بیرونی امداد کے باوجود ملک بھر کی طرح جنوبی پنجاب کے سیلاب متاثرین کی آباد کاری بھی بہت بڑا چیلنج ہے کیونکہ ایک طرف جہاں تیزی سے بدلتا ہوا موسم سیلاب زدگان کی پریشانیوں میں اضافہ کی وجہ بن رہا ہے تو وہاں ان متاثرین میں سے کثیر تعداد اُن خاندانوں پر مشتمل ہے جو اپنا سارا مال متاع سیلابی پانی کی نذر کرچکے ہیں اور بے سرو سامانی کے عالم میں حکومت،مخیر حضرات یا پھر فلاحی تنظیموں کی طرف سے دئیے گئے خیموں میں مقیم ہیں گو کہ حکومت پنجاب نے خطہ کے سیلاب متاثرین کی آباد کاری کیلئے ماڈل ویلیج کے قیام کا نہ صرف اعلان کیا بلکہ اس کیلئے سروے بھی شروع کررکھا ہے اس کو بھی مکمل ہونے میں مزید وقت لگے اس کے بعد مکانات کی تعمیر اور الاٹمنٹ کا سلسلہ شروع ہوگا شاید یہ سب کچھ موسم سرما کے بعد ہی ہو، تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت سیلاب متاثرین کو سردی کی شدت سے بچانے کے اقدامات کو جنگی بنیادوں پر یقینی بنائے اگر ایسا نہ کیا گیا تو بہت بڑا انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے اور عوام میں سیاستدانوں کے خلاف غم و غصہ بڑھتے ہوئے ان کے اقتدار کے خاتمے کی وجہ بھی بن سکتا ہے تاہم ضرورت اس امر کی ہے وفاقی و صوبائی حکومت آپس کے فرضی اختلافات اور سیاسی شعبدہ بازیوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے الزامات کی بجائے سیلاب زدگان کی دوبارہ آباد کاری پر توجہ دے تاکہ عوام میں کھویا ہوا اعتماد بحال ہوسکے۔
ملتان کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 158شجاع آباد اور 159جلالپور پیروالا میں متوقع عام انتخابات میں سیاسی منظر نامہ تبدیل ہوتا ہوا نظر آرہا ہے کیونکہ سابق وفاقی وزیر سید جاوید علی شاہ اور سابق رکن قومی اسمبلی دیوان عاشق بخاری کے مابین سیاسی اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں جس کی بنیادی وجہ تحریک انصاف کے منحرف رکن قومی اسمبلی این اے 159رانا محمد قاسم نون کے مسلم لیگ (ن) کے سابق وفاقی وزیر سید جاوید علی شاہ سے سیاسی روابط ہیں،جاوید علی شاہ کو اس بات کا یقین ہو چکا ہے کہ مسلم لیگ (ن) این اے 159 جلالپو رپیروالا سے عام انتخابات میں رانا قاسم نون کو ٹکٹ دے گی۔رانا قاسم نون اور سید جاوید علی شاہ کے گٹھ جوڑ کی وجہ یہ ہے کہ وہ سید مجاہد علی شاہ کو مسلم لیگ (ن) کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑانا چاہتے ہیں اور سید جاوید علی شاہ نے رانا قاسم کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کا گروپ جلالپورپیروالا سے محمود مسوان سمیت دیگر دوست احبات رانا قاسم نون کی حمایت کریں گے۔رانا قاسم نون اور سید جاوید علی شاہ کے سیاسی گٹھ جوڑ کا مقصد مسلم لیگ (ن) کے پلیٹ فارم سے پی پی 222سے لنگاہ فیملی کے امیدوار کو آؤٹ کرنا بتایا جارہا ہے کیونکہ اس صوبائی حلقہ میں ملک غلام عباس کھاکھی کی وفات کے بعد کھاکھی فیملی سے کوئی سیاسی قد آور سیاسی شخصیت اس صوبائی حلقہ میں نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ سید جاوید علی شاہ اوررانا قاسم نون سے مل کر سید مجاہد علی شاہ، اپنے بیٹے زین شاہ کو اس صوبائی حلقہ میں الیکشن لڑانے کی سر توڑ کوشش کر رہے ہیں اسی طرح این اے 158میں تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی محمد ابراہیم خان کے اپنے صوبائی پینل میں بھی سیاسی اختلافات ہیں تحریک انصاف کے منحرف رکن قومی اسمبلی رانا قاسم نون نے اپنے بھائی رانا سہیل نون کیلئے تحریک انصاف میں مشکلا ت پید ا کررکھی ہیں،تاہم رانا سہیل احمد نون یہ کہتے ہوئے سنائی دے رہے ہیں کہ وہ تحریک انصاف میں ہیں اگر رانا قاسم نون جلالپور پیروالا این اے 159میں مسلم لیگ (ن) کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑیں گے تو رانا سہیل احمد نون شجاع آباد کے صوبائی حلقہ 222سے کس پارٹی سے الیکشن لڑیں گے اگر عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) پی ٹی آئی کے منحرف رکن قومی اسمبلی رانا قاسم نون کو این اے 159میں ٹکٹ جاری کرتی ہے تو دیوان گروپ کا سیاسی رد عمل کیا ہوگا اگر دیوان گروپ کو مسلم لیگ ٹکٹ جاری کرتی ہے تو رانا قاسم نون کا سیاسی مستقبل کیا ہو گاسیاسی حلقوں میں یہ بات بھی زبان زد عام ہے کہ پی ڈی ایم کے سیاسی اتحاد سے شجاع آباد این اے 158مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سید جاوید علی شاہ کیلئے بھی خطرے کی گھنٹی بنتی جارہی ہے کیونکہ اس حلقہ سے سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی پی ڈی ایم کے متفقہ امیدوار ہو سکتے ہیں مگراس سے ایک بات واضع ہو چکی ہے کہ رانا قاسم نون، سید جاوید علی شاہ کے سیاسی گٹھ جوڑ کی وجہ سے دیوان گروپ کے پورے پینل نے لیگی رکن صوبائی اسمبلی رانا اعجاز احمد نون کو اپنے ساتھ ملا کر مسلم لیگ (ن) میں پریشر گروپ بنا لیا ہے۔موجودہ غیر یقینی سیاسی و معاشی صورتحال میں الیکشن کب ہوتے ہیں، پی ڈی ایم اتحاد برقرار رہتاہے یا نہیں،سیاسی پارٹیاں کس کس امیدواروں کو ٹکٹ جاری کرتی ہیں؟،ان کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔
16اکتوبرکو ہونے والے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 157کے ضمنی انتخاب کا معرکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت اختیار کرتا جارہا ہے،ایک طرف سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی بیٹے کی جیت کیلئے سرگرم ہیں تو دوسری جانب وائس چیئرمین پاکستان تحریک انصاف و سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اپنی بیٹی مہر بانو قریشی کو ایم این اے بنوانے کے خواہش مند ہیں اب گیلانی و قریشی میں سے کون کامیاب اور کسے شکست کا سامنا کرنا پڑے گا اس کا حتمی فیصلہ تو سولہ اکتوبر کی شام کوہوگا مگر پی ڈی ایم کے متفقہ امیدوار علی موسیٰ گیلانی کی جیت کیلئے اتحاد میں شامل جماعتوں کے رہنماؤں کی یقین دہانیاں زور و شور سے جاری ہیں۔
گزشتہ روز پی ڈی ایم اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے ملتان کادورہ کیا۔واضع رہے کہ یہ ان کا گزشتہ آٹھ دنوں میں دوسرا دورہ ہے اور اس موقع پر سید یوسف رضا گیلانی کے ہمراہ میڈیا نمائندگان سے گفتگو میں کہنا تھا کہ آرمی چیف کو توسیع مل سکتی ہے یا نہیں ہم نے اس کو آئینی طور پر دیکھنا ہے اگر توسیع مل سکتی ہے تو بھی آئینی طور پر دیکھنا ہوگا،ضمنی انتخاب میں یوسف رضا گیلانی صاحب کے صاحبزادے کو سپورٹ و حمایت کرنے اول دن سے پابند ہیں۔ سید یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ فارن فنڈنگ کیس میں عمران خان کی غلط بیانی ثابت ہوگئی ہے ہمیں امپورٹڈ کا طعنہ دینے والے خود امپورٹڈ ہیں،ہم نے ملک دیوالیہ ہونے سے بچایا پٹرول کی طرح بجلی بھی سستی کریں گے۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)
فیس بک کمینٹ

