زندگی منظروں سے عبارت ہے،یہ منظر ہمیں گود سے گور تک دیکھنے کو ملتے ہیں۔ان میں کچھ خوبصورت مناظر ہیں جن کے ساتھ ہماری آنکھیں روشن ہوتی ہیں اور کچھ دھندلے اور بدنما مناظر بھی ہیں جو ہمیں نہ چاہتے ہوئے بھی دیکھنے کو ملتے ہیں اور سب سے بدنمامنظر وہ ہوتا ہے جہاں ہمارے معاشرے میں عورت کو ظلم اور تشددکا نشانہ بنایاجاتا ہے۔ اقبال نے کہاتھا ’’وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ ‘‘اورحقیقت بھی یہی ہے کہ اس معاشرے میں بہت سی خوبصورتیاں عورت کے دم سے ہی ہیں۔ماں،بیوی اور بیٹی کے روپ میں وہ ہمارے سماج کا حسن ہے۔اب زمانہ تبدیل ہوچکا ہے شٹل کاک برقعوں میں قید خواتین ماضی کا حصہ بن گئیں۔اب وہ زمانہ نہیں رہا جب بچیوں کو تعلیم سے دور رکھا جاتاتھا،جب اُن پر اپنی مرضی مسلط کی جاتی تھی۔اور جب انہیں قرآن پاک کے ساتھ بیاہ دیاجاتاتھا۔آ ج خواتین ہر شعبے میں اپنی صلاحیتیں تسلیم کرواچکی ہیں۔ہماری ماؤں نے جو زمانہ دیکھا ہم اپنی بیٹیوں کو اُس سے آگے کے عہد میں جینا سکھا رہے ہیں۔ محترمہ فاطمہ جناح،بے نظیربھٹو،عرفہ کریم اور ملالہ یوسف زئی دنیا بھر میں پاکستان کا روشن چہرہ ہیں۔ ڈاکٹرنمیرہ امین کو ہم اُن کے بچپن سے جانتے ہیں وہ نامورماہر تعلیم اور دانشور ڈاکٹرمحمد امین کی صاحبزادی ہیں۔اورشعروادب اور کتاب سے محبت انہیں ورثے میں ملی۔
ڈاکٹر محمد امین کا شمار ان شخصیات میں ہوتا ہے ،جنہوں نے اپنی ساری زندگی شعر وادب کے لیے وقف کردی وہ فلسفے کے استاد ہیں اور ہائیکو ان کی بنیادی پہچان ہے۔اس جاپانی صنف سخن کو انہوں نے اردو میں متعارف کرایا ۔ ڈاکٹرمحمد امین کی خدمات کے اعتراف میں انہیں جاپان کے شاہی ایوارڈ سے بھی نوازا گیااس کے علاوہ وہ بہت سےدیگر اعزازات بھی حاصل کر چکے ہیں ۔

ڈاکٹرصاحب کے ساتھ ہمارا زمانہ طالب علمی سے محبت بھرا تعلق ہے ۔وہ بہت سے علوم اور بہت سی زبانوں پر دسترس رکھتے ہیں ان کی صاحبزادی ڈاکٹرنمیرہ کو بھی ہم اُسی زمانے سے جانتے ہیں جب وہ بچپن میں ڈاکٹر امین کے ہمراہ سول لائنز کالج آیا کرتی تھیں۔ڈاکٹر محمد امین نے اپنی بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی اور وہ سب اپنے اپنے شعبے میں منفردپہچان رکھتی ہیں۔
زیرنظر کتاب ’’دریچے سے جھانکتا منظر‘‘ڈاکٹر نمیرہ کی غزلوں اور نظموں پر مشتمل ہے ۔اس کتاب میں ہمیں عورت کے اُن تمام دکھوں کا احوال دکھائی دیتا ہےجو ڈاکٹر نمیرہ نے دریچے سے جھانکتے مناظر میں دیکھے۔اُردو شاعری میں پروین شاکر ،نوشی گیلانی، ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ اور فہمیدہ ریاض کے نام نسائی ادب میں نمایاں ہیں لیکن فرق یہ ہے کہ پروین شاکراور فہمیدہ ریاض کی طرح ہمیں ڈاکٹر نمیرہ کی شاعری میں وہ بے باکی دکھائی نہیں دیتی جو بسا اوقات شعری حسن کو بھی مجروح کردیتی ہے۔
نمیرہ امین کی شاعری میں محبت کے خوبصورت مضامین تو موجود ہیں کہ محبت شاعری کی بنیاد ہوتی ہے لیکن یہ ایک مشرقی عورت کی محبت ہے ۔
اس کتاب کا نام ہی اس کے مندرجات کی بھر پور عکاسی کرتا ہے کہ عورت کو دنیا کے تمام مناظر دریچے سے جھانک کر ہی دیکھنا ہوتے ہیں ۔۔ بالکل اسی طرح جیسے کسی چڑیا کو ہم پنجرے میں بند کر کے یہ آزادی تو دے دیتے ہیں کہ وہ چہچہاتی رہے ، ہماری سماعتوں میں رس گھولتی رہے لیکن اسے پنجرےمیں ہی ’’ آزاد ‘‘ رہنا ہوتا ہے کہ ہم اسے کھلی فضا میں اڑان بھرنے کی اجازت نہیں دیتے ۔
ہم جس عہد میں جی رہے ہیں اس میں عورت ہی نہیں خود مرد بھی اپنے اظہار کے راستے تلاش نہیں کر پاتے ۔۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر زمانے میں اظہار پر قدغنیں رہیں ۔ طاقت ور قوتیں ہمیشہ سے ہمیں اپنا غلام رکھنا چاہتی ہیں ۔ جمہوریت کی صورت بھی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتی جا رہی ہے ۔ اظہار کے نئے ذرائع نے کہنے کو تو ہمیں بہت کچھ دیا لیکن ہم سے بہت کچھ چھین بھی لیا ۔۔ اس کتاب میں ہمیں اپنے عہد کے دکھ دکھائی دیتے ہیں ۔ ڈاکٹر نمیرہ کے پاس بات کرنے کا سلیقہ بھی ہے اور اظہار کا پیرایہ بھی ۔۔وہ خود کہتی ہیں ہمارے تخلیقی رموز ہمارے حالات اور واقعات کی نسبت سے ترتیب پاتے ہیں ۔
ڈاکٹر نمیرہ کا تعلق ملتان سے ہے انہوں نے اپنی تعلیم یہیں مکمل کی ۔ اور ہاؤس جاب بھی یہیں کیا ۔ سرائیکی وسیب میں عورت جن دکھوں سے دوچار ہے وہ اس سے بخوبی آگاہ ہیں ۔ تیزاب گردی ، کارو کاری ، ریپ اور غیرت کے نام پر قتل جیسے واقعات اس خطے میں عام ہیں ۔۔ اور ان واقعات میں سے بیشتر تو رپورٹ بھی نہیں ہوتے ۔۔ ایسے سسنگین جرائم کے بعد جنسی ہراسانی کو تو ’’ معمولی کیس ‘‘ سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے ۔۔ لیکن ہم صرف اپنے خطے یا اپنے معاشرے کا ذکر کیوں کریں ۔۔ مردانہ حاکمیت کے اس معاشرے میں عورت کا استحصال تو دنیا بھر میں ہو رہا ہے ۔کہیں روایات کے نام پر اور کہیں مذہب کا سہارا لے کر جہاں وراثت کےمعاملے میں بھی عورت کا حصہ نصف یا مرد کی مرضی کے تابع ہے کہ عورت پاک دامن تو ہو سکتی لیکن نبوت تو دور کی بات ہے ولایت کے منصب پر بھی فائز نہیں ہو سکتی ۔۔ حرف آخر یہ کہ اردوکےنسائی ادب میں یہ کتاب بلا شبہ ایک خوبصورت اضافہ ہے۔ اور ہم ڈاکٹر امین اور نمیرہ صاحبہ کے شکر گزار ہیں کہ انہوں اس خوبصورت کتاب کی اشاعت کے لیے ’’ گرودو پیش ‘‘ کا انتخاب کیا ۔
ہم دعا گو ہیں کہ ڈاکٹر نمیرہ کا شعری سفر اسی طرح جاری رہے کہ اردو شاعری میں عو رت کے دکھوں کو بیان کرنے کی ابھی بہت گنجائش موجود ہے۔
کتاب سے چند منتخب اشعار آپ کی نذر ہیں ۔۔
ایماں بہک گئے تو ترازو بھی بک گئے
قاضی بھی راہِ عدل سے جانے کدھر گیا
شجر کس بددعا کی زد میں ہیں
ثمر کیوں شاخ پر لگتے نہیں ہیں
ہوا کیا ہے فسردہ لوگ تو اب
کسی بھی خوف سے ڈرتے نہیں ہیں
مجھے پہلو میں بٹھانا نہیں ممکن تھا اگر
پھر مجھے اپنے مقابل ہی بٹھایا ہوتا

