تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے آئی ایس آئی کے ڈی جی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کی پریس کانفرنس پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے براہ راست جھوٹ اور نیم سچ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس گفتگو میں باتوں کو تناظر سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ’میں ان الزامات کا ایک ایک کرکے جواب دے سکتا ہوں لیکن اس سے فوج کو بڑی شرمندگی ہوگی اور ملک کو نقصان ہوگا‘۔ تاہم سابق وزیراعظم نے قومی انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ کو ایک بین الاقوامی میڈیا ہاؤس بی بی سی سے ایک انٹرو میں براہ راست ’جھوٹا‘ کہا ہے۔ یہ طرز عمل کسی طرح آئی ایس آئی کی شہرت، فوج کے وقار یاقومی مفاد کی حفاظت کے لئے موزوں نہیں ہوسکتا۔
دو روز پہلے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم نے آئی ایس پی آر کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار کے ہمراہ ملکی سیاسی امور، عمران خان کی غلط بیانیوں اور بعض درون خانہ وقوعات کے بارے میں ریکارڈ کی درستی اور سچ بیان کرنے کے لیے ایک پریس کانفرنس منعقد کی تھی۔ قومی انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ کی طرف سے اس قسم کی میڈیا ٹاک غیر معمولی پیش رفت تھی جسے ملکی صحافیوں، تجزیہ نگاروں اور سیاسی حلقوں کے علاوہ تحریک انصاف نے بھی نوٹس کیا ۔ ان سطور میں بھی اس پریس کانفرنس کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا جاچکا ہے جس سے فوج کے سیاسی معاملات سے علیحدہ رہنے کے عزم کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ سیاسی معاملات سے گریز کرنے والے ادارے کے اہم عہدیداروں کو بہر صورت ملکی سیاسی امور پر اظہار خیال کرنے یا بعض نظر انداز کئےگئے حقائق کو سامنے لانے کے لئے براہ راست میڈیا سے بات نہیں کرنی چاہئے تھی۔ اس پریس کانفرنس میں خاص طور سے آئی ایس آئی کے سربراہ کی صحافیوں سے گفتگو کی وجہ سے قومی سطح پر تشویش اور پریشانی سامنے آئی ہے۔
اس پریس کانفرنس میں جن امور پر بات کی گئی ہے انہیں وزیر اعظم یا وفاقی حکومت کے دیگر ارکان کے ذریعے سامنے لایا جاسکتا تھا۔ یا آئی ایس پی آر کےسربراہ اکیلے ہی میڈیا سے گفتگو کرکے فوج کی پریشانی بیان کرسکتے تھے۔ خاص طور سے آئی ایس آئی کے سربراہ کا پریس کانفرنس منعقد کرنا غیر معمولی واقعہ ہے اور تحریک انصاف کے لیڈروں نے بھی اسی پہلو کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ۔ تاہم اس صورت حال سے یہ اندازہ کرنا بھی مشکل نہیں ہے کہ تحریک انصاف اپنی جارحانہ اور ذاتی کامیابی و اقتدار پر مبنی سیاسی مہم کو اس انتہا تک لے آئی ہے کہ آئی ایس آئی کے سربراہ کو خود عمران خان کے جھوٹ اور دوہری حکمت عملی سے پردہ اٹھانے کے لئے سامنے آنا پڑا۔ ان کی باتوں سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ تحریک انصاف کے چئیرمین کی طرف سے فوج میں عسکری قیادت کو غدار کہنے ، میر صادق و جعفر یا نیوٹرلز کے طعنے دینے اور جانور سے تشبیہ دینے کے طرز عمل سے شدید تشویش ہے جس کی وجہ سے ان امور کو اعلیٰ ترین فوجی نمائیندوں کے ذریعے قوم کے سامنے پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اس افسوسناک فیصلہ کے پس منظر کے بارے میں کچھ کہنا بہت مشکل ہے لیکن فوج کے لئے بطور ادارہ خود کو اس حد تک دفاعی پوزیشن پر لانا آسان اقدام نہیں تھا کہ اس کی اہم ترین انٹیلی جنس ایجنسی کا سربراہ میڈیا کے سامنے بیٹھ کر اپنے ادارے کی پوزیشن واضح کرنے کی کوشش کرے۔ اس فیصلہ کی بظاہر دو ہی وجوہات ہوسکتی ہیں:
ایک : شہباز شریف کی قیادت میں ملکی حکومت نے تن تنہا موجودہ صورت حال کی سیاسی اونر شپ لینے سے انکار کرتے ہوئے فوجی قیادت پر واضح کردیا ہے کہ عمران خان کی شکل میں جو ہائیبرڈ لیڈر شپ انہوں نے ’پیدا‘ کی ہے ، اس سے نمٹنے کے لئے انہیں خود حقائق قوم کے سامنے پیش کرنا ہوں گے تاکہ انہیں قابل اعتبار اور درست مانا جاسکے ۔ سیاسی لیڈر جو بیان بھی دیں گے ، اسے آسانی سے جھوٹ کا پلندہ قرار دے کر مسترد کیا جاسکے گا۔
دوئم: عمران خان اور تحریک انصاف کی قیادت نے پہلے سائفر اور تحریک عدم اعتماد کی وجہ سے مسلسل جھوٹ بولا۔ اس جھوٹ کو پاکستانی عوام کی ایک بہت بڑی تعداد کے ذہنوں میں یوں راسخ کردیا گیا ہے کہ اس کی صداقت یا جواز پر کوئی معقول سوال اٹھانے کی گنجائش ہی ختم کردی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی عمران خان نے خاص طور سے اپنی تقریروں میں ایک غیر ملکی ایجنڈے کی بنیاد پر موجودہ حکومت ’مسلط‘ کرنے میں فوج کو سہولت کار قرار دیتے ہوئے شدید نکتہ چینی کا نشانہ بنایا۔ ان کا مؤقف رہا ہے کہ امریکہ نے ایک سازش کی، اس سازش کے نتیجہ میں پاکستان کے بدعنوان سیاست دانوں کو رشوت دی گئی یا انہیں ان کے جرائم سے ’این آار او‘ دلوانے کا وعدہ کیا گیا ۔ اسی سازش کے نتیجہ میں قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد منظور کی جاسکی۔
اس مرحلہ پر فوج نے سیاسی انجینئرنگ کرنے اور ماضی کی طرح بعض چھوٹے سیاسی گروہوں کو بدستور تحریک انصاف کی حمایت جاری رکھنے پر مجبور کرنے کے لئے دباؤ ڈالنے سے انکار کردیا۔ عمران خان جب بطور وزیر اعظم اپنی کرسی بچانے کے لئے ہر حد پار کرنے کی تگ و دو کررہے تھے، تب فوج نے غیر سیاسی رہنے کا فیصلہ کرتے ہوئے عمران خان کی مدد سے انکار کردیا۔ فوج کا خیال تھا کہ رائے عامہ چونکہ عسکری اداروں کو آئینی کردار تک محدود رکھنا چاہتی ہے تو اس فیصلہ کا احترام کیا جائے گا اور فوج غیر جانبدار رہ کر ملکی دفاع اور قومی سلامتی پر توجہ مبذول کرسکے گی۔ عوام کے اسی تاثر کو عمران خان نے سائفر اسکینڈل اور سازشی تھیوری کے نام پر ایک مؤثر بیانیہ میں تبدیل کیا اور فوج پر اپنی پوزیشن تبدیل کرنے کے لئے دباؤ بڑھانے کی کوشش کی ۔ فوج کو بدنام کرنے کے لئے ہر ہتھکنڈا اختیار کیا گیا۔ ایوان صدر میں عمران خان کی ’خفیہ‘ ملاقاتوں میں بھی جب عمران خان کو یہ رویہ ترک کرنے پر آمادہ نہیں کیا جاسکا تو فوج کو یہ تکلیف دہ فیصلہ کرنا پڑا کہ آئی ایس آئی کے سربراہ بعض ایسے حقائق قوم کے سامنے رکھ دیں جو پہلے ہی کسی نہ صورت میں بیان کئے جاچکے ہیں لیکن سیاسی مفادات سے مغلوب تحریک انصاف کی قیادت بدستور انہیں فوج دشمن پرپیگنڈا کے لئے استعمال کررہی ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم نے دو امور پر فوکس کیا تھا۔ ایک اگر فوجی قیادت غدار ہے تو آپ رات کے اندھیرے میں اس سے کیوں ملتے ہیں۔ یا پھر کیوں جنرل باجوہ کو تاحیات آرمی چیف رہنے کی پیش کش کی گئی تھی؟ ان کا دوسرا نکتہ امریکہ میں پاکستانی سفیر اسد مجید کے سفارتی مراسلہ کو سازش کے طور پر پیش کرنے کے بارے میں تھا۔ اس سازشی نظریہ کو مسترد کرتے ہوئے آئی ایس آئی کے سربراہ نے واضح کیا کہ کسی سازش کے ثبوت موجود نہیں لیکن عمران خان جان بوجھ کر اس مراسلہ کو سازش کے طور پر پیش کرکے سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ قومی انٹیلی جنس کے سربراہ کی طرف سے یہ وضاحت دراصل تحریک انصاف کے نام نہاد سیاسی بیانیہ کے غبارہ سے ہوا نکالنے کے لئے ضروری سمجھی گئی۔ تحریک انصاف کے پاس اس کہانی کو کوئی دوسرا پہلو موجود نہیں ہے تاہم سیاسی پارٹی کے طور پر اسے اپنی پوزیشن واضح کرنا تھی۔ اسی لئے پہلے شاہ محمود قریشی اور دیگر لیڈروں نے مل کر ایک پریس کانفرنس میں آئی ایس آئی کے سربراہ کی پریس کانفرنس کو نامناسب قرار دیا اور یہ عمومی تبصرہ کیا کہ یہ باتیں سیاق و سباق کے بغیر کی گئی ہیں۔ البتہ ان لیڈروں نے نہ تو سائفر کو سازش قرار دینے پر اصرار کیا اور نہ ہی اس حقیقت سے انکار کیاکہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو تاحیات آرمی چیف رہنے کی پیش کش کی گئی تھی۔
یہ ممکن تھا کہ اس پریس کانفرنس کے بعد اس افسوسناک بحث کو دفن کردیا جاتا اور عمران خان اپنی سیاسی تحریک کے دوران صرف عوامی مسائل پر فوکس کرتے یا موجودہ حکومت کی غلطیوں کی نشاندہی کے لئے تقاریر کرتے ۔ تاہم عمران خان کو شاید جلد ہی یہ اندازہ ہوگیا کہ اس معاملہ پر ان کی خاموشی کو کمزوری سمجھا جائے گا اور نظام تبدیل کرنے کے بارے میں ان کا بیانیہ اوندھے منہ آگرے گا۔ اسی لئے انہوں نے اب لانگ مارچ کے دوران آئی ایس آئی کے سربراہ کو براہ راست چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا۔ پہلے یہ کہا گیا کہ فوج کے وقار اور قوم کے مفاد میں ، میں آئی ایس آئی کے سربراہ کی باتوں کا جواب نہیں دینا چاہتا۔ اب بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے جنرل ندیم انجم کی پریس کانفرنس کو ’احمقانہ ‘ قرار دینے کے علاوہ جھوٹ اور آدھا سچ کہا ہے۔ دلچسپ پہلو البتہ یہ ہے کہ عمران خان نے اپنے دیگر ساتھیوں کی طرح نہ تو اس بات پر اصرار کیا ہے کہ سفارتی مراسلہ واقعی امریکی سازش کا دستاویزی ثبوت تھا اور نہ ہی یہ نشاندہی کی ہے کہ جنرل انجم نے ایسا کون سا جھوٹ بولا تھا، جس کا جواب دیناقومی مفاد کے خلاف ہوگا؟
حقیقت تو یہی ہے کہ اس تنازعہ میں جس کا جتنا بھی کردار ہو لیکن فوج کا وقار، قومی سلامتی سے متعلق امور اور ملکی امن و امان کی صورت حال کو شدید خطرات لاحق ہوئے ہیں۔ کوئی قومی لیڈر جب اپنی ہی ایجنسی کو جھوٹا کہے گا تو وہ دشمن کے ہاتھ مضبوط کرنے کے علاوہ ، اسے اپنے اداروں کے خلاف مزید جھوٹ پھیلانے کا موقع فراہم کرے گا۔ عمران خان کا جھوٹ بہت پہلے آشکار ہوچکا تھا ۔ فوجی قیادت کی پریس کانفرنس نے بس اس کی تصدیق کی تھی ۔ البتہ اب عمران اپنی بدحواسی میں اداروں پر حملہ آور ہورہے ہیں تو اسے جمہوریت بحالی کی جد و جہد سمجھنے کی بجائے ، ہوس اقتدار میں کسی بھی حد سے گزرنے کا رویہ کہا جائے گا۔ یہی طرز عمل مشکلات میں اضافہ اور غیر متوقع تصادم کا سبب بنے گا۔
عمران خان اگر واقعی یہ سبق سیکھ چکے ہیں کہ وہ فوج کی مدد سے اقتدار میں نہیں آنا چاہتے تو انہیں لانگ مارچ کی بجائے اپنے ساتھیوں کو قومی اسمبلی میں واپس بھیج کر پارلیمانی سیاست میں کردار ادا کرنے کی ہدایت کرنی چاہئے تھی۔ اگر وہ واقعی یہ مانتے ہیں کہ ایجنسیاں سیاسی لیڈروں کے بارے میں جھوٹ بولتی ہیں تو انہیں سب سے پہلے نواز شریف ، شہباز شریف، آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کرکے اپنے ماضی کے گمراہ کن اور بے بنیاد الزامات کی معافی مانگنی چاہئے۔ کیوں کہ آج تک انہوں نے شریف و زرداری خاندان پر جتنے بھی الزامات لگائے ہیں، ان میں ایک بھی عدالتوں میں ثابت نہیں ہؤا ۔ اس کے علاوہ وہ خود یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ یہ ساری باتیں ایجنسیوں نے انہیں بتائی ہیں، اس لئے یہی سچ ہے۔ اب وہی ایجنسیاں اگر کچھ سچ اپنی ہی زبان سے عمران خان کے بارے میں بتا رہی ہیں تو انہیں کیسے جھوٹ مان لیا جائے؟
آئی ایس آئی کو سیاسی معاملات پر پریس کانفرنس نہیں کرنی چاہئے تھی لیکن اب عمران خان کو اس پریس کانفرنس کی بنیاد پر اپنا سیاسی قد اونچا کرنے کی غلطی نہیں کرنی چاہئے۔ ابھی یہ طے نہیں ہؤا کہ عسکری ادارے مکمل طور سے سیاسی معاملات سے دست بردار ہوچکے ہیں۔ اگر موجودہ سیاسی بحران، قومی سلامتی کے لئے خطرہ بنتا دکھائی دیا تو کسی بھی مرحلے پر فوج ملک و قوم کی حفاظت کے نام پر کوئی بھی ناخوشگوار فیصلہ کرسکتی ہے۔ موجودہ حکومت اس سلسلہ میں ایسے کسی اقدم کو ’آئینی چھتری‘ فراہم کرنے پر راضی ہوگی۔ عمران خان اگر ملکی سیاست میں طویل المدت کردار ادا کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اتحادی حکومت سے تصادم کی بجائے مکالمہ کی کوشش کرنی چاہئے۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

