” پیر سپاہی اور ملتان کی دیگر کہانیاں “ رضی الدین رضی کی چوبیسویں کتاب کا نام ہے، جس کی تقریب تعارف ملتان آرٹس کونسل کی ادبی بیٹھک میں منعقد ہوئی، اس کتاب کی اشاعت کے بعد رضی الدین رضی ملتان کی علمی، ادبی اور ثقافتی تاریخ کا پہلا قلم کار ہے، جس کی ملتان اہل ملتان پر آٹھ کتابیں شائع ہو چکی ہیں، وہ ملتان کی تاریخ اس لئے محفوظ کر رہا ہے کہ اسے معلوم ہے کہ اب ملتان کی تاریخ کو رقم کرنے والے آہستہ آہستہ رخصت ہو رہے ہیں ۔ہم رضی کے ممنون ہیں کہ وہ اکیلا اداروں کی طرح کام کر رہا ہے۔
رضی الدین رضی کی تازہ کتاب میں” پیر سپاہی ” پر جو مضمون شامل ہے، وہ خاصے کی چیز ہے، کہ پیر سپاہی کا اصل نام عبدالحمید تھا، جس کو ضیاء الحق کے زمانے میں پالیسی سازوں نے سیاسی قیدیوں پرظلم تشدد سے توجہ ہٹانے کے لیے لانچ کیا تھا۔
اسی طرح رضی نے ملتان کے ایک مرحوم روزنامہ” نیا دن "کے ایک سال کا جو احوال لکھا وہ بھی مطالعہ کے لائق ہے کہ اس میں ملتان کی صحافت کے بےشمار گم شدہ ناموں کی یاد تازہ ہو گئی ہے۔
ویسے تو اس کتاب میں تمام مضامین ہی قابل مطالعہ ہیں کہ ان رضی الدین رضی نے لکھا ہے، لیکن کچھ مضامین ایسے بھی جن کو پڑھ کر یوں لگتا ہے جیسے یہ مضامین صرف رضی ہی لکھ سکتا ہے، مثال کے طور پر
بابا ہوٹل، معطر سہرہ اور ملتان ٹی ہاؤس
نواب محی الدین، دیوتا اور عمران سیریز
محمد علی باکسر، تتلی کا رقص اور ہمارا بچپن
زہریلی شراب اور اقبال شیخ کی خصوصی خبر
منصور کریم سیال،محمود نظامی اور جسٹس وقار کا احوال
قسورگردیزی پرتشدد اور مصطفی کھر کی سفاکی
اور
سیاہی کو روشنائی کہنے کا زمانہ اور ملتان کے خوش نویس
یہ ایسے مضامین ہیں، جن کو یادگار کہا جا سکتا ہے، اسی صفحات پر مشتمل اس کتاب کو گردوپیش نے شائع کیا جو چھ سو روپے کی نصف قیمت یعنی تین سو روپے میں ایڈوانس ادائیگی کر کے حاصل کی جا سکتی ہے
فیس بک کمینٹ

