اہم خبریں

استاد شاعر خورشید بیگ میلسوی انتقال کر گئے

میلسی : استاد شاعر خورشید بیگ میلسوی بارہ اکتوبر کی صبح میلسی میں انتقال کر گئے ، ان کی عمر 73 برس تھی او ر وہ چند روز سے علیل تھے ۔ خورشید بیگ میلسوی 1947ء میں میلسی میں پیدا ہوئے۔ 1964ء میں ہائی سکول میلسی سے میٹرک اور 1967ء میں گورنمنٹ ڈگری کالج میلسی انٹر کرنے کے بعد ڈی ایچ ایم ایس ہومیو پیتھک اور فاضل طب و جراحت کا کورس کیا۔
خورشید بیگ چار بہنوں اور تین بھائیوں میں سب سے بڑے تھے ۔ خورشید بیگ میلسوی کے والد مرزا عبدالغفار بیگ بلدیہ کمیٹی میں انسپکٹر چونگیات تھے۔ اور ہندوستان سے پاکستان ہجرت کر کے آئے تھے۔
شاعری میں ان کے استاِد مرحوم شریف حزیں چکوالی تھے خورشید بیگ میلسوی 1968ء میں میانوالی شفٹ ہو گئے اور وہاں گھڑی سازی کا کام شروع کر دیا اور وہیں پر شاعری کا سفر بھی جاری رکھا انہوں ادبی تنظیم ‘بزِم فکر’ بنائی جس میں 25 سے 30 ارکان شامل تھے۔ 1986ء میں دوبارہ میلسی آ گئے اور 1992ء میں اپنا ہومیو کلینک بنایا
سجاگ کو ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ 1960ء میں سکول میں بزمِ ادب بنائی گئی تھی جس میں پہلی نظم پڑھی تھی جس کے بعد تمام اساتذہ بالخصوص فارسی کے استاد اور شاعر فتح محمد خاور صاحب نے حوصلہ افزائی کی تھی جو ادب سے مزید دلچسپی کا باعث بنا۔
انہوں نے بتایا کہ شاعرانہ بصیرت سے آشنائی کا اولین کریڈٹ ان کے استادِ مرحوم شریف حزیں چکوالی کو جاتا ہے جنہوں نے ان کے اندر کے انسان کو شاعر کے طور پر ابھرنے کی راہ دکھائی۔خورشید میلسوی نے قومی سیرت ایوارڈ کے علاوہ بھی ،تعدد ایوارڈز حاصل کیے
خورشید میلسوی کی پہلی کتاب ’ہجرتوں کے سلسلے‘ تھی۔ ان کی سات کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں ہجرتوں کے سلسلے، سخن سرائے، فراتِ وقت، تُو خالق ہے تو مالک ہے، بارش کے بعد، بشارتوں کے امین موسم، ’حرف گہر بار، اور جمال نظر شامل ہیں۔جمال نظر پر 2007 ء میں انہیں قومی سیرت ایوارڈ سے نوازا گیا جو انہوں نے وزیرعظم شوکت عزیز سے وصول کیا ۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker