے میری کانپتی ٹانگیں نظر نہ آئیں۔
فلسطینی بزرگ نے اُن سے عربی میں کوئی بات کی تو اسرائیلی فوجی نے جواب دینے کے بجائے بندوق کے اشارے سے چپ رہنے اور ہاتھ اوپر اٹھانے کا اشارہ کیا۔ میں نے دل ہی دل میں اللہ سے رحم کی دعا مانگی۔
بزرگ نے اب کی بار اسرائیلی فوجی کو انگریزی میں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ زمین میری، شہر میرا، کاغذات میرے پورے، تم ہوتے کون ہو مجھے بس سے اتارنے والے؟ کہاں سے آئے ہو؟ امریکہ سے؟ کینیڈا سے؟ میں سات نسلوں سے یہیں رہ رہا ہوں، تمہارے ماں باپ نے تمہیں کس کام پر لگایا ہوا ہے؟
اب میری ٹانگیں باقاعدہ کانپنے لگیں اور دل سے آواز آئی کہ یہ بابا مجھے بھی مروائے گا۔اسرائیلی فوجی نے بغیر سر گھمائے اپنے افسر کو آواز دی اور پوچھا کہ اس خوفزدہ صحافی کا کیا کرنا ہے۔ میں نے دل ہی دل میں ایک مرتبہ پھر جان کی سلامتی کی دعا مانگی۔
بچپن سے لے کر آج تک شاید ہی ایسا کوئی جمعہ پڑھا ہو جہاں پر فلسطین کی آزادی اور اسرائیل کی بربادی کی دعا نہ مانگی گئی ہو۔ اگر ہماری دعا میں ذرا بھی اثر ہوتا تو اسرائیل اب تک نیست و نابود ہو گیا ہوتا لیکن ہماری دعائیں اور ہیں اور ہماری ادائیں اور۔
ہم نے فلسطینی بھائیوں کے ہاتھ پیر باندھ کر اُن کی پیٹھ میں خنجر گھونپ کر اُنھیں اسرائیلی لونڈوں کے حوالے کر دیا۔ جب عید پر اسرائیلیوں نے غزہ میں فلسطینیوں کو لوہے کے پنجرے میں بند کر کے آسمان سے اُن پر آگ برسائی تو ہم نے اور دعائیں مانگیں۔
میں اُن تمام طاقتور مسلمان ممالک کا ذکر نہیں کروں گا جو سالانہ اپنی پریڈوں میں جنگی جہاز، میزائل اور بم دکھاتے ہیں، کیونکہ وہ تو اپنی ہی عوام سے لڑنے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔
لیکن برادر اسلامی ممالک اتنا تو کر سکتے تھے کہ اسرائیل کے سرپرست ملکوں کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوجاتے کہ ہمارے بچوں کی جان بخشی کرو۔
اسرائیل کے ہر چیک پوائنٹ پر کوئی فلسطینی بزرگ کسی اسرائیلی فوجی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر رہا ہے۔ ہر محلے میں کوئی بچہ اسرائیلی ٹینک کے انتظار میں غلیل بنا رہا ہے اور ایک ہماری عظیم اُمتِ مسلمہ ہے کہ نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر کانپتی ٹانگوں کے ساتھ دعائیں مانگ رہی ہے اور دل میں سوچ رہی ہے کہ یہ فلسطینی ہمیں بھی مروائیں گے۔

( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker