آڈیو لیکس کے شور شرابے میں وفاق اور پنجاب حکومت کے درمیان اقتدار کی کھینچا تانی کا کھیل ہر گزرتے دن کے ساتھ نہ صرف شدت اختیار کرتا جارہا ہے بلکہ الزام تراشیوں کا سلسلہ بھی زور و شور کے ساتھ جاری ہے۔ ایک طرف پاکستان تحریک انصاف اور ق لیگ کی اتحادی حکومت ہے تو دوسری جانب مرکز میں پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر ن لیگ فرنٹ پر کھیل رہی ہے جبکہ باقی جماعتیں اس سیاسی گھن چکر میں خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہی ہیں یقینا اس خاموشی میں بھی ان کا سیاسی مفاد ہے کیونکہ اس وقت خراب معاشی حالات اور عوامی مسائل میں اضافے کا جو ملبہ کل تک پی ٹی آئی کے کھاتے میں پڑ رہا تھا وہ اب ن لیگ کے حصے میں آرہا ہے گو کہ وفاقی حکومت نے مفتاح اسماعیل کی جگہ اسحاق ڈار کو لا کر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور ڈالر کی اونچی اڑان پر قابو تو پا لیا ہے مگر اس کے باوجود جنوبی پنجاب سمیت ملک بھر میں مہنگائی و بے روزگاری کا جن حکومتی کنٹرول سے باہر ہوتا جارہا ہے اور اس کی وجہ سے حکومت کو آگے چل کر مزید پریشانیوں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اگر وفاقی حکومت درپیش مشکلات و پریشانیوں سے پیچھا چھڑاتے ہوئے عوامی اعتماد کے حصول کو یقینی بنانا چاہتی ہے تو اس چاہیے کہ وہ سب سے پہلے عوامی مسائل کے حل کیلئے زمینی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے عملی اقدامات کو یقینی بنائے اگر وہ اس میں کامیاب ہوگئی تو نہ صرف سیاسی مخالفین کو مات دینے میں کامیاب ہوجائے گی بلکہ عوام میں کھویا ہوا اعتماد بھی بحال ہوجائے گا مگر یہ سب کچھ ہوگا تب جب ذاتیات کو ایک طرف رکھتے ہوئے عوامی و ملکی مفادات کو اولین ترجیح دی جائے گی وگرنہ اقتدار کے خاتمے کیلئے لٹکتی تلوار کسی بھی وقت گرسکتی ہے اور اس کے بعد ان کی کوئی بھی تدابیر کار آمد ثابت نہیں ہوپائے گی۔
ملتان اور خانیوال میں جہاں ضمنی انتخاب کا معرکہ چند دنوں کی دوری پر ہے وہاں تیسری مرتبہ انتخابات کے ملتوی ہونے کی باتیں بھی کی جارہی ہیں کیونکہ اس حوالے سے وزارت داخلہ کی طرف سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو الیکشن ملتوی کرنے کی تجویز دی گئی ہے تادم تحریر اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں ہوپایا کہ الیکشن وقت پر ہوں گے یا ایک مرتبہ پھر ملتوی ہوں گے۔ملتان کے حلقہ این اے 157 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار علی موسی گیلانی کی الیکشن کمپین زوروں پر ہے جبکہ دوسری جانب تحریک انصاف کی امیدوار مہر بانو قریشی کی انتخابی مہم جو پہلے پہل زور و شور سے جاری تھی اب ٹھنڈی پڑ گئی ہے۔ ملتان کے سیاسی حلقے اسے عمران خان کے لانگ مارچ کے اعلان کو قرار دے رہے ہیں جس کا تاحال اعلان تو نہیں ہوپایا مگر اس حوالے سے پی ٹی آئی کی مقامی قیادت کارکنوں اور عہدیداران کا جوش و جذبہ بڑھانے میں مصروف عمل ہے اب یہ لانگ مارچ ضمنی انتخابات سے قبل ہوگا یا بعد؟ اس کی حتمی تاریخ کے حوالے سے وائس چیئر مین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی بھی لا علم ہیں مگر تین روز بعد ہونے والے انتخابات میں ان کی عدم دلچسپی اس بات کی طرف اشارہ کررہی ہے کہ اندرون خانہ کچھ ایسا ضرور طے کر لیا گیا ہے جس کی وجہ سے وہ ٹھنڈے پڑے ہوئے ہیں، موجودہ حالات میں ملتان کے حلقہ این اے 157 کے ضمنی انتخابات بروقت ہوتے ہیں تو موسیٰ گیلانی کے کامیاب ہونے کے چانسز بہت زیادہ ہیں۔اگر عمران خان اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کرتے ہیں تو جنوبی پنجاب کی قیادت کیلئے یہاں سے بندے نکالنے بہت مشکل ہو گا کیونکہ اس حوالے سے ماضی گواہ ہے کہ ملتان سمیت خطہ بھر سے نہ صرف کارکنوں کی قلیل تعداد نکلی تھی بلکہ پارٹی کی مقامی قیادت نے بھی گھروں میں رہنے میں عافیت جانی اور چند ایک نے تو از خود گرفتاریاں دے کر جان بخشی کرائی تھی اب موجودہ حالات میں عمران خان کیا فیصلہ کرتے ہیں یہ بھی جلد واضع ہوجائے گا۔
پنجاب حکومت نے صوبے میں 10نئی یونیورسٹیاں قائم کرنے کی منظوری دے دی ہے،نئی یو نیو ر سٹیوں کے قیام سے متعلق بل کا مسودہ پہلے پنجاب اسمبلی میں پیش کیا جائے گا پھرحکومت پنجاب جامعات کا انفراسٹرکچر بنائے گی، جبکہ جامعات کی حتمی منظور ایچ ای سی دے گا۔نئی جامعات میں یونیورسٹی آف تو نسہ،یونیورسٹی آف لیہ، یونیورسٹی آف حافظ آباد،انڈس یونیورسٹی راجن پور،بابا فرید یونیورسٹی پاکپتن، یونیورسٹی آف اٹک،یونیورسٹی آف گجرانوالہ،یونیور سٹی آف ٹوبہ ٹیک سنگھ،وقار النساء ویمن یونیورسٹی راولپنڈی،یو ای ٹی سیالکوٹ اور ڈی جی خان ویمن یونیور سٹی ہے جبکہ اس میں یونیورسٹی آف مظفر گڑھ کا نام شامل نہیں ہے جس کیلئے پاکستان تحریک انصاف کے تیسرے وفاقی بجٹ میں فنڈز بھی مختص کئے گئے تھے اب پتہ نہیں صوبہ بھر کیلئے منظور ہونے والی ان دس
یونیورسٹیوں میں جوکہ چار جنوبی پنجاب کے مختلف شہروں میں بنیں گی اس میں مظفرگڑھ کو کیوں نظر انداز کیا گیا جوکہ یقینا یہاں سے منتخب ہونے والے ارکان اسمبلی کی کارکردگی پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے کہ وہ قانون ساز اسمبلی میں ضلع مظفر گڑھ کے عوام کا مقدمہ لڑنے میں کس مقدر سست روی کا مظاہرہ کررہے ہیں،ارکان اسمبلی کی روایتی ہٹ دھرمی سے لگ یہی رہا ہے کہ انہوں نے جس طرح مظفر گڑھ علی پور روڈ جسے ”قاتل روڈ“ کہا جاتا ہے آپسی لڑائی کی بھینٹ چڑھایا ہوا ہے اسی طرح یونیورسٹی آف مظفر گڑھ کا خواب بھی بھی کبھی پورا نہیں ہوپائے گا۔اس حوالے سے سول سوسائٹی سمیت دیگر شہری تنظیموں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ یونیورسٹی کے قیام کیلئے آواز کو بلند کرتے ہوئے اپنے اس مطالبے کو اقتدار کے اعلیٰ ایوانوں تک پہنچائیں تاکہ نوجوان نسل کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع اپنے ہی شہر میں مل سکیں۔
ملتان سمیت جنوبی پنجاب بھر میں جشن عید میلاد النبیؐ کی تقریبات مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائی گئیں،گھروں،بازاروں اور سرکاری عمارتوں کو برقی قمقموں کے ساتھ روشن کرنے کے ساتھ گلی محلوں میں بھی لائٹنگ اور سبز جھنڈیاں کی بہار دکھائی دی۔12 ربیع الاول کے دن میلاد کی تقریبات کے ساتھ ریلیاں بھی نکالی گئیں جس میں تمام مکاتب فکر و عمر کے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کرکے خاتم النبین حضرت محمدؐ سے محبت کا عملی ثبوت پیش کیا اور اس موقع پر علماء کرام نے نبی کریمؐ کی تعلیمات پر روشنی ڈالتے ہوئے پیار و محبت اور رواداری کا درس دیا۔
فیس بک کمینٹ

