عالمی بینک کی حالیہ سیلاب سے متعلق رپورٹ ”پوسٹ ڈیزاسٹر نیڈز اسیسمنٹ“ کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح میں 3.7 تا 4 فیصد اضافے کا خدشہ ہے جس سے مزید 84 لاکھ سے 91 لاکھ افراد غربت کے شکنجے میں جکڑے جائیں گے۔ پاکستان کو جسے گلوبل وارمنگ کی وجہ سے 14.9ارب ڈالر سے زائدکا نقصان اٹھانا پڑا اور مجموعی معاشی خسارہ 15.2ارب ڈالر کا ہوا جو ملکی معیشت کو ناک آؤٹ کردینے والا نقصان ہے۔رپورٹ میں سیلاب کے بعد بحالی اور مرمت وتعمیرنو کے کاموں پر کم سے کم 16.3ارب ڈالر کے اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ملک میں ایک طرف موسمیاتی تبدیلیوں نے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے تو دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کا حقیقی آزادی لانگ مارچ عمران خان پر ہونے والے قاتلانہ حملے کے بعد وائس چیئرمین پی ٹی آئی و سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی سربراہی میں اپنی منزل اسلام آباد کی جانب رواں دواں ہے۔اسلام آباد مارچ میں شرکت کیلئے جنوبی پنجاب کی قیادت کی طرف سے 800 بسوں کا قافلہ لے جانے کے دعوے کئے جارہے ہیں اور اس حوالے سے ہر ایک رکن اسمبلی کو 4 سے 5 بسیں لے جانے کا ٹاسک دیا گیا ہے اب اس میں کون کامیاب اور کون ناکام ہوتا ہے اس کے بارے میں وثوق کے ساتھ تو کچھ نہیں کہا جاسکتا مگر اسلام آباد مارچ اور عمران خان پر ہونے والے قاتلانہ حملے کے بعد خطہ کے ارکان اسمبلی، عہدیداران اور کارکنان کافی متحرک نظر آرہے ہیں ان کے مقابلے میں ن لیگ و پیپلز پارٹی سمیت دیگر جماعتوں کی مقامی قیادتوں نے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے اس کی بنیادی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت ہے جس کی وجہ سے انہیں انتظامیہ کی طرف سے کسی بھی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑ رہا ہے اور وہ جہاں چاہتے ہیں روڈ بلاک کرکے بیٹھ جاتے ہیں،انہیں اس بات کی ذرا برابر بھی پرواہ نہیں ہوتی کہ ان کے اس اقدام سے عام عوام کو کتنی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ تا ہے اور اس کے ملکی معیشت پر کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں اس کے برعکس اگر انہیں کسی بات کی فکر ہوتی ہے تو وہ صرف اور صرف پارٹی کی مرکزی قیادت کو خوش کرنے کی جس کیلئے وہ ہر حد تک جانے کیلئے تیار رہتے ہیں جبکہ اس حوالے سے پاکستان کی جمہوری تاریخ گواہ ہے جب جب اس طرح کے لانگ مارچ،دھرنے اور احتجاج کئے گئے تو اس کا خمیازہ ملک اور قوم دونوں کو مسائل اور پریشانیوں میں اضافے کی صورت میں بھگتنا پڑا مگر اس کے باوجود حکمران طبقہ کچھ بھی سمجھنے کو تیار نہیں بلکہ سب کو چاہے وہ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں اپنی اپنی پڑی ہوئی کسی کو بھی غربت،بے روزگاری اور مہنگائی کی دلدل میں مزید دھنستی ہوئی قوم کی فکر و پرواہ نہیں اور ان کے عوامی حقوق کے حصول کیلئے کی کئے گئے تمام تر وعدے و دعوے فرضی ثابت ہورہے ہیں جبکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ قانون ساز اسمبلیوں میں موجود سیاسی جماعتیں اور ارکان اسمبلی ذاتی مفادات،پسند و نا پسند کی سیاست اور اداروں کیخلاف محاذ آرائی کی بجائے ملک و قوم کو درپیش مسائل کے حل کیلئے بلا تفریق اپنا اپنا کردار ادا کرتے مگر دور دور تک ایسا کچھ بھی ہوتا نظر نہیں آرہا۔
ضلع کوٹ ادو اور لیہ کے درمیان ہونے والی 7 ویں تھل جیپ ریلی کا آغاز کل 17 نومبر سے ہوگا اس کیلئے 190 کلومیٹر کا ٹریک تیار کر لیا گیا ہے اور گزشتہ روز اس کا افتتاح بھی کیا گیا۔ سترہ نومبر سے شروع ہونے والی ساتویں تھل جیب ریلی کا میلا 4 دن چلے گا جس میں گھڑ سواری، نیزا بازی، اور میوزیکل فنگشن بھی ضلعی انتظامیہ نے ترتیب دیاہوا ہے اور اس حوالے سے مرد و خواتین رائیڈرز حصہ لینے اور اپنے جوہر دکھانے کیلئے پر چوش ہیں۔چولستان جیپ ریلی کے بعد تھل جیپ ریلی بھی کافی اہمیت اختیار کرتی جارہی ہے اور اس میں ملک سمیت بیرون ممالک سے شائقین شریک ہوتے ہیں۔یقینا اس طرح کے ایونٹ موجودہ حبس زدہ ماحول میں جہاں تفریح کا باعث بنتے ہیں وہاں مقامی ثقافت بھی پرموٹ ہوتی ہے تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت تھل واسیوں کو زندگی کی بنیادی سہولیات صحت،تعلیم، بجلی،روزگاراور پینے کا صاف پانی بھی فراہم کرے تاکہ دور جدید کے باوجود پتھر کے زمانے میں جینے والے تھل کے مکین بھی جدید سہولیات سے ہم آہنگ ہوکر پسماندگی اور محرومی کے احساس سے چھٹکارہ پاسکیں۔
نومبر کے وسط سے شروع ہونے والا کرشنگ سیزن اس بار تاخیر کا شکار ہے حکومتی ذرائع اسے 30 نومبر تک شروع کرنے اور گنے کی امدادی قیمت 300 روپے فی چالیس کلو گرام مقرر کرنے کا امکان ظاہر کررہے ہیں کرشنگ سیزن لیٹ ہونے کی وجہ سے جہاں گنے کے کاشتکاروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہاں اوپن مارکیٹ میں چینی کے کلوزنگ ایکس ملز ریٹ 14نومبر کو84 روپے پچاس پیسے کلو تک اوپر چلے گئے ہیں جوکہ چند ہفتے قبل 78 روپے سے 81 روپے فی کلو کے درمیان مہینہ بھر رہے اب چونکہ کرشنگ سیزن وسط نومبر کی بجائے اواخر میں شروع کیے جانے کی اطلاعات ہیں تو مزید 15 یوم کیلئے جنوبی پنجاب کے شوگر ملز مالکان نے اپنے ایکس ملز ریٹس بڑھا دئیے ہیں جس سے آنے والے دنوں میں چینی کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ موجودہ خراب معاشی صورتحال اور عوام کو درپیش بڑھتے ہوئے مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے وفاقی و صوبائی حکومت کو چاہیے کہ وہ شوگر ملز مالکان کو اس بات کا پابند بنائیں کہ کرشنگ سیزن کو بروقت شروع کرتے ہوئے گنے کے کاشتکاروں سے مقررکردہ نرخوں پر گنا خرید کرکے بروقت ادا ئیگی کو یقینی بنائیں کیونکہ اس حوالے سے ماضی گواہ ہے کہ شوگر ملز انتظامیہ کاشتکاروں کا مسلسل استحصال کرتی آرہی ہیں جس کی وجہ سے کاشتکاروں کو مجوراً اپنی ضروریات پوری کرنے کیلئے مڈل مین کا سہارا لینا پڑتا ہے جو ان سے اونے پونے داموں گنا خرید کرکے منافع کمانے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ضلع کوٹ ادو اور لیہ کے درمیان ہونے والی 7 ویں تھل جیپ ریلی کا آغاز کل 17 نومبر سے ہوگا اس کیلئے 190 کلومیٹر کا ٹریک تیار کر لیا گیا ہے اور گزشتہ روز اس کا افتتاح بھی کیا گیا۔ سترہ نومبر سے شروع ہونے والی ساتویں تھل جیب ریلی کا میلا 4 دن چلے گا جس میں گھڑ سواری، نیزا بازی، اور میوزیکل فنگشن بھی ضلعی انتظامیہ نے ترتیب دیاہوا ہے اور اس حوالے سے مرد و خواتین رائیڈرز حصہ لینے اور اپنے جوہر دکھانے کیلئے پر چوش ہیں۔چولستان جیپ ریلی کے بعد تھل جیپ ریلی بھی کافی اہمیت اختیار کرتی جارہی ہے اور اس میں ملک سمیت بیرون ممالک سے شائقین شریک ہوتے ہیں۔یقینا اس طرح کے ایونٹ موجودہ حبس زدہ ماحول میں جہاں تفریح کا باعث بنتے ہیں وہاں مقامی ثقافت بھی پرموٹ ہوتی ہے تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت تھل واسیوں کو زندگی کی بنیادی سہولیات صحت،تعلیم، بجلی،روزگاراور پینے کا صاف پانی بھی فراہم کرے تاکہ دور جدید کے باوجود پتھر کے زمانے میں جینے والے تھل کے مکین بھی جدید سہولیات سے ہم آہنگ ہوکر پسماندگی اور محرومی کے احساس سے چھٹکارہ پاسکیں۔
نومبر کے وسط سے شروع ہونے والا کرشنگ سیزن اس بار تاخیر کا شکار ہے حکومتی ذرائع اسے 30 نومبر تک شروع کرنے اور گنے کی امدادی قیمت 300 روپے فی چالیس کلو گرام مقرر کرنے کا امکان ظاہر کررہے ہیں کرشنگ سیزن لیٹ ہونے کی وجہ سے جہاں گنے کے کاشتکاروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہاں اوپن مارکیٹ میں چینی کے کلوزنگ ایکس ملز ریٹ 14نومبر کو84 روپے پچاس پیسے کلو تک اوپر چلے گئے ہیں جوکہ چند ہفتے قبل 78 روپے سے 81 روپے فی کلو کے درمیان مہینہ بھر رہے اب چونکہ کرشنگ سیزن وسط نومبر کی بجائے اواخر میں شروع کیے جانے کی اطلاعات ہیں تو مزید 15 یوم کیلئے جنوبی پنجاب کے شوگر ملز مالکان نے اپنے ایکس ملز ریٹس بڑھا دئیے ہیں جس سے آنے والے دنوں میں چینی کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ موجودہ خراب معاشی صورتحال اور عوام کو درپیش بڑھتے ہوئے مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے وفاقی و صوبائی حکومت کو چاہیے کہ وہ شوگر ملز مالکان کو اس بات کا پابند بنائیں کہ کرشنگ سیزن کو بروقت شروع کرتے ہوئے گنے کے کاشتکاروں سے مقررکردہ نرخوں پر گنا خرید کرکے بروقت ادا ئیگی کو یقینی بنائیں کیونکہ اس حوالے سے ماضی گواہ ہے کہ شوگر ملز انتظامیہ کاشتکاروں کا مسلسل استحصال کرتی آرہی ہیں جس کی وجہ سے کاشتکاروں کو مجوراً اپنی ضروریات پوری کرنے کیلئے مڈل مین کا سہارا لینا پڑتا ہے جو ان سے اونے پونے داموں گنا خرید کرکے منافع کمانے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔
فیس بک کمینٹ

