عبدالرشید شکورکھیللکھاری

پی ایس ایل 7 ۔۔ کس ٹیم میں کون کون شامل اور ٹکٹوں کا حصول کیسے ممکن؟ : عبالرشید شکور کی خصوصی رپورٹ

پاکستان سپر لیگ دیکھتے ہی دیکھتے اپنے ساتویں سال میں داخل ہوچکی ہے۔ جب 2016 میں اس کا پہلی بار انعقاد کیا گیا تھا تو بہت کم لوگ ایسے تھے جو اس کے باقاعدگی سے ہر سال منعقد ہونے پر یقین رکھتے تھے۔ پی ایس ایل نے اپنے سفر کے دوران کئی نشیب و فراز دیکھے ہیں لیکن ان تمام مشکلات پر قابو پاتے ہوئے یہ لیگ پاکستانی شائقین کے لیے تفریح کا ایک اہم ذریعہ بن چکی ہے۔
اس مرتبہ پی ایس ایل کے میچوں کے لیے دو شہروں کراچی اور لاہور کا انتخاب کیا گیا ہے۔ گذشتہ سال بھی لیگ کے میچز کراچی اور لاہور میں رکھے گئے تھے لیکن کراچی میں چودہ میچوں کے انعقاد کے بعد کووڈ کی صورتحال نے لیگ کو ملتوی کر دینے پر مجبور کردیا تھا اور پھر بقیہ میچوں کو ابوظہبی میں منعقد کرنا پڑے تھے۔پاکستان سپر لیگ 7 کا آغاز 27 جنوری کو کراچی کے نیشنل سٹیڈیم میں دفاعی چیمپئن ملتان سلطانز اور کراچی کنگز کے میچ سے ہوگا۔
کراچی مجموعی طور پر کھیلے جانے والے 34 میں سے 15 میچوں کی میزبانی کرے گا جس کے بعد دس فروری سے یہ میلہ قذافی سٹیڈیم لاہور میں سجے گا۔ لاہور میں 19 میچز کھیلے جائیں گے۔
پہلا پلے آف 23 فروری کو ہوگا جبکہ 24 فروری کو پہلا ایلیمنیٹر کھیلا جائے گا اور 25 فروری کو دوسرا ایلیمنٹر ہوگا۔ فائنل 27 فروری کو کھیلا جائے گا۔
پاکستان سپر لیگ میں حصہ لینے والی تمام چھ ٹیموں نے اپنے سکواڈ کو ڈرافٹ کے ذریعے حتمی شکل دے دی ہے تاہم اس مرتبہ بڑے نام دکھائی نہیں دے رہے ہیں اس کی ایک بڑی وجہ انٹرنیشنل کرکٹ کا مصروف سیزن ہے۔
ملتان سلطانز پاکستان سپر لیگ کی دفاعی چیمپئن ٹیم ہے جس نے گزشتہ سال فائنل میں پشاور زلمی کو 47 رنز سے ہرا کر پہلی بار ٹائٹل جیتا تھا۔ اس مرتبہ بھی ٹیم کی قیادت وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان کریں گے۔ ملتان سلطانز کی انتظامیہ نے رضوان کے علاوہ جنوبی افریقہ کے عمران طاہر اور رائلے روسو، خوشدل شاہ، صہیب مقصود، شان مسعود اور شاہنواز دھانی کو برقرار رکھا ہے۔ اس نے اس بار آسٹریلوی بیٹسمین ٹم ڈیوڈ اور ویسٹ انڈیز کے اوڈین سمتھ اور راومین پاول کو بھی حاصل کیا ہے۔
لاہور قلندر کی قیادت اس مرتبہ شاہین شاہ آفریدی کے سپرد کی گئی ہے۔ اس ٹیم میں افغانستان کے لیگ سپنر راشد خان، جنوبی افریقہ کے ڈیوڈ ویزا اور پاکستان کے محمد حفیظ، فخر زمان اور حارث رؤف نمایاں ہیں۔ ان کے علاوہ انگلینڈ کے ہیری بروک بھی سکواڈ کا حصہ بنے ہیں۔ فل سالٹ کی چند میچوں میں عدم دستیابی کی وجہ سے بین ڈنک بھی لاہور قلندرز کے سکواڈ میں شامل کیے گئے ہیں۔
دو بار کی فاتح اسلام آباد یونائٹڈ نے نیوزی لینڈ کے کالن منرو پر اپنا اعتماد برقرار رکھا ہے۔ سکواڈ کی قیادت شاداب خان کریں گے اور الیکس ہیلز، آصف علی، حسن علی، محمد وسیم جونیئر اور پال اسٹرلنگ کی موجودگی میں یہ ٹیم متوازن نظر آتی ہے۔ اعظم خان کوئٹہ گلیڈی ایٹرز سے اسلام آباد یونائٹڈ میں آئے ہیں البتہ افتخار احمد حیران کن طور پر اسلام آباد یونائٹڈ چھوڑ کر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز میں چلے گئے ہیں۔
وہاب ریاض کی قیادت میں زلمی کی ٹیم کو جارحانہ انداز میں بیٹنگ کرنے والے افغانستان کے حضرت اللہ ززئی کی خدمات حاصل ہیں۔ ان کے علاوہ تجربہ کار شعیب ملک، نوجوان ٹیلنٹ حیدر علی، انگلینڈ کے لائم لونگ اسٹون، ویسٹ انڈین شرفین ردرفرڈ، کامران اکمل اور عثمان قادر بھی ٹیم میں شامل ہیں۔ کامران اکمل نے سلور کیٹگری میں تنزلی کے بعد کھیلنے سے انکار کردیا تھا لیکن بعد میں وہ کھیلنے پر راضی ہوگئے۔
2019 کی فاتح کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی کپتانی اس بار بھی وکٹ کیپر بیٹسمین سرفراز احمد کے پاس ہے۔ کوئٹہ نے انگلینڈ کے ورلڈ کپ وننگ اوپنر جیسن روئے کو حاصل کیا ہے۔ آسٹریلوی فاسٹ بولر جیمز فاکنر اور عمراکمل کا نام بھی اس بار کوئٹہ گلیڈی ایٹرز میں شامل ہے۔ شاہد آفریدی بھی اس سال کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا حصہ بنے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ وہ جیت کے ساتھ پاکستان سپر لیگ کو الوداع کہیں۔شاہد آفریدی پاکستان سپر لیگ میں کراچی کنگز، پشاور زلمی اور ملتان سلطانز کی طرف سے کھیل چکے ہیں۔
کراچی کنگز نے کپتان تبدیل کرتے ہوئے عماد وسیم سے یہ ذمہ داری بابر اعظم کے سپرد کردی ہے۔ اس کے علاوہ انگلینڈ کے کرس جارڈن، لوئس گریگوری اور ٹام ایبل کو بھی حاصل کیا ہے۔ شرجیل خان، محمد عامر اور محمد نبی پہلے ہی اس ٹیم کا حصہ ہیں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق چودہ کرکٹرز ایسے ہیں جو پی ایس ایل کے ابتدائی چند میچوں میں اپنی انٹرنیشنل کرکٹ کی مصروفیات کے سبب موجود نہیں ہونگے لہٰذا ان کی جگہ فرنچائز ٹیموں نے متبادل کھلاڑیوں کو بھی حاصل کیا ہے مثلاً جیسن روئے کی نہ ہونے کی صورت میں ویسٹ انڈیز کے شمرون ہیٹمائر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی نمائندگی کریں گے۔ اسی طرح ملتان سلطانز نے سپلمنٹری راؤنڈ میں انگلینڈ کے آل راؤنڈر ڈیوڈ ولی کا انتخاب کیا ہے۔پاکستان سپر لیگ 7 کی ٹکٹوں کی آن لائن فروخت شروع ہوچکی ہے۔ پہلے مرحلے میں کراچی میں کھیلے جانے والے میچوں کے ٹکٹوں کی فروخت کی جا رہی ہے۔
افتتاحی میچ کے لیے جنرل سٹینڈ کے ٹکٹ کی قیمت پانچ سو روپے مقرر کی گئی ہے جبکہ اس میچ کے فرسٹ کلاس انکلوژر کے ٹکٹ کی قیمت پندرہ سو روپے، پریمیئم انکلوژر کی ٹکٹ کی قیمت دو ہزار روپے اور وی آئی پی انکلوژر کے ٹکٹ کی قیمت ڈھائی ہزار روپے رکھی گئی ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق فائنل میچ کے لیے جنرل سٹینڈ کا ٹکٹ پندرہ سو روپے کا رکھا گیا ہے جبکہ وی آئی پی انکلوژر کا ٹکٹ چار ہزار روپے کا ہوگا۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس بار یہ پیشکش بھی کی ہے کہ اگر شائقین سترہ جنوری تک فرسٹ کلاس اور جنرل انکلوژر کی ٹکٹ بک کرائیں گے تو انہیں رعایت بھی دی جائے گی تاہم اس رعایت میں پلے آف اور فائنل میچ شامل نہیں ہیں۔
ٹکٹ خریدنے کے لیے کووڈ ویکسینیشن سرٹیفکیٹ کی شرط لازمی رکھی گئی ہے۔ کوئی بھی شخص ایک شناختی کارڈ پر زیادہ سے زیادہ چھ ٹکٹیں خرید سکتا ہے۔
این سی او سی کے فیصلے کے مطابق بارہ سال سے زائد عمر کے تمام افراد کے لیے سٹیڈیم میں داخلے کے لیے کووڈ کا ویکسینیشن سرٹیفکیٹ دکھانا لازمی ہوگا۔
پاکستان سپر لیگ کے میچوں سے قبل شائقین کو جس بات کا ہمیشہ انتظار رہتا ہے وہ ہے لیگ کا آفیشل گانا۔یہ فیصلہ کرنا کبھی بھی آسان نہیں رہا کہ پی ایس ایل کا سب سے مقبول اور مشہور آفیشل نغمہ کون سا رہا ہے۔ ہر گانے کی تعریف بھی ہوتی رہی ہے اور تنقید بھی۔ دلچسپ تبصرے بھی ہوتے رہے ہیں اور میمز بھی بنتی رہی ہیں۔
اب تک علی ظفر، فواد خان، علی عظمت، عاصم اظہر، عارف لوہار، ہارون رشید، نصیبو لال اور آئمہ بیگ کو لوگ ان گانوں میں دیکھ چکے ہیں۔کیا اس بار یہ آفیشل نغمہ فضا میں گونجے گا یا اس کے بغیر ہی ایونٹ منعقد ہوجائے گا، اس سوال پر فی الحال خاموشی طاری ہے۔

( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker