قیصر عباس صابرکشمیرلکھاری

کشمیر کا آخر ی گاﺅں ، تاﺅ بٹ : صدائے عدل / قیصر عباس صابر

اپر دو میل کے آباد سکول میں تمام بچے چین جائے بغیر ہی علم حاصل کرتے تھے اور لکڑی کے کلاس رومز کے سامنے اپنے اپنے سبق یاد کرتے تھے ، جو نہیں یاد کرتے تھے انہیں معلوم تھا کہ سبق یاد کرنے والوں کو چھٹی نہیں ملا کرتی۔ دو میل کی وہ سطح جو ڈھلوان تھی اور وہاں کچھ خیمہ دکانیں چائے اور بسکٹ کے لئے سیاحوں کا انتظار کرتی تھیں ۔ فیری میڈوز جیسی گھاس اور سامنے سڑک نما راستے کے کنارے پر جو ندی رواں تھی اس میں شیشہ پانی بہتے تھے ۔ جیپ کے ہچکولوں سے تھک چکے لوگ جب اترتے تھے تو ہاتھ منہ اسی ندی سے دھوتے تھے اور پھر اگلے دو گھنٹے تک اسی پانی کے لمس کے سبب تھرتھراتے تھے، کانپتے تھے ۔ راستے دشوار تھے مگر شونٹر کا خواب تعبیر ہونے والا تھا ۔ خوابوں کی تعبیر آپ کو بھلا کب تھکنے دیتی ہے، اک نیا حوصلہ پیدا کرتی ہے یہ الگ بات ہے کہ تعبیر وہ نہ ہو جو آپ نے سوچ رکھی ہو۔۔۔
دومیل کے ڈھلوان میدان کے سامنے، نیچے گہرائی میں شونٹر نالہ بہتا تھا اور پھر کیل کے آس پائے دریائے کشن گنگا میں شامل ہوجاتا ہے ۔ دریا کی دوسری جانب برجھ کے درخت تھے ، جن کی کھال گئے زمانوں میں کاغذ کے طور پر استعمال ہوتی تھی اور خطوط تحریر کرکے بھیجے جاتے تھے۔ اب یہاں کوئی خط لکھنے والا نہ تھا اس لئے برجھ کے درختوں کے قریب جانا ہمارے مشن میں شامل نہ تھا۔ ہم جو مسلسل پانچ گھنٹے کی مشکل مسافت طے کرکے آئے تھے ، انہی خیموں میں دو ،دو چائے اور بے شمار بسکٹ کھارہے تھے، نمکو چبار ہے تھے۔
برجھ کے درختوں کے پار چٹہ کھٹہ جھیل تھی ۔۔۔۔۔۔
جھیل میں لہو جمانے والے پانی تھے اور لاتعداد رنگ تھے ۔۔۔۔۔۔
خوبصورت گاﺅں ہمارے اطراف میں پھیلے تھے ، ہماری منزل نہ تھے، دو میل میں ایک کشمیر ی نے بتایا کہ آپ یہاں پر رہنا چاہیں تو بہت سارے گاﺅں قابل دید بھی ہیں اور وہاں پر ریسٹ ہاﺅس بھی ۔ پھلوائی ، سردلائی ، ہلمٹ ، تاﺅ بٹ،درمٹ اور دودگئی جیسے گاﺅں سیاحوں کا استقبال کرتے تھے۔
” تاﺅ بٹ “ وادی گریز کا آخری گاﺅں ، جہاں سے دریائے نیلم بھارتی مقبوضہ کشمیر سے آزاد کشمیر میں داخل ہوتا ہے ۔ کیسے کیسے گاﺅ ں تھے جو ہمیں روکتے تھے، کھینچتے تھے مگر ہم شونٹر کے علاوہ کہیں بھی نہ جاسکتے تھے۔
شونٹر کی طرف روانہ ہوئے تو دائیں جانب اک چھوٹی سی جھیل تھی جس کا کوئی نام نہ تھا ۔ جا بجا برف جم جانے سے ، اور پھر برف کے پگھلنے سے جو پانی ٹھہر جاتے تھے ، یہ ویسی ہی جھیل تھی جس میں برف کے تودے اپنے پانی بننے کا انتظار کررہے تھے۔
وادی شونٹر سامنے تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
مگر پھر بھی بہت دور تھی۔ جیپ نے اپنی بوتھی، سونگھنے والے کھوجی کتے کی طرح زمین کے ساتھ لگادی ۔ مسلسل اترائی ہمیں ایک کھائی کی طرف کھینچنے لگی ۔ پتھروں پر پھیلے پانی ، جو رواں تھے اور کہیں ٹھہرتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔
دائیں جانب ایک پیالہ وادی تھی جس کو چاروں ا طراف سے بلند پہاڑوں نے گھیر رکھا تھا ۔ ایک ندی، جسے شونٹر نالہ کہتے ہیں وہ اپنے گدلے پانی لئے بہتی تھی جس کے پانی سست رو نہ تھے، ایک دریا کی روانی لئے تھے۔ ان پر لوہے کا پل ایستادہ تھا ، اگر وہ پل نہ ہوتا تو شونٹر وادی کا مکمل لمس ادھورا رہ جاتا ۔ مویشی گھاس چرتے تھے یا پھر برف سونگھتے تھے۔
سامنے ایک بلند چوٹی تھی جسے ” سری پربت“ کہتے تھے۔ ایک راستہ جو اب متروک کردیا گیا تھا وہ بلند پہاڑ کے اس پار لے جاتا تھا جہاں سے کشمیر ختم اور گلگت بلتستان کی حدود کا آغاز تھا اور پھر کہیں پار وہ گاﺅں ترشنگ بھی تھا جس میں گئے سال ہم بکرا روسٹ کرتے تھے اور نانگا پربت کی برفوں کو دیکھتے تھے جو ہمارے بالکل قریب تھیں ۔
جی ہاں ہم اب وادی شونٹر میں تھے اور وہیں ملتان کی ایک مولوی فیملی سے ملاقات ہوئی ۔فوزیہ اور بچے وہاں کے مقامی گھرانے سے گھل مل گئے جن کا پیشہ مویشی پالنا اور ان کو سستے داموں بیچنا تھا۔ برف وادی میں ان کا قیام صرف دو ماہ کے لئے ہوتا تھااس کے بعد وہ کیل شہر میں اپنے محفوظ گھروں میں پناہ لیتے تھے ۔سری پربت کی چوٹی سب سے بلند مینار کی طرح ایستادہ تھی اور ہمارے پاﺅں نرم ہوتی زمین میں گھسے جاتے تھے۔ دوسری طرف شونٹر ٹاپ کا پیدل راستہ جو برف پر چل کر ہمیں گلگت بلتستان کی سرزمین پر قدم جمانے کی اجازت دیتا تھامگر ہم آج کا دن شونٹر وادی کے نام کرنے کا فیصلہ کرچکے تھے ۔ ایک خیمہ ہوٹل تھا جس میں سلنڈر گیس ختم ہونے کی وجہ سے چائے بند تھی اور بوتل ٹھنڈے موسم میں مزاجوں کی قلفی جمانے کے لئے سستے داموں موجود تھی۔

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker