اہم خبریں

کیا ایران طالبان کو تسلیم کرنے جا رہا ہے ؟ : بی بی سی کی خصوصی رپورٹ

تہران : طالبان کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے نو جنوری کو اقتصادی تعلقات اور افغان پناہ گزینوں کے بارے میں بات چیت کے لیے ایران کا دورہ کیا ہے۔ کابل میں طالبان کے اقتدار پر قبضے کے بعد سے یہ اُن کے سب سے سینیئر رہنماؤں کا تہران کا پہلا دورہ ہے۔
طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے افغانستان کے وفد کی قیادت کی۔ اس وفد نے ناصرف ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان بلکہ افغان حزب اختلاف کی اہم شخصیات سے بھی ملاقات کی۔ طالبان کے ترجمان نے اپنے وزیرِ خارجہ کی ایرانی حکام کے ساتھ ملاقات کو ’مثبت اور تعمیری‘ قرار دیا ہے۔
گذشتہ سال اگست میں افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے کسی بھی ملک نے انھیں تسلیم نہیں کیا ہے لیکن ایران ان چند ممالک میں سے ایک ہے جس نے طالبان کے ساتھ بات چیت جاری رکھی اور مشرق میں اپنے اس پڑوسی (افغانستان) کے ساتھ تجارتی تعلقات اور روابط بھی برقرار رکھے ہی۔تہران کا اصرار ہے کہ اس کا طالبان کی عبوری حکومت کو تسلیم کرنے کا ابھی کوئی ارادہ نہیں ہے لیکن متقی کے دورے سے کچھ اور ہی اشارہ ملتا ہے۔
ایران کئی مہینوں سے کہہ رہا ہے کہ وہ طالبان کو افغانستان کے ’جائز حکمران‘ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔دس جنوری کو ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے ایران کے اس مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ تہران اسلام پسند گروپ (طالبان) کی عبوری حکومت کو تسلیم کرنے کی ’پوزیشن میں نہیں ہے۔‘
کابل میں ایرانی سفیر بہادر امینیان نے تین جنوری کو افغانستان کے نجی ٹی وی چینل طلوع نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ایران کے طالبان کو تسلیم کرنے کے لیے طالبان کو ’ایک جامع حکومت‘ تشکیل دینی ہو گی جو افغانستان میں مختلف نسلی گروہوں کی عکاسی کرتی ہو۔
متقی کے دورے سے پہلے ایک ایرانی نیوز ویب سائٹ نے الزام لگایا تھا کہ تہران افغان سفارت خانہ طالبان کے حوالے کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ تاہم وزارت خارجہ نے اس رپورٹ کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ 1961 کے ویانا کنونشن کی خلاف ورزی ہے۔
طلوع نیوز کے ساتھ اپنے انٹرویو میں امینیان نے کہا ہے کہ جیسے ہی افغانستان میں کوئی جامع حکومت تشکیل پا جاتی ہے تو ایران نہ صرف طالبان کی حکومت کو تسلیم کرے گا بلکہ وہ ’دوسرے ممالک کو بھی قائل‘ کرے گا کہ وہ ایسا کریں۔
انھوں نے مزید کہا کہ جامع حکومت ’یا تو انتخابات کے ذریعے یا افغانستان کی اپنی روایات کے ذریعے‘ قائم کی جا سکتی ہے۔ ایک ایسے ملک کے نمائندے کی طرف سے یہ ایک دلچسپ بیان ہے جس کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے گذشتہ سال انتخابات نہ کروانے پر عرب شاہی حکومتوں کو تنقید اور طنز کا نشانہ بنایا تھا۔
ایرانی رہنما نے جون 2021 میں کہا تھا کہ ’اکیسویں صدی کے وسط میں کچھ ممالک ایسے بھی ہیں جنھیں۔۔۔ ایک ہی قبیلہ (خاندان) چلا رہا ہے۔ ان ممالک تک انتخابات کی خوشبو تک نہیں پہنچی ہے۔ ان کے عوام کو بیلٹ باکس اور پھل کے ڈبے میں فرق معلوم نہیں ہے۔‘
اس لیے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایران کے لیے طالبان کے زیرِ قیادت افغانستان کو تسلیم کرنے میں لوگوں کی مرضی کی کوئی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس کا مطالبہ ہے کہ انتظامیہ میں مختلف قبائل کے لوگ شامل ہوں۔
گیارہ جنوری کو اخبار ’جمہوری اسلامی‘ نے کہا تھا کہ کیونکہ طالبان نے انتخابات کو مسترد کر دیا ہے اس لیے اس کا مطلب ہے کہ ’ایران، اسٹیبلشمنٹ کے اعلیٰ حکام کی طرف سے مقرر کردہ شرائط کی بنیاد پر طالبان کو کسی طرح بھی تسلیم نہیں کرے گا۔‘لیکن دوسری طرف ایران کا بیان کچھ اور ہی اشارہ دیتا ہے۔ اس سے لگتا ہے کہ ایران طالبان کی قانونی حیثیت کو تسلیم کرنے کی طرف قدم بڑھا رہا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے امیر عبداللہیان اور متقی کی ملاقات کے حوالے سے اپنے بیان میں اعلیٰ طالبان ایلچی کو ’افغانستان کی وزارت خارجہ کا قائم مقام سربراہ‘ کہا ہے۔ صرف ایک دن پہلے سرکاری نیوز ایجنسی ارنا نے انھیں ’طالبان کے وزیر خارجہ‘ کہا تھا۔

( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker