وہ خالد تھا بہت ہی سعد لمحوں میں جو اس دنیا میں آیا تھا
وہ جب رہداریوں میں چلتاتھا
تو دیواریں سنبھل کر اس کو تکتی تھیں
لبوں میں ایک سگریٹ یوں سلگتا تھا
کہ جیسے سوچوں میں کوئی چنگاری ایسی ہو جسے بجھنا نہیں آتا
کہ جیون راکھ بھی ہو جائے تو چنگاری سلگتی ہے
وہ اک استاد تھا لیکن
کتابوں سے زیادہ سب د لوں کی گرہیں کھولنے والا
کسی خاموش ویرانے میں تنہا بولنے والا
ہر الجھن کو اپنی مسکراہٹ اور لہجے کی ہلاوٹ سے
کچھ ایسے تولنےوالا کہ خسارہ اس کا اپنا ہو
منافع دوستوں ، احباب کا اور ایسے قبیلے کا
ازل سے جو کہ مقتولوں کا غداروں کا وارث ہے
۔۔۔۔
وہ کہتا تھا کہ تم انسان کو انسان رہنے دو
کوئی دیوار بن جائے تو دروازہ کرو اس کو
وہ گوتم تھا
کہ جو نروان کے لمحوں میں
ہم سب کو میسر تھا
۔۔۔۔
وہ بس چند لمحوں کے لیے اٹھ کر گیا ہے محفل سے
اور اس محفل میں اب دھواں ہر گز نہیں
اک روشنی سی تیرتی ہے لفظوں کی
محبت کا سبق اس روشنی نے لکھ دیا ہے روحوں میں
ہم اس کے منتظر چوپال میں بیٹھے افق کے پار تکتے ہیں
کہ وہ آئے اور اس چوپال میں کچھ قہقہے بانٹے
۔۔۔۔
الاؤکو ابھی بجھنے نہیں دینا
چراغوں کو منڈیروں پر دھرو اور سب افق پر جگمگاتے اک ستارے پر نظر رکھو
کہ خالد اب ستارہ ہے
کہ وہ جو سعد لمحوں میں کبھی دنیا میں آیا تھا
وہی اب استعارہ ہے
وہی جو اک ستارہ ہے
وہی جو اک ہمارا تھا
وہی جو اک ہمارا ہے
مکمل نظم پڑھنے کے لیے پہلے کمینٹ میں دیئے گئے لنک پر کلک کریں

