نوشکی اور پنجگیر میں فوجی ٹھکانوں پر بلوچ قوم پرستوں کے حملوں میں13 دہشت گرد ہلاک ہوگئے جبکہ جوابی ملٹری ایکشن میں 7 فوجی بھی جاں بحق ہوئے ہیں۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے کہا ہے کہ ان حملوں میں بھارت اور افغانستان میں مقیم عناصر ملوث تھے۔ خطے میں رونما ہونے والی حالیہ تبدیلیوں کے تناظر میں ان معلومات کا گہرائی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہوگی۔ پاکستانی حکومت اور سیکورٹی فورسز کو غور کرنا ہوگا کہ کیا بلوچستان میں علیحدگی پسند جد و جہد کو فوجی طاقت سے کچلنا ممکن ہے؟
سب سے پہلے تو یہ واضح ہونا چاہئے کہ سیاسی محرومیوں اور سماجی مشکلات کی وجہ سے بغاوت پر اترے ہوئے کسی گروہ کو ناکارہ بنانے کے لئے فوجی طاقت کا استعمال آخری آپشن ہونا چاہئے۔ انتہائی مجبوری کے عالم میں اگر یہ آپشن استعمال کرنے کا فیصلہ کیا جائے تو اسے پوری طاقت سے بروئے کار لاکر محدود وقت میں نتائج حاصل کرکے کسی مصالحت کے لئے میدان ہموار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یعنی کوئی بھی فوجی کارروائی کسی علاقے میں محرومیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی بے چینی کو ختم کرنے کا سبب نہیں بن سکتی تاہم ایسی کارروائی سے مسلح عناصر کو کمزور کرکے مصالحت اور وسیع تر افہام و تفہیم کا کوئی راستہ نکالا جاسکتا ہے۔ بلوچستان میں موجودہ مسلح جد و جہد کسی نہ کسی طریقے سے گزشتہ چالیس سال سے جاری ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں نیشنل عوامی پارٹی کی حکومت ختم کرکے صوبے پر سیاسی تسلط قائم کرنے کی کوشش کے بعد سے اس مسلح بغاوت کا آغاز ہؤا۔ اس کے بعد پرویز مشرف کے دور میں اکبر بگٹی کے خلاف عسکری کارروائی اور پر اسرار حالات میں ان کی ہلاکت و تدفین کے بعد بلوچستان میں بلوچ آبادی کی ناراضی میں اضافہ ہؤا اور صوبے کی خود مختاری کی جد و جہد کرنے والے عناصر کو مزید توانائی حاصل ہوئی۔ اس دوران افغانستان میں امریکی جنگ کی وجہ سے کابل میں ایک ایسی حکومتیں قائم رہیں جو طالبان کے ساتھ پاکستانی سیکورٹی فورسز کے تعلقات کی وجہ سے اسلام آباد اور روالپنڈی کے قریب نہیں آسکیں۔ اشرف غنی نے پہلی بار صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اسلام آباد کا دورہ کیا اور سیاسی لیڈروں کے علاوہ فوجی قیادت سے بھی ملاقاتیں کیں۔ ایک وقت ایسا لگنے لگا تھا کہ پاکستان کابل حکومت کے ساتھ اختلافات ختم کرنے اور دونوں ملکوں کے تعلقات کو ایک دوسرے کے مفاد کے مطابق ڈھالنے میں کامیاب ہورہا ہے ۔ اسی دوران افغانستان میں حقانی نیٹ ورک کے حملوں میں اضافہ ہؤا اور پاکستان پر اس گروہ کی حمایت کرنے کا الزام عائد ہونے لگا۔ اس تنازعہ کے نتیجہ میں ایک طرف امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں دراڑیں پڑیں تو دوسری طرف کابل حکومت کے ساتھ مفاہمت کا ماحول ختم ہوگیا۔ اس کے بعد سے اشرف غنی کا جھکاؤ مکمل طور سے بھارت کی طرف ہوگیا اور انہوں نے متعدد بار پاکستان کے خلاف سخت بیانات بھی دیے جو عمومی سفارتی آداب کے بھی خلاف تھے۔
کابل حکومت کی بھارتی حکومت کے ساتھ دوستی اور امریکہ و بھارت کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کے نتیجہ میں افغانستان کے سرحدی علاقے پاکستان دشمن انتہاپسند عناصر کا گڑھ بن گئے۔ 2104 میں شروع کئے گئے آپریشن ضرب عضب کے نتیجہ میں تحریک طالبان پاکستان کے عناصر نے بھی افغانستان ہی میں پناہ لی اور وہاں سے پاکستان پر حملوں کا سلسلہ شروع کردیا۔ اس کی روک تھام کے لئے پاک فوج نے بالآخر پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا فیصلہ کیا جو اس وقت کابل میں طالبان حکومت کے ساتھ پاکستان کے تنازعہ کی بنیاد بھی بنا ہؤا ہے۔ طالبان نے افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے بعد اعلان کیا تھا کہ ان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لئے استعمال نہیں ہوگی۔ تاہم اس وعدے اور اعلان کے باوجود کابل حکومت ابھی تک تحریک طالبان پاکستان کے خلاف کارروائی کرنے یا انہیں افغانستان چھوڑ کر پاکستان واپس جانے پر مجبور نہیں کرسکی۔ اس کے برعکس حقانی نیٹ ورک کے سربراہ اور افغانستان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کی معاونت سے ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ پاکستان ان مذاکرات میں کچھ مراعات دینے پر بھی رضامند ہوگیا تھا لیکن یہ بیل منڈھے نہیں چڑھ سکی۔
اب پاکستانی فوج کو مسلسل ٹی ٹی پی سے حملوں کا خطرہ رہتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان کے تدارک کے لئے افغانستان میں بھی کارروائی کی گئی ہے اور ٹی ٹی پی کی قیادت کو نشانہ بنا کر اس گروہ کی عسکری صلاحیت کو کم کیا گیا ہے۔ تاہم ماضی کے تجربات سے یہ سبق سیکھا جاسکتا ہے کہ کسی بھی دہشت پسند گروہ کی قیادت کو مار دینے سے کچھ رکاوٹ ضرور پیدا ہوتی ہے لیکن کسی گروہ کی طاقت کا مکمل طور سے خاتمہ نہیں ہوتا۔ امریکہ نے افغانستان میں طالبان کے خلاف اسی ہتھکنڈے کے ذریعے کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن اسے خود ہی افغانستان چھوڑنا پڑا اور طالبان کابل پر قابض ہوگئے۔افغانستان کی طالبان حکومت نے البتہ اپنے ملک میں موجود بلوچ عسکریت پسند عناصر کو پاکستان کی طرف دھکیلا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بلوچ عسکری تنظیموں کو افغانستان کے علاوہ ایران میں بھی پناہ ملتی تھی۔ اس طرح یہ عناصر پاکستان میں حملے کرنے کے بعد ان دونوں ملکوں میں پناہ لیتے تھے۔ اس دوران افغانستان میں بھارت کا اثر و رسوخ بڑھنے کی وجہ سے بھارتی ایجنسیوں نے افغان عسکریت پسندوں کی عملی امداد شروع کی اور انہیں مالی امداد کے علاوہ عسکری تربیت فراہم کی جانے لگی۔ پاکستان اس صورت حال پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتا رہا ہے لیکن افغانستان اور بھارت کے ساتھ جڑے امریکی مفادات کے پیش نظر پاکستانی احتجاج کو کوئی خاص پزیرائی حاصل نہیں ہوسکی۔ البتہ کابل میں طالبان حکومت آنے کے بعد یہ صورت حال تبدیل ہوئی ہے۔ دوسری طرف ایران میں چینی سرمایہ کاری بڑھنے کے بعد تہران کے لئے بھی ایسے بلوچ عناصر کو اپنے ملک میں پناہ دینا آسان نہیں رہا کیوں کہ بلوچ علیحدگی پسند سی پیک کے چینی منصوبوں کو بھی ٹارگٹ کرتے ہیں۔ یہ صورت حال پاکستان کے نقطہ نظر سے اطمینان بخش تھی۔ سیاسی بیانات اور اخباری تبصروں میں اس پر خوشی کا اظہار بھی سامنے آیا لیکن حالیہ حملوں سے واضح ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ بدستور اپنی جگہ پر موجود ہے۔
ایک رائے کے مطابق افغانستان اور ایران کی پناہ گاہوں سے محروم ہونے کے بعد بلوچ عسکریت پسندوں کے پاس دو ہی آپشن تھے کہ یا تودوردراز علاقوں میں خاموشی سے زندگی بسر کرتے۔ یا پھر اپنی باقی ماندہ قوت جمع کرکے ماضی قریب میں اپنے سرپرستوں کو دوبارہ امداد دینے پر آمادہ کرتے۔ بلوچستان میں ہونے والے حالیہ حملوں کے بعد یہ واضح ہورہا ہے کہ بلوچ گروہ ہتھیار پھینکنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ اب آئی ایس پی آر کے اس بیان کے بعد کہ گزشتہ روز نوشکی اور پنجگور میں ہونے والے حملے افغانستان اور بھارت میں موجود عناصر کے تعاون سے کئے گئے تھے، یہ واضح ہوتا ہے کہ طالبان ابھی تک نہ تو ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی کرسکے ہیں اور نہ ہی بلوچ عسکری گروہوں کی حمایت کرنے والے عناصر کو ملک سے مکمل طور سے نکالا جاسکا ہے۔ پاکستانی عسکری قیادت کے لئے یہ جاننا اہم ہوگا کہ کیا افغان طالبان ایسا کوئی اقدام کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے یا وہ جان بوجھ کر پاکستان پر دباؤ قائم رکھنے کے لئے ان عناصر کو سپیس دے رہے ہیں۔صورت حال کا حقیقت پسندانہ اور واقعاتی شواہد کی بنیاد پر کیا جانے والا مطالعہ افغان طالبان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی سمت متعین کرسکتا ہے۔ اسی تناظر میں پاکستانی لیڈروں کو طے کرنا ہوگا کہ افغانستان کے نئے حکمرانوں کے بارے میں ان کی پالیسی کس حد تک بار آور ہے۔ یہ تو نہیں ہوسکتا کہ پاکستان پوری گرم جوشی سے دنیا کے ہر پلیٹ فارم پر طالبان کا مقدمہ لڑتا رہے لیکن طالبان پاکستانی فوج کو سہولت دینے اور عسکری گروہ کو دباؤ میں لانے کے لئے تعاون سے گریزاں رہیں۔ تاہم افغانستان کے بارے میں حکمت عملی کے جائزہ کے علاوہ سب سے اہم یہ ہوگا کہ پاکستان کی سیاسی و فوجی قیادت بلوچستان میں اپنی حکمت عملی پر غور کرے۔ تمام حالات اور گزشتہ چار دہائیوں کے دوران اختیار کی گئی پالیسی کی روشنی میں دیکھا جائے کہ فوجی دباؤ کا طریقہ کیوں ناکام ہورہا ہے۔ افغانستان میں امریکی فوجی کارروائی کے بیس برس کے دوران بھارت اور کابل حکومت پر الزام لگاتے ہوئے بلوچستان میں ناراضی کی اصل وجوہ پر سنجیدہ غور کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ اب تبدیل شدہ علاقائی منظر نامہ میں اپنی کوتاہیوں کو سمجھنے اور ملک میں پائدار امن قائم کرنے کے لئے قابل عمل پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت ہوگی۔
یہ واضح ہے کہ بھارت، پاکستان میں بدامنی اور تخریب کاری کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے گا۔اس کا اندازہ گزشتہ روز ہونے والے حملوں کے بعد آئی ایس پی آر کے بیان سے بھی ہوتا ہے۔ تاہم یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ کسی بھی دشمن ملک کو اسی وقت شرارت کرنے کا موقع ملتا ہے جب ملک کے اندر اختلاف موجود ہوتا ہے اور اس کا مناسب سیاسی حل تلاش کرنے کے لئے کام نہیں کیا جاتا۔ مشرقی پاکستان میں ابھرنے والی سیاسی تحریک اور مکتی باہنی کی صورت میں عسکری گروہ کی بغاوت میں بھارت کو اسی وقت مداخلت کرنے اور بنگلہ دیش کے قیام میں معاونت کا موقع ملا تھا جب پاکستانی قیادت بنگالیوں کے سیاسی مطالبات پر غور کرنے کی بجائے ان پر بغاوت کے الزام عائد کرکے مسئلہ حل کرنا چاہتی تھی۔ پاکستانی فوج سے زیادہ کسی کو اس حقیقت کا علم نہیں ہوسکتا کہ مسلح کارروائی سے کسی سیاسی مطالبے کے نتیجہ میں ابھرنے والی عسکری تحریک کو اس وقت تک ختم نہیں کیا جاسکتا جب تک سیاسی مطالبات کا شافی حل تلاش نہ کیا جائے۔سی پیک کی وجہ سے بلوچستان پاکستان کی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے لیکن یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اس صوبے کی معاشی اور اسٹریٹیجک اہمیت کے باوجود اس کے سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل پر توجہ نہیں دی جاتی۔ کوئٹہ میں وزیر اعظم کا کیمپ آفس قائم کرنا تو بہت دور کی بات ہے، وزیر اعظم کئی کئی ماہ تک اس صوبے کا رخ نہیں کرتے۔ اسلام آباد کی برسراقتدار پارٹی کے دباؤ اور رسوخ سے بلوچستان میں من پسند حکومت قائم کی جاتی ہے ۔ گویا مقامی آبادی کو جان بوجھ کر اپنے حقیقی نمائیندوں کے ذریعے صوبے میں حکمرانی کا موقع نہیں دیا جاتا اور ابن الوقت سیاسی عناصر ہر دور میں جعلی مینڈیٹ کے ساتھ حکومت قائم کرکے اسلام آباد کو تو مطمئن کرلیتے ہیں اور جمہوریت کا ڈھونگ بھی رچا لیا جاتا ہے لیکن عوامی مسائل حل نہیں ہوپاتے۔
موجودہ حالات میں بعض عناصر پوری طاقت سے عسکریت پسند عناصر کو کچلنے اور صوبے میں ہمیشہ کے لئے امن قائم کرنے کی بات کرتے ہیں لیکن فوجی کارروائی کی چالیس سالہ تاریخ سے یہ سبق ملتا ہے کہ بلوچستان کے عوام کو مطمئن کئے بغیر اس صوبے میں امن بحال نہیں ہوسکے گا۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

