شاہ ولی اللہ جنیدیکالملکھاری

پانچ ستمبر 1986 ء جب کراچی میں‌امریکی طیارہ ہائی جیک ہوا : شاہ ولی اللہ جنیدی کی خصوصی رپورٹ

گذشتہ سال ایک خبر نظر سے گذری کہ امریکا کو 31 سال پرانے ہائی جیکنگ کیس کے ملزموں کی تلاش ہے ۔ کراچی سے امریکی طیارے کی ہائی جیکنگ میں ملوث چار مبینہ ملزمان ودود محمد حافظ الترکی، جمال سعید عبدالرحیم، محمد عبداللہ خلیل حسین الرحیال اور محمد احمد المنور کی ڈیجیٹل تصاویربھی جاری کی گئی تھیں۔ امریکی اینٹلی جنس ادارے ایف بی آئی کی جانب سے فلسطینی تنظیم سے وابستہ ان ملزمان کی ممکنہ موجودہ عمر کے بارے میں بھی بتایا گیا تھا ۔ ملزمان سے متعلق معلومات دینے والے کو 50 لاکھ ڈالر انعام کا اعلان بھی کیا گیا اس خبر کو پڑھ کرمجھے سابق صدر جنرل ضیاء الحق کا دور یاد آگیا۔
ان دنوں ملک غیر یقینی صورت حال سے دوچار تھا ہر دن کوئی نہ کوئی بحران جنم لے رہا ہوتا تھاحکومت اور اپوزیشن کے درمیان رسہ کشی میں روز بروز اضافہ ہورہا تھا۔ اچانک اطلاع ملی کہ کراچی سے تعلق رکھنے والی نو مولود سیاسی جماعت مہاجر قومی مووومنٹ 8اگست1986 کو پہلی مرتبہ اپنی سیاسی قوت کا مظاہرہ کرے گی اور اس سلسلے میں نشتر پارک میں ایک جلسہ رکھا گیا ہے 14 اگست کے روز ہونے والے تاریخی جلسہ عام سے ایم کیو ایم کے بانی قائد نے خطاب کیا تھا ۔شہر کے مختلف علاقوں جلوس و ریلی کی شکل میں لوگ جلسے میں شرکت کے لئے پہنچے تھے ۔ جلسے کے شرکاء نے بڑے نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا تھا۔ بارش کے باوجود جلسہ منظم طریقے سے جاری رہا تھا صبح کے قومی اخبارات میں جلسہ کی نمایاں خبریں شائع ہوئیں تھیں اس جلسے کے بعد اپوزیشن جماعتوں پر مشتعمل اتحاد( ایم آرڈی) نے 14اگست یوم آزادی کے موقع پر کراچی میں حکومت مخالف احتجاجی جلوس نکالنے کا اعلان کیا تھا ۔ ایم آر ڈی کا مطالبہ تھا کہ مارشل لاء فوری طور پر ختم کرکے آزادانہ اور شفاف انتخابات منعقد کروائے جائیں۔ تحریک کا آغاز بڑے ہی جوش و خروش سے ہوا، اور ملک بھر میں جنرل ضیاء کے خلاف مظاہرے ہونے لگے تھے14اگست کے دن کراچی سے نکالے جانے والے احتجاجی جلوس کی قیادت سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کررہی تھیں۔ جلوس کو روکنے کے لئے پولیس کو حرکت میں آنا پڑا۔ پولیس اور شرکاء کے درمیان تصادم کے نتیجے میں شہر میں ہنگامہ پھوٹ پڑے تھے ۔ بے نظیر کوگرفتارکیا گیاتھا۔۔ لیکن عوام کے زبردست احتجاج کے بعد انہیں رہا کردیا گیا تھا ۔ احتجاجی جلسے وجلوس روز کامعمول تھا۔
5ستمبر1986کے جمعہ کے روز صبح گھر میں بیٹھا مشرق اخبار پڑھ رہا تھا کہ میرےاسکول کےدوست واحد کا فون آیا کہنے لگا میرے ابا کراچی ائیرپورٹ کے الیکٹریکل ڈپارٹمنٹ میں ملازمت کرتے تھے وہ گذشتہ رات معمول کے مطابق ڈیوٹی پر گئے تھے مگر صبح واپس نہیں پہنچے ۔ انکے کے دفتر میں کوئی فون بھی اٹینڈ نہیں کررہا ہے لہذا ائیرپورٹ چلنا ہوگا جلدی آجاو ۔ میں فوری تیار ہوکر اس کے گھر پہنچ گیا جہان سے ہم دونوں موٹر سائیکل پر ائیر پورٹ پہنچ گئے ، ائیرپورٹ کی عمارت کے باہر پولیس اور فوج کے مسلح جوان جگہ جگہ کھڑے تھے عمارت کے سامنے پولیس اور فوج کی گاڑیوں کی قطار لگی ہوئی تھی ۔ پولیس اہلکاروں نے ہمیں عمارت کے نزدیک جانے سے روک دیا تھا ۔ جس پرہم نے انھیں اپنے یہان آنے کا مقصد بیان کیا لیکن وہ کچھ سننے کو تیار نہ تھے ،اچانک ہماری نظر پڑی سامنے کھڑے سابق صوبائی وزیر الحاج شمیم الدین پر پڑی وہ اس وقت کمشنر کراچی سیدسردار احمد سے باتیں کررہے تھے ( سید سردار احمد بعد میں ایم کیو ایم کے صوبائی وزیر بنائے گئے) الحاج شمیم الدین مرحوم سے میری شناسائی جمعیت علماء پاکستان اور زکوۃ و عشر کے وزیر کی حیثیت سے تھی جبکہ میرے بھائی شاہ منصور عالم ان دنوں انکے پرائیوٹ سیکریٹری کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے لہذا ہم دونوں دوست آگے بڑھ کر الحاج شمیم الدین سے ملے اور انھیں دوست کے والد کے گھر نہ پہنچنے کے بارے میں بتایا تو حاجی شمیم کا کہنا تھا کہ ائیرپورٹ پر ایمرجنسی لگی ہوئی ہے ،امریکن ائیرلائین کا طیارہ اغواء ہوگیا ہے اور ائیرپورٹ کے رن وے پر موجود ہے ، لہذ ا آپ لوگ گھر پر جائیں صورت حال نارمل ہوتے ہی تمام لوگ اپنے گھر پہنچ جائیں گے ۔ مگر ہم لوگوں کوواقعہ سن کر ایک تجسس پیدا ہوگیا تھا ۔لہذا ہم لوگ کافی دورجاکر کھڑے ہوگئے اور کئی گھنٹے تک ائیرپورٹ پر ہونے والی صورت حال کو دیکھتے رہے ۔
جب اندھیرا پھیلنے لگا تو گھر کے لئے روانہ ہوگئے ۔ ریڈیو اور سرکاری ٹی وی سے جہاز کے اغواء کی خبر نشر ہونے کے بعد شہر میں ہر طرف جہاز کے بارے میں چہ میگوئیاں ہورہی تھیں ۔محلے کے بزرگ اور جوان گلی کے نکڑپربیٹھے بی بی سی ریڈیو پرنشر ہونے والی خبریں سن رہے تھے ۔ رات گئے اطلاع ملی کہ پاکستانی کمانڈو نے آپریشن کرکے امریکی جہاز کو ہائی جیکروں سے چھڑالیا ہے جبکہ دوسرے روز صبح کے اخبارات میں طیارہ ہائی جیکنگ کے حوالے نمایاں خبریں شائع ہوئی تھیں کہ امریکی ہوائی کمپنی پین ایم کے طیارے کو کراچی ائیرپورٹ سے ہائی جیک کر کے قبرص لے جانے کی کوشش ناکام ۔عملے کے ارکان نے جہاز سے کود کر یہ کوشش ناکام بنا دی تھی۔ مذاکرات کی ناکامی کے بعد ہائی جیکرز کی فائرنگ سے مسافر اور عملے کے ارکان سمیت 20 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں دو امریکی شہری بھی شامل تھے۔
اس واقعہ کے چند روز بعد میرا صوبائی وزیرالحاج شمیم الدین کے گھر وحیدآباد جانا ہوا تو ان سے ہائی جیکنگ کیس کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ کمشنرکراچی سید سردار احمد نے فون کیا تھا اور کہا کہ گورنر سندھ لیفٹنٹ جنرل جہانداد خان کا حکم ہے کہ آپ فوری ائیرپورٹ پہنچیں ،میں سمجھا کہ شائد کوئی غیر ملکی سربراہ مملکت کراچی ائیرپورٹ پر چند گھنٹوں کے لئے رک رہا ہوگا جس کے استقبال کے لئے مجھے بلایا گیا ہے لہذا میں اپنے ڈرائیور کے ساتھ ائیرپورٹ روانہ ہوگیا ۔ائیرپورٹ پہنچنے پر کمشنر کراچی نے بتایا کہ امریکی ائیر لائینز کا طیارہ اغواء ہوگیا ہے اور طیارہ اس وقت ائیرپورٹ کے رن وے پر رکا ہوا ہے انتظامیہ اور ہائی جیکرزوں کے درمیان مذاکرات ہورہے ہیں آپ گورنر جہانداد صاحب کے پاس چلے جائیں وہ آپریشن کی نگرانی کررہے ہیں الحاج شمیم الدین نے بتایا کہ انھیں عمارت کے اندر ایک کمرے میں لے جایا گیا جہاں گورنر سندھ کچھ فوجی افسران سے گفتگو کررہے تھے ، نظر پڑتے ہی انھوں نے مجھے اشارے سے صوفے پربیٹھنے کو کہا ۔ گورنر جہانداد خان افسران سے بات چیت مکمل کرنے کے بعد میری طرف مخاطب ہوئے اور کہا الحاج تم کو واقعہ کا علم تو ہوگیا ہوگا میں نے کہا کہ ابھی کمشنر سردار احمد نے مختصر صورت حال بیان کی ہے جس پرجہانداد خان نے بتایا کہ پین امریکن ورلڈ ایئرویزPan American World Airways کا 747 بوئنگ طیارہ 360مسافروں کو لے کر ممبئی ایئر پورٹ سے روانہ ہواتھا ۔ جہاز کو کراچی سے ہوتے ہوئے جرمنی کے فرینکفرٹ ایئر پورٹ اور پھر نیویارک کے جون ایف کینیڈی ایئر پورٹ پہنچنا تھا۔ جہاز کراچی میں تھوڑے وقفے کے لیے رکا تھا جہاں سے اسے فرینکفرٹ کے لیے روانہ ہونا تھا۔ جہاز میں مسافروں کے علاوہ عملے کے14 افراد سوار تھے۔ اچانک صبح چھ بجے چار مسلح افراد ایک گاڑی میں اس طرح سوار ہو کر آئے جیسے وہ ایئر پورٹ کی سکیورٹی کا عملہ ہوں اور یہ لوگ ہوا میں فائرنگ کرتے ہوئے جہاز میں داخل ہو گئے ہیں ۔ اس صورت حال کو جہاز کا پائلٹ بھانپ گیا تھا اور وہ چپکے سے کاک پٹ سے کود کرباہر نکل گیا ہے لہذا جہازبغیر پائیلٹ کے ائیرپورٹ کے رن وے پر کھڑا ہے جہانداد خان نے بتایا کہ ہائی جیکرز ائیرپورٹ کے رن وے تک کیسے پہنچے اس بات کی تحقیقات کی جارہی ہے اورساتھ ہی ہم ہائی جیکروں سے بات چیت بھی کررہے ہیں ۔الحاج شمیم کا کہنا تھا کہ انھوں نے جہانداد خان سے پوچھا کہ مجھے کیا کرنا ہوگا تووہ کہنے لگے آپ یہاں بیٹھ کر صرف دعا کریں۔
اسی دوران ایک بار پھر چند فوجی افسران نمودار ہوئے ۔انھوں نے گورنر سندھ کو بتایا کہ ہائی جیکرز نے شام 4 بجے تک کا وقت دیا ہے وہ پائیلٹ کی فراہمی کا مطالبہ کررہے ہیں اور ساتھ ہی دھمکی بھی دے رہے ہیں کہ جہاز میں بم رکھ دیئے ہیں ۔تاخیر کی صورت میں جہاز کو بم سے اڑادیا جائے گا ۔ گورنر جہانداد خان نے کہا کہ ہائی جیکروں کو پیغام پہنچاو کہ ہم نے پائیلٹ کی فراہمی کے لئے پیغام امریکہ بھیجا تھا اور امریکہ سے جواب ملا ہے کہ پائیلٹ یورپی ملک سے روانہ ہوچکا ہے دوبئی سے ہوتا ہوا رات 9 بجے تک کراچی ائیرپورٹ پہنچ جائے گا ۔ جہاز چونکہ امریکہ کا ہے لہذا ہم اپنا پائیلٹ نہیں دے سکتے ہیں ۔ اسی دوران وزیر خارجہ زین نورانی بھی اسلام آباد سے کراچی پہنچ گئے انھوں نے بتایا کہ فلسطین کے سربراہ یاسر عرفات نے ہائی جیکروں سے جہاز کو چھڑانے کے لئے اپنی خدمات پیش کی ہے ۔ابھی بات چیت ہورہی تھی کہ کمشنر کراچی سردار احمد کمرے میں داخل ہوئے اور گورنر جہانداد خان کو بتایا کہ امریکی سفیر اور انکا ملٹری اتاشی گورنر سندھ سے ملاقات کرنا چاہ رہا ہے ۔ گورنر جہانداد نے اس موقع پر زین نورانی اورمجھے مخاطب کرکے کہا کہ آپ دونوں حضرات جاکر امریکی سفیر سے مل لیں اور ان کو بتادیں کہ گورنر جہانداد خان بہت مصروف ہیں وہ ملاقات نہٰیں کرسکتے ،الحاج شمیم الدین نے بتایا کہ جاکر ملاقات کی تو امریکی سفیرکا کہنا تھا کہ حکومت امریکہ چاہتی ہے کہ پین ایم جہازکو انکی تحویل میں دے دیا جائے اور اس مقصد کے لئے مصر(قاہرہ ائیرپورٹ) سے امریکی فوجیوں کا دستہ روانہ ہوچکا ہے وہ دوبئی میں کچھ دیر قیام کرنے کے بعد وہاں سے روانہ ہوکر کراچی ائیرپورٹ پر اترے گا۔ لہذا جہازکو اتارنے کی انھیں اجازت چاہئے ۔ زین نورانی نے امریکی سفیر سے کہا کہ گورنر سندھ آپریشن کی نگرانی کررہے ہیں تاہم آپ کا پیغام انکو پہنچادیا جائے گا ۔ہم لوگوں نے واپس آکر گورنر جہانداد خان کو امریکی سفیر کا پیغام پہنچادیا ۔انھوں نے کہا کہ امریکی سفیر سے کہیں کہ اس صورت حال سے نمٹنے کے لئے ہمارے پاس بھرپور صلاحیت ہے کسی امریکی یا انکے فوجی جہاز کو اپنے ائیر پورٹ اترنے کی اجازت نہیں دے سکتے اچانک انھوں نے فون اٹھا کر ڈی جی سول ایوی ایشن سے کہا کہ کراچی کے تمام ائیرپورٹ بند کردیں اور ان پر رکاوٹیں کھڑی کریں ،ہم لوگوں نے گورنر جہانداد کا جواب امریکی سفیر کو پہنچادیا مگر وہ گورنر سے ملاقات پربضد تھا، زین نورانی اور مجھے ایک بار پھر گورنر جہانداد کے پاس جانا پڑا اور ان کو اس حوالے سے بتایا جس پرگورنر جہانداد خان نے شدید برہمگی کا اظہار کیا اور کہا کہ امریکی سفیر سے کہیں کہ ہمیں ڈسٹرب نہ کریں یہ مسئلہ حکومت پاکستان کا ہے ۔ پھر وہ ہم لوگوں سے مخاطب ہوئے اور کہا کہ کل کوئی ہمارا دشمن جہاز ائیرپورٹ اتار کر ہائی جیکنگ کا ڈرامہ کرے اور واقعہ کی مثال دیکر اپنے فوجی اتار دے تو کیا رہے گا ، کیا ہم اس کو بھی اجازت دینگے میں ایسی کوئی مثال قائم نہیں کرنا چاہتا ہوں ۔حاجی شمیم نے بتایا کہ اندھیرا ہونے کے بعد پاکستان آرمی کے نامور کمانڈو بریگئیڈیر طارق محمود(ایس ایس جی کمانڈوز ٹیم کی کمان کررہے تھے ) کمرے میں آگئے اورگورنرجہانداد خان سےانتہائی راز دارانہ انداز میں گفتگو کرنے لگے اس دوران انھیں کنٹرول روم سے فون آیا کہ ہائی جیکرزکا کہنا ہے کہ انھیں جہاز کے ارد گرد سائے نظر آرہے ہیں اور لائٹ بند ہوگئی ہے جس پر گورنر سندھ نے کہا کہ ان کو پیغام بھیجو کہ جہاز کا ائیر کنڈیشن سسٹم ٹھیک کرنے کے لئے کچھ ٹیکنیشن بھیجے گئے تھے انھیں واپس بلایا جارہا ہے ہم چاہتے ہیں کہ مسافروں کو تکلیف نہ پہنچے ۔بریگئیڈیر طارق محمود گورنر سے بات کرکے چلے گئے تھے کہ تھوڑی دیر بعد ہی وزیراعلی سندھ سید غوث علی شاہ بھی ہمارے درمیان پہنچ گئے ۔گورنر جہانداد اور غوث علی شاہ کے درمیان بات چیت ہورہی تھی کہ اچانک جہانداد خان کھڑے ہوگئے ہم لوگوں کو ساتھ لیکر کنٹرول ٹاور کی طرف چل دئے ، کنٹرول ٹاور پہنچنے پر سول ایوی ایشن حکام کی طرف سے وزیراعلی غوث علی شاہ کو جہاز دیکھنے کے لئے دور بین دی گئی ابھی ہم لوگ جہازکو دیکھ رہے تھے کہ اچانک جہاز میں اندھیرا ہوگیااورفائرنگ کی آوازیں آنا شروع ہوگئیں 20 منٹ بعد جہاز کی روشنی بحال ہوچکی تھی ۔ اس موقع پرگورنر جہانداد نے کسی سے فون پر بات کی اور ہم لوگوں کو جہاز پر چلنے کے لئے کہا ۔ ہم لوگ جہاز پر پہنچے تو دیکھا کہ مسافروں کو اتارا جا رہا تھا ایمبولینس کے ذریعےزخمیوں اور لاشوں کو جناح اسپتال منتقل کیا جارہا تھا ۔ گورنر صاحب جہاز پر چڑھ رہے تھے اور ہم لوگوں کے دل دھل رہے تھے ایک عجب خوف سا طاری تھا کہ کہیں کوئی نصب شدہ بم نہ پھٹ جائے تاہم جہاز میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ہر طرف خون پھیلا ہوا ہے۔جہازکی سیٹیں خون آلود ہوچکیں تھیں جہاز سے نکل کر تمام افراد ڈپارچر ہال پہنچے جہان مسافروں کو بٹھا یا گیا تھاگورنراور وزیراعلی نے فردا فردا جاکر مسافروں سے ملاقاتیں کئیں گونر صاحب کو بریگئیڈئر طارق محمود نے بتایا کہ ایک ہائی جیکر ہلاک ہوگیا ہے اور ایک جہاز سے کود کر فرار ہورہا تھا وہ بھارتی خاتون کی نشاندھی پر گرفتار کرلیا گیا ہے باقی دو کو ڈپارچر ہال سے گرفتار کرلیا گیا تھا الغرض پاکستانی عدالت نے گرفتار پانچ ہائی جیکروں کو مجرم قرار دیا اور انھیں عمر قید کی سزا سنائی تھی ۔ ہائی جیکنگ کے سرغنہ زید حسن سفارینی کو 2001 میں امریکا کے حوالے کر دیا گیا جہاں انھیں 160 برس قید کی سزا ہوئی جبکہ دوسرے مجرم اپنی سزائیں کاٹنے کے بعد 2008 میں رہا کر دیے گئے تھے رہائی کے بعد سے ان کا اب تک کوئی اتا پتہ نہیں ہے، تاہم ان کا نام اب تک ایف بی آئی کی سب سے مطلوب افراد کی فہرست میں شامل ہے

( بشکریہ : پرائم نیوز کراچی )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker