کوئٹہ : بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے قریب چلتن کے پہاڑی علاقے میں پکنک منانے آنے والے چھ سے زیادہ نوجوان منگل کے روز ایک پراسرار ’دھماکے‘ میں زخمی ہوگئے تھے، تاہم تین روز گزر جانے کے باوجود بھی وزیر اعلیٰ سمیت انتظامیہ اور پولیس افسران کو اس واقعے کی نوعیت کا علم نہیں ہو سکا ہے۔
زخمی ہونے والے نوجوانوں نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ وہ فائرنگ یا زمین پر پڑے کسی بارودی مواد کے پھٹنے کے نتیجے میں زخمی نہیں ہوئے بلکہ ان کے قریب فضا سے آنے والی کوئی چیز پھٹی تھی۔
یہاں حیران کُن بات یہ ہے کہ زخمی نوجوانوں کو کوئٹہ کے سول ہسپتال میں طبی امداد دی گئی ہے لیکن صوبے کے وزیرِ اعلیٰ سمیت انتظامیہ اور پولیس افسران کو ایسے کسی دھماکے یا واقعے کے بارے میں علم ہی نہیں۔
ایک پریس کانفرنس کے دوران جب وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے چلتن میں ہونے والے واقعے کے بارے میں پوچھا گیا تھا انھوں نے کہا کہ : ’اس کی تفصیل میرے پاس نہیں ہے جوں ہی آئے گی میں شیئرکردوں گا۔‘
تاہم چلتن میں زخمی ہونے والے ایک نوجوان نے سول ہسپتال کوئٹہ کے ٹراما سینٹر کے باہر بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’منگل کے روز پود گلی چوک سے تعلق رکھنے والے ہم 13 دوست پکنک منانے کے لیے چلتن کے پہاڑی علاقے میں گئے تھے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’شام کے وقت جب گھروں کی طرف واپس آرہے تھے کہ اچانک ایک دھماکہ ہوا جس میں مجھ سمیت بہت سارے دوست زخمی ہوئے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں بدھ کی صبح سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کیا گیا جہاں کم زخمی ہونے کے باعث ابتدائی طبی امداد کی فراہمی کے بعد انھیں گھر بھیج دیا گیا۔
زخمی ہونے والے ایک اور نوجوان نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ چونکہ وہ زیادہ زخمی ہونے کی وجہ سے ہوش و حواس کھو چکے تھے اس لیے صورتحال کا درست طریقے سے جائزہ نہیں لے سکے۔
تاہم ان کا بھی کہنا تھا کہ وہ ’اوپر سے آنے والی کسی چیز‘ کی وجہ سے زخمی ہوئے تھے۔
اس واقعے میں زخمی ہونے والے افراد کی تعداد کتنی تھی اور ان کے زخموں کی نوعیت کیا تھی، یہ جاننے کے لیے ٹراما سینٹر کے سربراہ ڈاکٹر ارباب کامران سے رابطہ کیا لیکن انھوں نے اس سلسلے میں کوئی بات کرنے سے گریز کیا۔
ان واقعے کے حوالے سے کمشنرکوئٹہ ڈویژن اور ڈپٹی کمشنرکوئٹہ سے فون پر رابطے کی کوشش کرنے کے علاوہ ان کو واٹس ایپ پر پیغامات بھی بھیجے گئے لیکن انھوں نے نہ کال وصول کی اور نہ ہی میسیج کا جواب دیا۔
تاہم قائمقام ایس ایس پی آپریشنزکوئٹہ آصف یوسفزئی کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں یہ واقعہ مستونگ کی جانب پیش آیا تھا۔
فیس بک کمینٹ

