تحریک انصاف کے پنجاب اور خیبر پختون خواہ اسمبلیوں کے تحلیل کے اعلان کے بعد ملتان سمیت جنوبی پنجاب کے حکومتی و اپوزیشن رہنما جہاں اپنی اپنی پارٹیوں کے دفاع میں سرگرم اور ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کررہے ہیں وہاں پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کی طرف سے نالی،سولنگ، روڈز اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح اور سنگ بنیادوں کا سلسلہ بھی زوروں پر ہے اگر اسے دوسرے لفظوں میں تختیوں کا سیزن کا کہا جائے تو کچھ غلط نہ ہوگا یقینا اس کی بنیادی وجہ متوقع عام انتخابات ہی ہیں جس میں خطہ کے تمام سیاستدانوں کی کوشش یہی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ عوامی ہمدردیاں حاصل کرتے ہوئے آنے والے انتخابات میں جیت کا تسلسل برقرار رکھ سکیں مگر اس میں بیشتر کو تو ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ عوام کا سیاسی شعور اب پہلے جیسا نہیں رہااور نہ ہی برادری ازم کی سیاست کارآمد ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے کیونکہ اب ہر چوک چوراہوں اور تھڑوں پر سیاست اور سیاستدانوں کی کارکردگی زیر بحث ہوتی ہے اور عوام جو پہلے پہل کسی وڈیرے و زمیندار کی مخالفت کرنے سے کتراتے تھے وہ اب بلا خوف خطر سوشل میڈیا اور دیگر نجی محافل میں ان کے اچھے برے کارناموں کے بارے گفتگو کرتے ہوئے دکھائی و سنائی دیتے ہیں۔عوام کا بڑھتا ہوا سیاسی شعور اس بات کی طرف اشارہ کررہا ہے انتخابات میں گزشتہ کئی دہائیوں سے نسل درنسل منتخب ہونے والے روایتی و موروثی سیاستدانوں کو اب اپنا طرز سیاست بدلتے ہوئے تھانہ کچہری کی سیاست کو بھی ترک کرنا ہوگا کیونکہ اب عوام کی نظروں سے کچھ بھی اوجھل نہیں رہا اور نہ ہی اب انہیں خوشی و غمی کی تقریبات میں شرکت کرکے خوش کیا جاسکتا بلکہ اب ہر ایک سیاستدان کو چاہے اس کا تعلق حکومت سے ہو یا پھر اپوزیشن سے عوام کو درپیش مسائل اور ان کی توقعات پر پورا اترنا ہوگا اور جو اس میں ناکام رہے گا وہ الیکشن میں بھی کسی صورت کامیاب نہیں ہوپائے گا۔ دوسری جانب خطہ کے سیاسی رہنما اسمبلیوں کی تحلیل،قبل از وقت انتخابات اور پنجاب میں تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے اپنی مختلف آراء کا اظہار کررہے ہیں کچھ کے مطابق وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الہی کسی صورت بھی اسمبلی کو تحلیل نہیں ہونے دیں گے اور عمران خان کو 23 دسمبر کے اعلان پر ایک اور یوٹرن لینا پڑے گا جبکہ کچھ حلقے عمران خان اور چوہدری پرویز الہی کے ایک پیج پر ہونے اور تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کے دعوے کررہے ہیں اب اس میں کون ناکام اور کون کامیاب ہوگا اس بارے حتمی طور پر تو کچھ نہیں کہا جاسکتا مگر موجودہ سیاسی صورتحال میں سب سے بڑا امتحان وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الہی کا ہی ہے کہ وہ آج ہونے والے عدم اعتماد میں کس طرح بچ نکلنے میں کامیاب ہوتے اور پھر دو دن بعد اسمبلی تحلیل کرتے بھی ہیں یا نہیں؟
کوٹ ادو کے بعد جنوبی پنجاب کے دوسرے ضلع تونسہ کی بھی وزیراعلیٰ نے منظوری دے دی ہے۔تونسہ کے ضلع بننے کے بعد جنوبی پنجاب کے اضلاع کی تعداد 12 سے بڑھ کر 13 ہوگئی ہے اور سیاسی بصیرت رکھنے والے حلقے خطہ میں نئے ڈویژ ن کی باتیں بھی کررہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ جنوبی پنجاب الگ صوبہ کے قیام کا وعدہ تو شاید پورا نہ ہوپائے مگرحکمران طبقہ کی طرف سے اضلاع کے ساتھ نیا ڈویژ ن بنا کر عوام کو خوش کرنے کی کوشش ضرور کی جائے گی اگر اس طرح ہوتا تو یہ جہاں عوام کے ساتھ بہت بڑا دھوکہ ہوگا وہاں ہر پانچ سال بعد صوبہ کارڈ استعمال کرنے والوں کو بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاستدان جنوبی پنجاب میں نئے اضلاع اور ڈویژن میں اضافے کے ساتھ ساتھ الگ صوبے کے قیام کی کوششوں کو بھی جاری رکھیں تاکہ گزشتہ ساڑھے سات دہائیوں سے محرومی اور پسماندگی کا شکار یہ خطہ بھی ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوسکے اور عوام میں جو صحت و صفائی تعلیم سمیت دیگر بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کی وجہ سے احساس محرومی جو ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا جارہا ہے وہ کم ہوسکے۔ ادھر تونسہ کے علاقے بارتھی کے مکین سابق وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کا احتساب عدالت کے باہر میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میرے خلاف ہونے والی باتیں تحریک انصاف کے بیانیے پر تنقید ہے،ساڑھے تین سال سے زیادہ عرصہ صوبے کی خدمت کی، میرا ضمیر مطمئن ہے، اپنے دور میں صوبے میں ریکارڈ ترقیاتی کام کرائے، میرے دور میں بہترین گورننس تھی، کسی کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی میں دوستوں کا احترام کرتا ہوں، مستقبل میں بھی ساتھ مل کر چلیں گے، سینے میں بہت سے راز دفن ہیں لیکن یہ مناسب وقت نہیں، میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے۔اب پتہ نہیں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کس مناسب وقت کے انتظار میں ہیں جب وہ اپنے سینے میں دفن راز فاش کریں گے یا پھروہ اس طرح اپنے اوپر ہونے والی تنقید کو برداشت کرتے ہوئے آگے بڑھتے رہیں گے۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی و و زیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کے اقوام متحد ہ کے خطاب میں بھارت کا مکروہ چہرہ عیاں کرنے پر ملتان سمیت جنوبی پنجاب بھر میں جیالوں نے پارٹی سربراہ کے حق میں ریلیاں نکالیں اور مودی مردہ باد کے نعرے لگائے۔ اس سلسلے میں پاکستان پیپلز پارٹی ملتان سٹی و ضلع کے زیر اہتمام سینئر نائب صدر جنوبی پنجاب خواجہ رضوان عالم کی قیادت میں پریس کلب سے نواں شہر چوک تک پاکستان زندہ باد بلاول بھٹو زرداری زندہ باد کے نام سے ریلی نکالی گئی جس سے مرکزی رہنماؤں نے خطاب اور کارکنوں نے مودی قصائی مردہ باد، بھارت مردہ باد کے نعرے فضا میں بلند کرتے رہے۔اسی طرح پیپلز پارٹی وومن ونگ ملتان سٹی کے زیر اہتمام بھی ایک ریلی نکالی گئی۔ ریلی میں وومن ونگ ملتان سٹی کی عہداران و کارکنان نے شرکت کی اس موقع پر خواتین نے بلاول بھٹو کے حق میں اور بھارتی وزیر اعظم مودی کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)
فیس بک کمینٹ

