قمر رضا شہزادکالملکھاری

عباس تابش نے وصی شاہ کو کیسے متعارف کرایا ؟۔۔ گذر گیا جو زمانہ / قمر رضا شہزاد

1996ء کے الیکشن کے دوران مجھے ایک شدید صدمے سے گزرنا پڑا ۔ اپنی ماں جیسی پھوپھی کی موت کا دکھ جوکہ اس لئے بھی میرے لئے ناقابل برداشت تھا کہ میں نے جب ہوش سنبھالا تو اپنی ماں سے زیادہ اپنی پھوپھی کو اپنے نزدیک پایا۔ وہ میرے والد صاحب سے بڑی تھیں لیکن جوانی میں ہی بیوہ ہوکر اپنی والدہ یعنی میری دادی کے گھر آگئیں تھیں۔ پرانے رسم ورواج اور شرم وحیا کا اتنا گہرا اثر تھا کہ انہوں نے دوبارہ شادی کے بارے میں کبھی سوچا ہی نہیں۔ میری والدہ اور ان کے مابین نند کے ساتھ ساتھ پھوپھی ز اد بہن کا رشتہ بھی تھا ۔ لیکن میں نے اپنی زندگی میں ہمیشہ ان کے مابین بہنوں جیسا تعلق ہی دیکھا۔ اور تعلق بھی ایسا کہ والدہ نے گھرکے تمام اختیارات میری پھوپھی کے سپرد کئے ہوئے تھے۔ حتی کہ کبھی کبھار امی اور ابا جی کے مابین کوئی اختلاف بھی ہوجاتا تو پھوپھی نے ہمیشہ میری والدہ کی حمایت کی ۔ ہمہ وقت عبادات میں مصروف رہتی ۔ میں نے اور میرے تمام کزنز نے انہی سے قرآن مجید پڑھا۔ ہر شام بہت سے بچے ہمارے گھر ان سے قرآن پڑھنے کے لئے آتے تھے اور ان دنوں ہمارا گھر ایک چھوٹا سا مذہبی مدرسہ لگتا تھا۔ اس کے علاوہ مجالس امام حسین پڑھتی تھیں ان کا خطاب سننے کے لئے دور دور سے خواتین آتی تھیں ۔ انہوں نے خود کو قرآنی تعلیمات اور ذکر اہلیبت کے لئے وقف کر دیا تھا۔ ہمارے گھر میں منعقد ہونے والے خواتین کے عشرہ ثانی کی مجالس11صفر سے 20صفر تک کےتمام انتظام میری پھوپھی کرتی تھیں۔ گھر میں سب سے بڑا ہونے کی وجہ سے میں ان کا لاڈلا تھا۔ میری والدہ سے زیادہ وہ میرے کھانے پینے کا خیال رکھتی تھیں۔ ایک طرح سے میری والدہ نے میری تمام ذ مہ داری انہیں سونپ دی تھی۔ سچ تو یہ ہے کہ میں بھی اپنی پھوپھی کے زیادہ قریب تھا۔ انہیں آخری عمر میں دل کا عارضہ لاحق ہوگیا۔ ان کی بیماری میں جب ہم سب بہن بھائی ان کی خدمت کرتے تو وہ بہت دعائیں دیتیں اور کہتی کہ اگر میری سگی اولاد بھی ہوتی تو شاید اتنی خدمت نہ کرتی۔ جس روز وہ اس جہان فانی سے رخصت ہوئیں میں الیکشن ڈیوٹی پر خانیوال موجود تھا۔ میں نے فوری طور پر دفتری کام چھوڑا اور ریٹرننگ آفیسر کو بتا کر کبیروالہ چلا آ یا۔ ان کی موت کا دکھ کبیروالہ شہر کے تمام گھروں میں موجود خواتین نے بے حد محسوس کیا ۔ ان کے جنازے پر علاقے کے خواتین کی گریہ وزاری سے یوں لگ رہا تھا جیسے ان کے سر سے دعاؤں کا سائبان آٹھ گیا۔ ان کی وفات کو میری والدہ نے بے حد محسوس کیا۔ میری والدہ ان کے بعد جب تک زندہ رہیں ہر لمحہ انہیں یاد کرکے روتی رہتی تھیں۔ جب میں ان کے انتقال کے بعد چوتھے روز اپنی الیکشن ڈیوٹی پر پہنچا تو ریٹرننگ افسر نے مجھے پوچھا کہ آپ کی پھوپھی کا انتقال ہوا ہے یا والدہ کا۔ میں نے جواب دیا میرے لئے وہ میری والدہ ہی تھیں ۔ کیونکہ ان کے نزدیک یہ بہت حیران کن تھا کہ کوئی شخص اپنی پھوپھی کی موت پر اتنا زیادہ غمزدہ ہو سکتا ہے۔
پھوپھی کی انتقال کے کافی عرصہ تک میری ساری ادبی سر گرمیاں معطل رہیں۔ پھر دوستوں کے کہنے پر میں نے ادبی نشستوں میں جانا شروع کردیا۔۔ ملتان میں شاکر اور رضی خانیوال میں طاہر نسیم جبکہ لاہور میں عباس تابش میرے ان ادبی دوستوں میں سے تھے جن سے میرا مسلسل رابطہ رہتا تھا۔ ملتان کا چکر لگتا تو کتاب نگر پر شاکر اور رضی کے ساتھ مختلف ادبی وغیر ادبی معاملات زیر بحث رہتے۔ اسی طرح لاہور میں عباس تابش نے الرزاق پبلی کیشنز کے نام سے ادبی کتابوں کی اشاعت کا ادارہ بنالیا تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے انہی دنوں میری وصی شاہ سے ملاقات ہوئی جو نیا نیا ٹی وی پروگرام سے مقبولیت حاصل کرنے کے بعد شاعری کی طرف متوجہ ہوا تھا۔ عباس تابش کو اس نے اپنی پہلی کتاب آنکھیں بھیگ جاتی ہیں کا مسودہ اشاعت کے لئے دیا تھا۔ جس کی نوک پلک سنوارنے کے بعد عباس تابش اسے شائع کر نے کا ارادہ کر چکا تھا۔ عباس تابش کی رائے میں ٹی وی کے ذ ریعے مقبولیت حاصل کرنے والے وصی شاہ کی کتاب نوجوانوں میں بہت فروخت ہوگی اور یوں اس کے ادارے کی ساکھ میں اضافہ ہوگا۔ انہی دنوں کاوش بٹ نے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر گجرات میں ایک بڑا مشاعرہ کیا۔ اس مشاعرے میں عباس تابش نے کاوش بٹ کو کہہ کر وصی شاہ کا نام شامل کروایا۔ یہ شاید وصی شاہ کا پہلا بڑا مشاعرہ پڑھنے کا اتفاق تھا۔ وصی شاہ کی کتاب شائع ہوئی تو واقعی اس نے نوجوان طبقے میں فروخت کا ریکارڈ قائم کردیا۔ اس درجہ مقبولیت نے جہاں وصی شاہ کو بہت آگے بڑھایا ۔ وہاں عباس تابش کے ساتھ اس کے اختلافات ہوگئے۔
اور یہ کافی حد تک بڑھے لیکن پھر درمیان کے دوستوں نے صلح کروادی۔ بہر حال یہ ایک حقیقت ہے جس کا میں گواہ ہوں کہ پہلے پہل ادبی حلقوں میں وصی شاہ کو عباس تابش نے ہی متعارف کروایا۔ الرزاق پر آنے والے بہت سے ادبی دوستوں میں حسن عباسی بھی ایک ایسا ہی عمدہ نوجوان شاعر تھا جو خیر پور ٹامیوالی سے لاہور منتقل ہوا تھا ۔ اور روزگار حاصل کرنے کی تگ ودو میں تھا۔ عباس تابش نے اسے اپنے ادارے میں سیلز کے شعبے میں رکھ لیا تھا۔ ان دنوں اس کی رہائش بھی الرزاق کے دفتر میں تھی۔ اسی طرح میلسی سے کنور امتیاز بھی لاہور روزگار کے لئے شفٹ ہوا تھا۔ اور وہ بھی وہ بہت عمدہ شعر کہتا تھا۔ اس کا ٹھکانہ بھی ان دنوں الرزاق کا دفتر تھا۔ انہی دنوں عباس تابش کے گرد عمدہ لکھنے والے دیگر نوجوان شاعر شکیل جاذ ب۔ ارشد شاہین ۔ حسنین سحر۔ اشفاق ناصر اعجاز ثاقب بھی تھے اور یوں عمدہ کہنے والوں کی کہکشاں تھی۔ عباس تابش کی محبتوں کا مرکز و محور خالد احمد تھا۔ اور یہ سب نوجوان بھی خالد احمد کی محبت کا دم بھرتے تھے

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker