تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : تحریک انصاف کے ارکان’ برائے فروخت‘ کیوں ہیں؟

وزیر اعظم عمران خان نے الزام لگایا ہے کہ اپوزیشن حکومت کے خلاف سیاسی تحریک، پارلیمانی بلیک میلنگ اور دباؤ کے دوسرے ہتھکنڈوں میں ناکام ہوکر اب سینیٹ کے انتخاب میں تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کو خریدنے کی تیاری کررہی ہے۔ منڈی سجا لی گئی ہے اور قیمتیں لگائی جارہی ہیں۔ اسی لئے سینیٹ میں خفیہ ووٹنگ پر اصرار کیا جارہا ہے۔ یہ الزام لگاتے ہوئے البتہ وزیر اعظم نے یہ وضاحت نہیں کی کہ انہوں نے اپنی پارٹی میں ایسے لوگ کیوں جمع کررکھے ہیں جو ہر وقت بکنے کے لئے تیار رہتے ہیں؟
سینیٹ انتخاب کے حوالے سے وزیر اعظم جس طرح بوکھلائے ہوئے ہیں، وہ ان کے قلبی خوف کی واضح علامت ہے۔ آج شجر کاری سےمتعلق ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے حسب معمول سیاسی معاملات پر گفتگو کرنے اور اپوزیشن لیڈروں پر پرانے الزامات عائد کرکے اپنی باتوں کو قابل قبول بنانے کی کوشش کی ۔ پر جوش الفاظ اور بلند آہنگ دعوؤں سے لیس اس تقریر کو یا تو عمران خان کا اعتراف شکست کہا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے مخصوص طریقے یہ تسلیم کررہے ہیں کہ سینیٹ انتخاب میں اگر سپریم کورٹ نے غیر معمولی طور پر آئین کی شق 226 کو نظر انداز کرتے ہوئے حکومت کی خوشنودی کے لئے ’خفیہ ووٹنگ‘ کو ناجائز قرار نہ دیاتو ان کی پارٹی کو شدید سیاسی نقصان کا سامنا ہوگا۔ اسے اگر شکست کا خوف نہ سمجھا جائے تو سپریم کورٹ پر دباؤ کا ہتھکنڈا مانا جائے گا۔ سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بنچ اس وقت اس معاملہ میں صدارتی ریفرنس کی سماعت کررہا ہے۔ ایسے موقع پر وزیر اعظم سینیٹ انتخاب خفیہ ووٹنگ سے کروانے کو بدترین اخلاقی گراوٹ قرار دے کر سپریم کورٹ سے قوم کا ’اخلاق ‘ درست کرنے والے فیصلے کی اپیل کررہے ہیں۔
یہ بدحواسی ان دونوں میں سے کسی وجہ سے بھی ہوسکتی ہے یا اس میں دونوں عنصر تلاش کئے جاسکتے ہیں ۔ کیوں کہ دونوں معاملے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر سپریم کورٹ حکومت کی بات مان لیتی ہے اور آئین کی واضح ہدایت کو کسی بھی عذر کی بنیاد پر نظر انداز کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے تو درحقیقت عمران خان کو اپنے ارکان اسمبلی پر آمریت مسلط کرنے اور انہیں پارٹی فیصلہ کے مطابق ووٹ دینے کا پابند کیا جاسکے گا۔ کیوں کہ اوپن ووٹنگ میں ارکان ا سمبلی پارٹی قیادت سے براہ راست تصادم کا خطرہ مول نہیں لیں گے۔ لیکن یہ بھی واضح ہونا چاہئے کہ عمران خان جس شدت سے معاملہ کو ایک سمت دھکیل رہےہیں اور تحریک انصاف کے ارکان میں مختلف سطح پر مختلف وجوہ کی بنا پر جو ناراضی و بے چینی پائی جاتی ہے، وہ اپنے اظہار کا کوئی دوسرا راستہ تلاش کرسکتی ہے۔سیاسی پارٹیاں مشاورت اور باہمی احترام کی بنیاد پر کھڑی ہوتی ہیں۔ لیکن عمران خان اپنے سیاسی ہتھکندوں اور قیادت کے طریقوں سے یہ واضح کرتے رہے ہیں کہ ان کے سوا سب کم تر اور کم عقل ہیں۔ حیرت ہے کہ طویل سیاسی جد و جہد کے بعد اقتدار تک پہنچنے کا دعویٰ کرنے کے باوجود عمران خان یہ تو تسلیم کررہے ہیں کہ ان کی پارٹی کے ارکان روپے لے کرووٹ بیچ سکتے ہیں لیکن یہ سمجھنے پر آمادہ نہیں ہیں کہ پارٹی کی ہر سطح پر ان کی قیادت کے خلاف کیوں بے چینی پائی جاتی ہے۔ کیا وجہ ہے کہ مرکزی سطح پر ہونے والے فیصلوں کے بارے میں صوبوں میں اتفاق نہیں ہے اور لیڈر کے طور پر عمران خان اپنے ہی ارکان کی ضرورتوں اور مجبوریوں کو سمجھنے پر تیار نہیں ہیں۔ بلکہ اپوزیشن پر الزام لگاتے ہوئے دراصل وہ اپنے ہی ارکان اسمبلی کی دیانت، سیاسی سوجھ بوجھ اور ایمانداری کو مشکوک ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
سپریم کورٹ اگر آئینی شق 226 کی مجبوری اور قانونی حلقوں کی متفقہ رائے کی وجہ سے براہ راست خفیہ ووٹنگ کا طریقہ ختم کرنے کا حکم نہ دے سکی تو سماعت کے دوران سامنے آنے والے اشاروں کی روشنی میں یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ عدالت عظمی الیکشن کمیشن کو ووٹنگ کے بعد ووٹ کی شناخت کا حکم دے کر ارکان اسمبلی کو خوفزدہ کرنے کا اہتمام کرلے۔ اس حوالے سے متناسب نمائیندگی کی اصطلاح پر گزشتہ کئی روز سے مسلسل سوال اٹھائے جارہے ہیں۔ سپریم کورٹ کے فاضل جج بظاہر اس سادہ لوحی کا مظاہرہ کررہے ہیں کہ متناسب نمائیندگی کا مطلب یہ ہے کہ پارٹیوں کو صوبائی اور قومی اسمبلی میں اپنی سیاسی قوت کی بنیاد پر سینیٹ میں نمائیندگی ملنی چاہئے۔ اگر سپریم کورٹ اس حل کو نافذ کرنے کا حکم دیتی ہے تو یہ درحقیقت سینیٹ انتخاب کو غیر ضروری قرار دینے کا فیصلہ ہوگا۔ اسے 1973 کے آئین پر اب تک ہونے والے سنگین ترین حملوں میں شامل کیا جائے گا۔ اس طرح ارکان اسمبلی اپنے علاقوں سے سینیٹ کے ارکان چننے کے بنیادی آئینی استحقاق سے محروم ہوسکتے ہیں۔ تاہم تحریک انصاف اور عمران خان کے لئے یہ دونوں طریقے خوش آئیند ہوں گے کیوں کہ وہ کسی بھی قیمت پر سینیٹ پر اپوزیشن کی بالادستی ختم کرنے کی راہ ہموار کرنا چاہتے ہیں۔
بادی النظر میں عمران خان کو سینیٹ انتخاب کے حوالے سے اسٹبلشمنٹ کی طرف سے حوصلہ افزا تائد حاصل نہیں ہوسکی۔ یا تو امداد فراہم کرنے سے انکار کیا گیا ہے یا عملی اقدام کرنے سے گریز کیا جارہا ہے۔ ایسی صورت میں اسٹبلشمنٹ ملکی سیاست میں سینیٹ انتخاب کے بعد پیدا ہونے والے حالات کے مطابق فیصلہ کرسکتی ہے۔ یہ صورت حال براہ راست عمران خان کے اقتدار کے لئے خطرہ ہوگی۔ اہم نشستوں پر فیصلوں سے جن میں اسلام آباد سے یوسف رضا گیلانی کی ممکنہ کامیابی بھی شامل ہے، قومی اسمبلی کی اکثریت پر عمران خان کے کنٹرول کا اندازہ ہوسکے گا۔ اس سیاسی نقشے میں بلاول بھٹو زرداری کی تجویز کے مطابق تحریک عدم اعتماد لانا آسان ہوجائے گا۔ یہ انتخاب پاکستان جمہوری تحریک (پی ڈی ایم) کی قیادت کو یہ فیصلہ کرنے کا موقع دے گا کہ عدم اعتماد کے ذریعے عمران خان سے چھٹکارا پاکر اسٹبلشمنٹ سے راہ و رسم قائم رکھی جائے یا آخری ہتھکنڈے کے طور پر لانگ مارچ کا آپشن استعمال کیا جائے۔
سینیٹ کے متوقع انتخاب کے حوالے سے عمران خان نے اب اپنی پارٹی ارکان کی وفاداری اور نیک نیتی کو مشکوک قرار دیا ہے۔ یہ مؤقف ان کے دو تین ہفتے پہلے کئے گئے دعوے سے مختلف ہے ۔ اس وقت عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر اپوزیشن نے اوپن ووٹنگ کے بارے میں ان کی رائے قبول نہ کی تو ’وہ خود ہی روئیں گے‘۔ اس بیان سے تو یہی سمجھا جارہا تھا کہ تحریک انصاف نے 2019 میں جن ہتھکنڈوں سے سینیٹ چئیرمین کے خلاف متحدہ اپوزیشن کی صفوں میں دراڑ ڈالی تھی اور جس طرح سینیٹ کے 14 ارکان کے ’ضمیر‘ خریدے تھے، 3 مارچ کے سینیٹ انتخاب میں وہی طریقہ اختیار کیا جائے گا۔ لگتا ہے کہ عمران خان کے پاس اب یہ آپشن بھی موجود نہیں ہے کیوں کہ وہ روپے لے کر ووٹ دینے کا جتنا بھی شور مچائیں ، حقیقت یہی ہے کہ ارکان اسمبلی تعلق داری اور سیاسی ضرورتوں کے تحت پارٹی لائن سے برعکس ووٹ دیتے ہیں۔ اس مشکل کا حل تلاش کرنے کے لئے اب عمران خان اخلاقی انحطاط اور قومی کردار پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں۔ اب ان کا دعویٰ ہے کہ لوگ روپے دے کر سینیٹ کا رکن بنتے ہیں پھر اس پوزیشن میں وہ ملک و قوم کا خون چوستے ہیں۔ تاہم وزیر اعظم اپنے اس دعوے کی کوئی دلیل یا دستاویزی شہادت پیش نہیں کرسکتے۔ سینیٹرز کے پاس کوئی ایسا اختیار نہیں ہوتا کہ وہ قومی خزانے سے وسائل وصول کرسکیں۔ یوں بھی عمران خان کا دعویٰ رہا ہے کہ اگر لیڈر ایماندار ہو تو نیچے چوری نہیں ہوسکتی۔ انہیں یہ بھی بتانا چاہئے کہ اگر وہ اپنی ایمانداری کو مسلمہ قرار دیتے ہیں تو پھر ان کی وزارت عظمیٰ میں کوئی سینیٹر کیسے مالی بدعنوانی کا مرتکب ہوگا؟
عمران خان نے اپوزیشن لیڈروں پر مالی بدعنوانی کے علاوہ ملکی اخلاقیات تباہ کرنے کا الزام بھی لگایا ہے۔ پوچھنا چاہئے کہ کیا اس نیک کام میں عمران خان اپنے کردار کا جائزہ لے کر بتا سکتے ہیں کہ وہ کس صورت میں قوم کے اخلاقی رول ماڈل ہیں؟ کیا انہوں نے ملکی اخلاقی اقدار کا جنازہ نکالنے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا؟ کیا انہوں نے جھوٹے الزامات کی بنیاد پر سیاست کی دکان سجا کر عوامی اخلاقیات کی سربلندی کے لئے کام کیا ہے؟ کیا نعرے بازی کو قومی مسائل سے گریز کا طریقہ بنا کر وہ اعلیٰ اخلاقیات کا درس دیتے ہیں؟ کیا ماضی کی بے اعتدالیوں سے تائب ہونے کی بجائے ہاتھ میں تسبیح پکڑ کر ہر مخالف کے بارے میں افترا پردازی ، ایک نیک صفت اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کے حامل کسی شخص کی تصویر سامنے لاتی ہے؟جس وقت ملک کو یک جہتی، اتفاق رائے اور مل جل کر معاشی بحران اور خارجہ پالیسی کے محاذ پر چیلنجز سے نمٹنے کی ضرورت تھی، اس وقت اپوزیشن کو چور بتاتے ہوئے خارجہ پالیسی کو اسلاموفوبیا اور مودی کے ہندو توا نعروں کا اسیر بنا دیا گیا۔ کیا ایسا کرکے وزیر اعظم نے کوئی قومی خدمت سرانجام دی ہے؟ سری لنکا نے عمران خان کے دورہ کے دوران پارلیمنٹ سے طے شدہ خطاب کو منسوخ کردیاہے۔ یہ فیصلہ تحریک انصاف کی ناکام خارجہ پالیسی اور عمران خان کو ناقابل اعتبار سمجھنے کا ایک واضح ثبوت ہے۔ اس کے باوجود عمران خان میں سیکھنے اور راستہ درست کرنے کی نہ تو صلاحیت ہے، نہ ہمت اور نہ ہی وہ کوئی غلطی تسلیم کرنے کا اخلاقی حوصلہ رکھتے ہیں۔
کیا ایسا شخص قوم کی اخلاقی رہنمائی کا فرض ادا کرنے کے قابل ہے؟ عمران خان کی ساری زندگی مفاد پرستی اور اپنی ذات کےگرد گھومتی رہی ہے۔ کرکٹ ہو یا سیاست انہوں نے اپنی قیادت کو چیلنج کرنے والے ہر شخص کو راستے سے ہٹانے کا جتن کیا۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں شریف خاندان ایک آنکھ نہیں بھاتا کہ سیاست میں امپائر کی انگلی کے اشاروں اور اپنے تئیں سحر انگیز شخصیت کے جادو کے باوجود پنجاب کا اکثر ووٹر نواز شریف کے ساتھ ہے۔ کیا اس سیاسی ناکامی کو قبول کرنے سے انکار کو اعلیٰ اخلاق کا نام دیا جائے گا۔ یا عثمان بزدار جیسی کٹھ پتلیوں کے ذریعے اپنا قد اونچا کرکے دکھانا ، وہ اخلاقی معیار ہے جو عمران خان اس ملک میں متعارف کرنے کی جد و جہد کررہے ہیں؟
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker