کابل : پاکستان کی خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید ایک روزہ دورے پر کابل پہنچ گئے۔
ذرائع کے مطابق اپنے دورے میں ڈی جی آئی ایس آئی افغانستان میں موجود پاکستانی سفیر اور ان کی ٹیم کے ساتھ مہاجرین کی منتقلی، پاکستان کے ذریعے انخلا اور پاک افغان سرحد کی صورتحال سے متعلق ملاقاتیں کریں گے۔ وہ ان معاملات پر بات چیت کیلئے طالبان کے نمائندوں سے بھی ملاقات کریں گے۔ذرائع کے مطابق مختلف ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں نے پاکستان سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے ملک میں مہاجرین کی منتقلی اور پاکستان کے ذریعے ٹرانزٹ کی اجازت دے جس کے لیے ایک مکینزم بنانے کی ضرورت ہے اور اسی سلسلے میں افغانستان کی موجودہ اتھارٹیز کے ساتھ رابطہ ضروری ہے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی کے دورے میں سرحد کی مؤثر انتظام کاری پر بھی بات ہوگی، خاص طور پر ان افغان باشندوں سے متعلق جو روزانہ کی بنیاد پر سرحد عبور کرتے ہیں اور پھر واپس چلے جاتے ہیں۔ اس عمل کو ہموار طریقے سے چلانے کیلئے ضروری ہے کہ طے شدہ مکینزم کے تحت جن لوگوں کو اجازت دی جائے وہی یہ سہولت استمعال کرسکیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مغربی میڈیا میں چلنے والی مہاجرین کی بڑی تعداد میں آمد اور دباؤ کی خبریں غلط ہیں۔
ذرائع کے مطابق ڈی جی آئی ایس آئی اپنے دورے میں مجموعی سکیورٹی صورتحال پر بھی بات کریں گے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ موجودہ صورتحال کا فائدہ دہشتگرد تنظیمیں اور بگاڑ پیدا کرنے والے عناصر نہ اٹھا سکیں۔
ڈی جی آئی ایس آئی کے ساتھ ایک اعلی سطح کا وفد بھی کابل گیا۔ جنرل فیض حمید کی کابل ایئرپورٹ پر تصویر بھی سامنے آئی جس میں انہوں نے ہاتھ میں چائے کا کپ پکڑا ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی وفد نے طالبان کی افغان شوریٰ کی دعوت پر کابل کا دورہ کیا۔لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے طالبان نمائندوں سے ملاقات کی جس میں پاک افغان سرحدی سکیورٹی صورت حال پر بات چیت ہوئی۔ ملاقات میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات، سیکیورٹی سمیت اہم دوطرفہ امور پر بھی گفتگو کی گئی۔ پاک افغان سرحدی صورتحال ، مجموعی سلامتی کے مسئلے پر بھی مشاورت کی گئی اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی کہ فساد پیدا کرنے والے اور دہشت گرد تنظیمیں صورتحال کا فائدہ نہ اٹھائیں۔
ڈی جی آئی ایس آئی سے پاکستانی سفیر نے بھی ملاقات کی جس میں افغانستان سے انخلاء اور راہداری کے معاملات پر بات چیت ہوئی۔ غیر ملکی اور بین الاقوامی تنظیموں کے عملے کی پاکستان کے رستے وطن واپسی اور اس حوالے سے زیر التواء درخواستوں کے مسئلے پر بھی غور کیا گیا۔

