اختصارئےقیصر عباس صابرلکھاری

نیا پاکستان اور پرانے طبلہ نواز : صدائے عدل /قیصر عباس صابر

عمران خان کی نیت پر شک شائد ہی کوئی کرے مگر بات نیت سے بہت آگے نکل چکی ہے ۔ انہوں نے نئے پاکستان کےلئے کیا کچھ قربان نہیں کیا ۔ وہ بیوی چھوڑ دی جو مذہب چھوڑ کر خان کے ساتھ پاکستان آئی تھی ۔ اپنے آرام اور سکون کے دن سیاست جیسے تخت یا تختے کے کھیل کی نذر کردیے ۔ ریحام خان، عائشہ گلا لئی اورستیا وائٹ کے ہاتھوں رسوائیاں بھی خان کا کچھ نہ بگاڑ سکیں۔ بائیس سالہ محنت کے بعد کرم فرما اداروں اور نوجوان نسل نے مل کر منزل کے قریب پہنچادیا ،کچھ آزاد امیدواروں کی مہربانیاں رنگ لے آئیں ۔نیا پاکستان بن گیا مگر پرانے”پاپی“ خود کو نہ بدل سکے ۔ عمران خان کو جگہ جگہ ”گندا “ کر کے نئے پاکستان کی تازہ دم ٹیم کو وضاحتوں پر لگا دیا ۔ بقول احمد فراز:۔
شہر کا شہر ہی ناصح ہوتو کیا کیجیے
ورنہ ہم رند تو بھڑ جاتے ہیں دو چار کے ساتھ
عمران خان کو پریشان کرنے والا کوئی ایک ہو تو اسے ”لاڈلا“ قرارد ے کر استثنیٰ مانگ لیا جائے مگر یہاں ” جو بھی آتا ہے اٹھائے ہوئے جال آتا ہے“ عمران کی ٹیم ایک وضاحت دے کر فارغ نہیں ہوتی کہ ایک نیا ہنگامہ حکومت کو دفاعی کٹہرے میں لے آتا ہے۔ جہانگیر ترین کے نااہل ”مشوروں“ پر تنقید اور سیاستدانوں کی خریدو فروخت کے نوحے عمران خان کے حلف کی شہنائیوں میں دب گئے پھر کراچی کے ایم پی اے عمران شاہ کے تھپڑ کی گونج بنی گالا تک جاپہنچی ۔ نئے پاکستان پر کچھ زیادہ توقعات کے وابستہ کرلینے والی عوام اپنے قائد وزیر اعظم عمران خان کا دفاع کہاں تک کرے کہ ایک کے بعد ایک سکینڈل حکومت کے ہنی مون کو پر سوز کرتا چلا جاتا ہے ۔ عمران اکیلا کیا کرے اور کہاں تک کرے؟ صفائیاں اور وضاحتیں جو وقت رخصت دی جاتی ہیں ۔پرانے کھلاڑیوں نے نئے پاکستان کی بنیادوں میں اپنی من مانیوں کا پانی چھوڑنا معمول بنا لیا ہے۔ نئے پاکستان کے ”دشمن“ خبر نہیں کہاں سے غریب وزیرا علیٰ عثمان بزدار کی ٹھاٹھیں مارتی ہوئی فضائی تصویر لے آئے کہ وہ تصویر صرف تصویر نہیں بلکہ نئے پاکستان کے خلاف ایک سازش ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔شیخ رشید کی ریلوے کی سینئر افسر کے ساتھ ”جلالی“ پرتو وزیر اطلاعات فواد چوہدری کی بھی بولتی بند ہوگئی کہ جادو تو وہی ہوتا ہے جو سر چڑھ کر بولے اور اب سوشل میڈیا کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ اب عمران خان نے خاور فرید اور ڈی پی او پاکپتن والے معاملے کی رپورٹ طلب ہی کی تھی کہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار اپنے ”سسرال یاترا“ کے لئے خانیوال تشریف لائے تو ہسپتال کا دورہ  کیا ۔ ڈاکٹر سرکاری خوشامد میں مصروف تھے کہ ایک بچی دم توڑ گئی جس سے نئے پاکستان کی سادگی مہم پر پھر سوالات اٹھیں گے۔وزیر اعظم عمران خان کے نئے پاکستان کےلئے پرانے طبلہ نواز اپنا ہاتھ ہولہ رکھیں یہ نہ ہو کہ وہ اپنی ناقص ٹیم کی وجہ سے اپنا سفر رائیگاں کربیٹھیں کہ موقع صرف ایک بار ملتا ہے۔
فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker