پی پی 217میں ضمنی انتخابات 17جولائی کوہونے والے ہیں تمام امیدوارو ں کے پاس انتخابی مہم کا وقت 16جولائی تک کا ہے اس طرح اگر عید کی تین چھٹیاں بھی نکال لی جائیں تو انتخابی مہم کے باقی صرف 3دن رہ جاتے ہیں۔الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کر دہ فہرست کے مطابق حلقے کے کل ووٹرز کی تعداد 216996ہے۔ مرد ووٹرز کی تعداد 115158جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 118038ہے۔ اس حلقے میں کل 124پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے ہیں جن میں مردانہ پولنگ اسٹیشن کی تعداد 61اور زنانہ پولنگ اسٹیشن کی تعداد 55ہو گی۔ اس وقت حلقے میں مخدوم شاہ محمود حسین قریشی کے فرزند اور پاکستان تحریک انصاف کے امید وار زین حسین قریشی کا پلڑا بظاہربھاری نظر آ رہا ہے اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔
مہنگائی کی وجہ سے مسلم لیگ نواز کے امید وار سلمان نعیم کو کافی مشکلات کا سامنا کر نا پڑ سکتاہے اگرچہ ان کا دعوی ہے کہ انہوں نے حلقے میں عوام کی فلاح و بہبود کے لئے بہت سے کام کئے ہیں جن میں غریب بچیوں کی اجتماعی شادیاں، ہسپتال کی تعمیر سمیت بہت سے دیگر فلاحی کام بھی شامل ہیں اوراسی طرح پاکستان پیپلز پارٹی نے سلمان نعیم کی حمایت کا اعلان تو کیا ہے لیکن پی پی پی کی کوئی بھی قد آور شخصیت ”شیر“ کے امیدوار کے ساتھ کھڑی نظر نہیں آ رہی البتہ سلمان نعیم کے پوسٹرز پر سید یوسف رضا گیلانی ان کے فرزندان، سجاد حسین عرف شادا و دیگر کی تصاویر دیکھی جاسکتی ہیں۔سلمان نعیم نے اپنا سارا زور رنگیل پور سے بی سی جی چوک تک لگایا ہو ا ہے جو کہ شہری علاقوں پر مشتمل ہے حالانکہ شہر میں نوجوانوں کی اکثریت ”بلے“ کی حامی ہے اس طرح شہری ووٹ بھی تقسیم ہونا ہے۔ سلمان نعیم کے گھر یعنی چکی لوہاراں والی میں بھی ون ٹو ون مقابلہ متوقع ہے کیونکہ بھٹہ برادری ”بلے“ کے امید وار کے ساتھ ہے اسی طرح چوک شاہ عباس کے علاقہ عباس پورہ میں کہ جہاں اکثریت اہل تشیع پر مشتمل ہے وہاں پہلے ہی مجلس وحدت مسلمین کے ضلعی راہنماؤں نے مخدوم شاہ محمود حسین قریشی کی حمایت کا اعلان کیا ہوا ہے اسی طرح ”بلے“ کے امید وار نے وہاڑی چوک، علی ٹاؤن اور 17کسی تک کے علاقے میں اپنی بھرپور انتخابی مہم چلا رکھی ہے۔
جماعت اسلامی کے امید وار ساجد اسماعیل مقابلہ میں تو ہیں لیکن پوسٹرز و بینرز کے علاوہ ان کی انتخابی مہم کہیں بھی نظر نہیں آ رہی ان کے مقابلے میں تحریک لبیک پاکستان کے امید وار زاہد حمیدگجر ”کرین“ کے نشان پر انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں اور گزشتہ شب ”کرین“ کے امید وار کی جانب سے ریلی بھی نکالی گئی۔ایک محتاط اندازے کے مطابق ”کرین“ بھی2000سے3000تک ووٹ لے سکتی ہے۔ اس کا اثر بھی دونوں امید واروں پر بہت زیادہ پڑے گا۔ 2018کے انتخابات کے الیکشن کمیشن کے نتائج کے مطابق محمد سلمان نعیم نے آزاد حیثیت میں 35294ووٹ،پاکستان تحریک انصاف کے مخدوم شاہ محمود حسین قریشی نے 31716ووٹ، پاکستان مسلم لیگ نواز کی تسنیم کوثر نے 21618ووٹ، پاکستان پیپلز پارٹی کی کلثوم ناز نے 3963ووٹ لئے اس طرح ٹوٹل ووٹ 93352ووٹ حاصل کئے گئے۔اس مرتبہ نتیجہ کیا نکلے گا یہ فیصلہ چند روز میں ہو جائے گا لیکن سلمان نعیم کو اب بھی سخت محنت کرنا ہو گی کہ ہار جیت چند ووٹوں سے ہی ہو گی

