تجزیےخیبر پختونخواہعقیل عباس جعفریلکھاری

’حمزہ بابا‘ اور بمبئی میں بننے والی پشتو زبان کی پہلی فلم ۔۔ عقیل عباس جعفری

پشتو دنیا میں 31ویں سب سے زیادہ بولی جانے والے زبان ہے اور پاکستان کی کم از کم 15 فیصد آبادی پشتو بولتی ہے۔ ملک میں پشتو فلموں کی صنعت کو تیسرے نمبر پر خیال کیا جاتا ہے اور اب تک پاکستان میں لگ بھگ 800 پشتو فلمیں بن چکی ہیں۔
لیکن اکثر لوگ شاید یہ نہیں جانتے کہ پہلی پشتو فلم پشاور، لاہور، کراچی یا کابل میں نہیں بلکہ بمبئی میں بنی تھی جسے بالی وڈ کا دل کہتے ہیں۔
دنیا کی پہلی پشتو فلم کی کہانی اور اسے بنانے والوں کی بات کرنے کے لیے ہمیں تقریباً 80 سال پیچھے جانا ہوگا۔ یہ خیال ایک مشہور پشتو شاعر نے دیا تھا جن کے نام سے شاید آپ بھی واقف ہوں گے۔
سنہ 1938 میں امیر حمزہ شنواری پشتو زبان میں ایک فلم بنانا چاہتے تھے۔ انھوں نے اس کا نام لیلیٰ مجنوں رکھنے کا فیصلہ کیا۔ یہ پراجیکٹ دراصل اس نوجوان شاعر کے لیے ایک ذاتی خواہش تھی، لیکن ا ب ان کی وجہ شہرت اور ہے۔
انھوں نے فلم تیار کی، اس کی کہانی، مکالمے اور گانوں کے بول لکھے اور اپنے کچھ ساتھیوں عبدالکریم عندلیب اور رفیق غزنوی کی مدد سے فلم میں موسیقی بھی شامل تھی۔
ان دو افراد میں سے شاید رفیق غزنوی موجودہ زمانے میں زیادہ مقبول ہوں، وہ رشتے میں پاکستانی گلوکارہ اور اداکارہ سلمیٰ آغا کے نانا ہیں۔
آپ یقیناً یہ جاننا چاہتے ہوں گے کہ اس فلم کی ہدایتکاری کے فرائض کس نے سرانجام دیے؟ آخر امیر حمزہ شنواری اپنے دل کے قریب اس پراجیکٹ کو مکمل کرنے کی ذمہ داری کس کے سپرد کر سکتے تھے؟
ایک روایت کے مطابق فلم کی ہدایت کاری کی ذمہ داری رفیق غزنوی کو سونپی گئی جبکہ ایک اور روایت ہے کہ امیر حمزہ شنواری نے یہ فرائض خود ہی سرانجام دیے۔
جواب جو مرضی ہو، یہ واضح ہے کہ فلم ساز کو اپنے ساتھی رفیق غزنوی پر مکمل اعتماد تھا، وہ فلم کے ہیرو بنے اور ان کے ساتھ معروف اداکارہ حبیب جان کابلی ہیروئن آئیں۔ اداکارہ ستارہ اور ڈبلیو ایم یا وزیر محمد خان نے بھی فلم میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔
لیکن یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ فلم کے ماسٹر مائنڈ امیر حمزہ شنواری محض کیمرے کے پیچھے رہنے پر راضی ہو جائیں؟ انھوں نے بھی فلم میں ایک چھوٹا مگر اہم کردار نبھایا۔
اس فلم کی ایک اور انوکھی بات اس کے گانے تھے۔ لیلی مجنوں میں سات گانے تھے جو کہ شنواری کی ابتدائی شاعری اور نغمہ نگاری کی ایک عمدہ مثال ہیں۔
تاہم معروف پلے بیک سنگرز ڈ ھونڈنے کے بجائے فلم کے گیتوں کو حمزہ شنواری، رفیق غزنوی، حبیب کابلی اور ڈبلیو ایم خان کی آواز میں ریکارڈ کیا گیا۔’
یہ فلم 1941 میں مکمل ہوئی اور اس سے اگلے ہی سال نمائش پزیر ہوئی۔ بمبئی کے بعد اسے پشاور اور کوئٹہ کے سینما گھروں میں ریلیز کیا گیا۔ اس وقت کے اعداد و شمار کے مطابق فلم کو بمبئی میں پشتو بولنے والوں نے خوب سراہا اور اس فلم کے مکالمہ اور گانے نغمے زبانی یاد کر لیے۔
امیر حمزہ شنواری
آج امیر حمزہ شنواری کو محض اپنی فلم کی کامیابی کے لیے یاد نہیں کیا جاتا۔ انھیں احتراماً ’حمزہ بابا‘ یا ’بابائے پشتو غزل‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ خیال ہے کہ پشتو شاعری میں غزل انھوں نے ہی متعارف کرائی۔
امیر حمزہ شنواری لنڈی کوٹل میں پیدا ہوئے جو آج پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر واقع ہے۔ انھوں نے پشتو زبان کی ہر صنف میں کام کیا اور لاتعداد نثری اور شعری کتب یادگار چھوڑیں۔
انھوں نے علامہ اقبال کے کلام اور نہج البلاغہ کا پشتو زبان میں ترجمہ کیا۔ حکومتِ پاکستان نے ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انھیں صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی اور ستارہ امتیاز عطا کیا۔
ان کا 18 فروری 1994 میں انتقال ہوا اور انھیں اپنے آبائی علاقے میں ہی دفنایا گیا۔ آج بھی انھیں ایک عظیم صوفی شاعر تسلیم کرنے والے ہزاروں افراد ہر سال ان کے مزار پر حاضری دیتے ہیں۔
رفیق غزنوی
رفیق غزنوی 1907 میں پیدا ہوئے اور انھوں نے اسلامیہ کالج راولپنڈی سے میٹرک مکمل کیا اور اس کے بعد وہ اسلامیہ کالج لاہور اور پنجاب یونیورسٹی میں زیر تعلیم رہے۔
ابتدا سے ہی انھیوں کلاسیکی موسیقی سے لگاؤ تھا اور انھوں نے اس علم کی باقاعدہ تعلیم استاد عبدالعزیز خان، استاد میاں قادر بخش لاہوری اور استاد عاشق علی خان جیسے بڑے ناموں سے حاصل کی تھی۔
سنہ 1930 میں ایک خاموش فلم میں سیکنڈ ہیرو کے طور پر انھوں نے فلمی دنیا میں قدم رکھا۔ پھر انھوں نے لاہور میں ’ہیر رانجھا‘ نامی فلم میں مرکزی کردار ادا کیا۔ فلم کی موسیقی بھی انہی نے ترتیب دی اور اپنے اوپر فلم بند ہونے والے تمام گانے بھی خود ہی گائے۔
اس فلم کی شوٹنگ کے دوران رفیق غزنوی کو اداکارہ اور فلم کی ہیروئن انوری سے محبت ہوگئی اور دونوں نے فلم کی ریلیز ہونے سے قبل ہی شادی کر لی۔
اس جوڑے کی ایک بیٹی ہوئی جس کا نام زرینہ رکھا گیا جس نے خود بھی نسرین کے فلمی نام سے اداکاری شروع کر دی۔ بعد ازاں ان کی بیٹی سلمیٰ آغا نے انڈیا اور پاکستان دونوں ملکوں میں اپنی اداکاری اور گلوکاری کی دھوم مچائی۔
ہیر رانجھا کے بعد غزنوی بمبئی چلے گئے جہاں وہ متعدد فلموں میں کبھی ہیرو اور کبھی سائڈ ہیرو کے طور پر نظر بڑی سکرین پر نمودار ہوئے۔ انھوں نے اپنی موسیقی کی صلاحیت کا بھی استعمال کیا اور کئی فلموں کی موسیقی بھی ترتیب دی۔
ان کی کچھ یادگار فلموں میں جوانی دیوانی، پریم پجاری، دھرم کی دیوی، پریم یاترا، اپنی نگریا، تقدیر، بہو رانی، نوکر اور سکندر شامل ہیں۔
تقسیم ہند کے بعد غزنوی کراچی آگئے اور ریڈیو پاکستان کے ساتھ کام کرنے لگے۔ وہ اس کمیٹی کے بھی رکن تھے جس نے پاکستان کے قوامی ترانے کی دھن منظور کی تھی۔
پاکستان آنے کے بعد انھوں نے موسیقی کی دنیا میں اپنے سفر کو جاری رکھا اور ’پرواز‘، ’انوکھی بات‘ اور ’منڈی‘ جیسی فلموں کے لیے گانوں کی دھنیں تیار کیں۔
رفیق غزنوی کی ایک اور وجہ شہرت ان کی متعدد شادیاں تھیں۔ ان کی بیویوں میں انواری کے علاوہ زہرا، انو رادھا اور قیصر بیگم شامل تھیں۔
غزنوی کی ایک بیٹی شاہینہ نے بھی پاکستانی فلموں میں کام کیا اور ان کی ایک بیٹی کی شادی معروف ہدیتکار ضیا سرحدی سے ہوئی، جن کے دو بیٹے خیام اور بلال سرحدی بھی شوبز سے وابستہ ہیں۔
رفیق غزنوی کا 2 مارچ 1974 کو کراچی میں انتقال ہوا۔
وزیر محمد خان
اداکار اور گلوکار وزیر محمد خان یا ڈبلیو ایم خان پشاور سے تعلق رکھتے تھے لیکن وہ 1926 میں بمبئی آگئے تھے۔
انھوں نے خاموش فلموں میں کام کیا اور اس کے بعد کشمیرہ، منو ویجے، دل فروش اور ہیملٹ جیسی فلموں میں نظر آئے۔
لیکن وہ برصغیر کی پہلی بولتی فلم عالم آرا میں اپنے کردار کی وجہ سے مقبول ہوئے جس میں اتھی کا گایا ہوا گیت ’دے دے خدا کے نام پے پیارے‘ گاتے ہوئے فلم بند ہوا۔ اس گانے کو ہندستان کی کسی بھی فلم کا پہلا گیت تسلیم کیا جاتا ہے۔
اس گیت کی ایک کاپی پشاور کے مشہور آرکائوسٹ ابراہیم ضیا کے پاس محفوظ ہے۔
عالم آرا کی کامیابی کے بعد ڈبلیو ایم خان نے میجک فلوٹ، دھواں، دلھن، میرے لال، اس نے کیا سوچا، رنگیلا راجپوت، شیر دل عورت، دردِ دل، دخترِ ہند اور ایسی کئی فلموں میں کردار ادا کیے۔
ان کا 14 اکتوبر 1974 کو بمبئی میں انتقال ہوا۔
(بشکریہ: بی بی سی اردو)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker