قیصر عباس صابرکالمکشمیرلکھاری

وادی کشمیر، برف کے کفن میں مدفون 100لاشیں ۔۔ قیصر عباس صابر

صدائے عدل شاردہ سے کیل اور پھر دو میل سے ہوتے ہوئے شونٹر ویلی تک، راستے کی سب وادیاں، سبھی آبشاریں اور لکڑی کے گھروندے بہت مانوس ہوچکے تھے ، اپنے اپنے لگتے تھے، یہ گھر بالکل ایسے ہی تھے جیسے کیلاش کے گھروندے تھے اور ان کے باسیوں کے چہروں پر بھی سکردو کے گاﺅں کچورا کی خوبانیوں جیسی تازگی تھی اور آنکھوں میں راما جھیل سی نیلاہٹ۔
آج دھند میں ڈوبے ہوئے میدانی علاقوں میں ایک ہمارا شہر ملتان ہے جو دھنداور منجمد کردینے والی ٹھنڈ کی لپیٹ میں ہے اور میں الیکٹرک ہیٹر کی سرخ ہوئی جاتی دو سلاخوں کی تپش کے سامنے بیٹھا ہوا یہ لفظ کاغذ کے سپرد کرتا جارہا ہوں اور پانچ ماہ پہلے کی یادداشتیں سفر نامے کی شکل میں لکھتا ہوں تو ایسے خود کو آزاد محسوس کرتا ہوں جیسے کوئی دیرینہ قرض ادا ہورہا ہو،جیسے امانت بغیر خیانت کے واپس لوٹائی جارہی ہو۔ الیکٹر ک ہیٹر کی تپش میرے تھر تھر کانپتے بدن کو سنبھالے ہوئے ہے اور اسی دوران خبر ملتی ہے کہ شونٹر وادی سے واپسی پر شاردہ کی طرف راستے میں جو ایک بستی پڑتی تھی جس کے مکین اپنے چہروں پر سکردو کے گاﺅں کچورا کی خوبانیوں جیسی تازگی سجائے پھرتے تھے اور جن گھروں کی بناوٹ کیلاش کے گھروندوں جیسی تھی آج اس وقت وہ گاﺅں برف کے نیچے دب چکا ہے جس کے موسموں کے قصیدے لکھے گئے ، جہاں کی مہمان نوازی کو سراہا گیا ، نہ جانے کتنے میزبان جو سیاحوں کیلئے کھلے بازوﺅں استقبال کرتے تھے وہ برف میں جم گئے۔
کیرن ، لوات ، دواریاں، چانگن ، دو دھنیال ، شیخ بیلہ ، تیجیاں اور خواجہ سیری کے کون کون فطرت شناس مہمان نواز برف کے کفن پہنے دنیا چھوڑ گئے۔ غلام مرتضیٰ ، رانا مشتاق اور دیگر کئی ساتھی جو میرے میزبان تھے وہ کس حال میں تھے ، میں نہیں جانتا تھا۔ ہمارا پسندیدہ گاﺅں سیری اور وہ گاﺅں جسے دور سے دیکھا تھا تو وہ اپنی طرف کھیننچتا تھا، دبکوالی برف تلے دب چکے تھے ۔ سرگن نالے کے پاس جتنے بھی گھر تھے وہ نہ رہے تھے۔ تلاش معاش کیلئے گھروں سے نکل جانے والے تو بچ گئے ، باقی نہ رہے۔ کچھ کو امدادی ٹیموں نے گھنٹے بھر بعد برف سے نکالا اور بچالیا مگر بہت سے نہ مل سکے۔ خبر کے مطابق برف میں چاندی جیسا سفید کفن پہننے والوں کی تعداد100سے زیادہ تھی۔ برفانی تودوں نے بھی انہی کو نشانہ بنایا تھا جو پہلے ہی روزگار اور حالات سے تنگ تھے۔ سیری اور دبکوالی آبادی کے 130مکانات تباہ ہوئے تھے اور وہاں تھے ہی اتنے ہی جو تباہ ہوچکے تھے ۔
میری کتنی شامیں انہی علاقوں کی تازہ ہواﺅں کے لمس سے آباد تھیں مگر اب اس خبر کے بعد میرے کمرے کے الیکٹرک ہیٹر کی سرخ ہوتی سلاخیں بھی برف ہوچکی تھیں۔ جس جس گاﺅں کے لوگ برف میں دب کر مرچکے تھے وہ مجھے قسط وار مارے چلے جارہے تھے۔ وادی نیلم کی سرگن ویلی کی برف 67افراد کو نگل گئی تھی ۔ دو دھنیال میں برف کے تودے میں دب کر جان ہارنے والا حفیظ بھی میرے وجود کا حصہ تھا ۔ کیل کے علاقے ڈھکی چکناڑ میں 8افراد اپنے بازو پھیلائے ، سیاحوں کا انتظار کرتے ، مرچکے تھے کہ وہی سیاح ہی تھے جوان کی دال روٹی کا سبب بنتے تھے۔ وہ سال بھر میں صرف چار ماہ رزق کماتے تھے اورسارا سال کھاتے تھے ۔ کیل میں ناریل کے مقام پر 40خاندانوں کو پاک فوج نے ریسیکیو کیا تھا کہ یہ کام پاک فوج کرتی تھی اور یہی کام بہت احسن طریقے سے کرتی تھی۔
میں نے برف میں دب کر جان کی بازی ہارنے والوں کی فہرست کو غور سے دیکھا تھا اس میں شونٹر ویلی کا رشید نہ تھا بلکہ کوئی رشید بھی نہ تھا۔ اس سانحے کے بعد آزاد کشمیر کا دارالحکومت مظفر آباد ہمیں پھر سے بلاتا تھا اور کشمیر لاجز کا کمرہ نمبر7دریائے کشن گنگا کی برف ہواﺅں سے خنک ہوچکا ہوگا۔ برف کے سفید اور دودھیا کفن پہنے بہت سے کشمیری اپنی جنت کو چھوڑ کر ابدی جنت کی طرف گامزن تھے ۔وہ برف جس کی کرچیوں میں تتلیوں کے لاتعداد رنگ تھے ،اب لاتعداد لاشیں تھیں۔ سرگن نالے کے جھاگ اڑاتے پانی جب دریائے نیلم میں گرتے تھے تو نغمہ سرا ہوتے تھے اب دریائے سرگن کے پانی ، دریائے کشن گنگا کے گلے لگ کر روتے تھے ، آبدیدہ تھے کہ جدا ہونے والوں نے ان موسموں میں جدائی اختیار کی تھی جب درختوں کے ہاتھ خالی تھے ، صرف برف کا کفن انہیں مل سکا تھا۔
پہاڑی دروں سے گزرتی ہوا نوحہ کناں ہوگی کہ ہم نے کبھی ان ہواﺅں کے دکھ نہ سنے تھے ۔ چند دنوں کی رفاقت ” کشمیر جنت نظیر“ کے وہ دکھ نہیں بیان کرسکتی کہ جب ان پر دکھوں اور موت کے موسم آتے ہیں ہم ان وادیوں میں نہیں ہوتے، ہم اپنے اسٹڈی روم میں الیکٹر ک ہیٹر کی سرخ ہوتی سلاخوں کی تپش سے اپنی تھر تھراہٹ کو قابو کرتے ہیں۔ ہم تو ان دنوں کے ساتھی ہیں جب برف آبشاروں کے ذریعے گنگناتی ہے اور درخت نئی کونپلیں نکالتے ہیں۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker