تجزیےحبیب خواجہلکھاری

حبیب خواجہ کا تجزیہ : اناڑی دیگ پکا رہا ہے سال 2022 ء بھی پہلے جیسا ہی ہو گا ؟

کہتے ہیں کہ دیگ کا کوئی بھی ایک دانہ باقی دیگ ہی کیطرح ہوتا ہے۔ پچھلے برسوں کیطرح رواں سال کی دیگ بھی اناڑی پکانے والوں کے ہاتھوں پک رہی ہے. دیگ کو دم پہ رکھنے سے پہلے ذائقہ چکھا جاتا ہے. دم سے اٹھنے کے بعد اور آخری نوالے تک یہی ذائقہ برقرار رہتا ہے جبکہ نمک، مرچ اور دیگر مصالحہ جات کا توازن بھی وہی رہتا ہے.
تین سال سے مسلسل دیگیں برباد کرنے کے بعد اب آخر کونسا نیا مصالحہ ڈالے گا، تیل گھی بدلے گا، یا اب ہر قدم پر وقت کے تعین کا صحیح خیال رکھے گا. یہاں تو صاف لگتا ہیکہ پکانے والا بالکل ہی اناڑی ہے. اسے نہ تیل کی مقدار کا صحیح اندازہ ہے؛ نہ ہی یہ معلوم کہ نمک، مرچ اور دیگر مصالحہ جات کسقدر ڈلیں گے؟ اور کونسی چیز کب ڈالنی ہے؟
شادی بیاہ یا دیگر تقریبات کیلیے کھانا پکوانے سے قبل باقاعدہ پکانے والے کی اسپیشیلیٹی اور اسکے ہاتھ کا ذائقہ چکھا جاتا ہے. مگر شومئی قسمت کہ ابا جی حضور نے کمال محبت پدرانہ کے مارے اپنے نکمے، اناڑی اور بڑبولے نِکے کو پکائی پہ لا چھوڑا ہے. شادی کے دسترخوان الٹنے سے کم تو اس سے ہو نہیں پائے گا. خیر ابا کو کونسا نقصان بھروائی کا کوئی خوف یا اندیشہ ہے؟
سو 2022 کے پہلے دس دنو‍ں کے بیچ ہی قوم پر ایکبار پھر واضح ہو گیا ہے کہ انتظامی امور پر انکی سمجھ بوجھ اور گرفت کیسی ہے. اس حوالے سے صاف واضح ہو گیا ہے کہ یہی لوگ رہے تو انتظامات اس سال اور اقتدار کے آخر تک ایسے ہی رہینگے. چاولوں میں کبھی تیل کم زیادہ تو کبھی نمک، کبھی صحیح وقت پر بہتر دم نہ رکھنے سے چاول کچے رہیں گے تو کبھی پانی زیادہ پڑ جانے سے نمکین بھت تیار ہو گا. اناڑیوں سے اس سے بہتر کی توقع آخر ہو بھی کیسے سکتی ہے.
محرم ہو، عیدیں ہوں، بسنت یا موسم برسات، ہر علاقے کا ڈی سی قبل از وقت منجملہ انتظامات کو دیکھتا ہے. مختلف شعبوں کے ماہرین اور نمائندہ شخصیات کیساتھ وہ ضروری میٹنگیں کرتا ہے، اور سفارشات کی روشنی میں ضروری اقدامات کیلیے احکامات جاری کرتا ہے.
محرم کے دوران امن عامہ کیلیے ضروری ہو تو موبائل نیٹ ورک بلاک کرنے کا فیصلہ جہاں وفاقی حکومت لیتی ہے، وہیں ڈپٹی کمشنر ڈسپنسری اور پیرامیڈیکل سٹاف کی موجودگی یقینی بنانے کی تگ و دو کرتا ہے، اور مختلف مکاتب فکر کے علماء کیساتھ امن و عامہ کے حوالے سے گفتگو کرتا ہے. عید الاضحٰی ہو تو جانوروں کی مارکیٹوں کے نظام، انکی صحت کیلیے ضروری اقدامات وغیرہ کا جائزہ لیا جاتا ہے، اور گلیوں و شاہراؤں کو آلائشوں سے پاک رکھنے کیلیے پیشگی جستجو کیجاتی ہے. عیدالفطر کے موقع پر دیسی شراب کی بھٹیوں اور جعلساز مافیا کا محاسبہ کیا جاتا ہے. جبکہ آندھیوں اور بارشوں کا موسم جب سر پہ ہوتا ہے تو شہری انتظامیہ یقینی بناتی ہیکہ کسی دیوقامت پبلسٹی بورڈ کے گرنے سے قیمتی جان و مال کا ضیاں نہ ہو. بسنت کے دنوں میں اسی شہری انتظامیہ کی سرکردگی میں میٹل ڈور کے استعمال پر عائد پابندی پر بزور عملدرآمد کرایا جاتا ہے.
بعینہٖ، اس حکومت سے قبل مری میں برفباری کے پیش نظر ہر سال پیشگی انتظامات کئے جاتے رہے ہیں، ہیوی مشنری اور عارضی کیمپس قبل از وقت تعینات کئے جاتے تھے. شہری انتظامیہ پر اکتفا نہیں کیا جاتا تھا، بلکہ صوبائی کابینہ کے ممبران یا وزیر اعلیٰ خود تمام ضروری انتظامات کا جائزہ لینے کیلیے آ موجود ہوتا تھا. پچھلی حکومت کے رخصت ہوتے ہی یہ پیشگی انتظامات و اقدامات بھی قصہ پارینہ بن گئے. اناڑیوں کا پھوہڑ پن ہر شعبے میں ننگا ناچ ناچنے لگا ہے، جو بجائے اپنی لاعلمی و نااہلی کو چھپانے کے، الٹا متاثرین کو ہی الزام دیتے ہیں، تو کبھی بڑھئی کیطرح آلات کا رونا روتے ہیں.
ان نا اہلوں کی اس بد انتظامی نے مری کے سنو فالنگ کے روایتی رومانوی مناظر کو اس سال سفید موت میں ڈھال دیا ہے. اب نجانے کب تک ملکۂِ کوہسار قوم کے دل و ضمیر میں کفن کیطرح برف کی دبیز چادر میں لپٹی رہے گی.
روایات کے برخلاف، اس سال مخصوص جگہوں پر بروقت ہیوی مشنری پہنچائی گئی، نہ ہی کیمپس بنائے گئے. حالانکہ محکمہ موسمیات شدید برفباری کی پیشین گوئی کر چکا تھا. مگر کسی بھی قسم کے پیشگی اقدامات سے مجرمانہ غفلت برتی گئی. یوں معصوم جانوں کا ضیاع سراسر حکومت کے سر ہے. اپنی نا اہلی، بد انتظامی، اور پیشبندی سے غفلت کی بناء پر حکومت نے اس قیامت صغری کو جیسے خود دعوت دی ہے.
پیشگی اقدامات اور حادثات پر اناڑیوں کی گرفت یوں کمزور رہی، اور حالات ایسے ہی دگرگوں رہے تو آئندہ انتخابات خونی ہو سکتے ہیں، جو یقیناً کسی خانہ جنگی تک بھی منتج ہو سکتے ہیں. کتنی ہی ایسی قیامت ہائے صغریٰ دراصل کسی قیامتِ کبریٰ کا پیش خیمہ بھی ثابت ہو سکتی ہیں. یاد رہے، جاتے جاتے فوجی آمر مشرف نے کہا تھا، “پاکستان کا اللہ ہی حافظ..!”. مگر اسکے جانے کیبعد بھی اگر سب ٹھیک رہا ہے تو اسکا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اس اناڑی کے بعد بھی ایسا ہی رہیگا. نوشتۂِ دیوار ہیکہ اس اناڑی کے نقصانات کی تلافی ایک طویل عرصے تک نہیں ہو سکے گی.
اس سال (2022) اور اقتدار کے باقی ماہ، یہ حکومت کچھ اچھا بھی پرفارم کر سکتی ہے..! یہ تو سوچنا ہی جیسے احمقوں کی جنت میں رہنا ہے. دیگ کا آخری نوالہ بالکل پہلے ہی کیطرح ہو گا، پکانے والے کے اناڑی ہونے اور پھوہڑ پن کی بھرپور گواہی دیگ کا ایک ایک دانہ دیگا. مگر یہ ابا لوگ سمجھتے آخر کیوں نہیں….؟ بربادی کے اور کون سے ریکارڈ بنوانے ہیں اس نامعقول، پھوہڑ اور جاہل اناڑی سے..؟ بڑے شوق سے بنوائیں نئے ریکارڈ، بلکہ ورلڈ ریکارڈ ہی بنوا لیں، 2022 میں اور دل چاہے تو 2023 کے عام انتخابات تک. کس کا آخر کچھ گھر سے جا رہا ہے.

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker