گزشتہ سے پیوستہ
حالانکہ قرون وسطیٰ میں اسی مغربی معاشرے میں عورت فساد کی جڑ مجرم ذلت اور رسوائی کا نشان تھی اسی سماجی جبر اور ظلم کے نتیجے میں عورت کا رد عمل بھی شدید اور خوفناک تھا ۔۔یہ عورت جب طاقتور ہوئی تو اس نے ایک مادر پدر آ زادی کی بنیاد رکھی ۔۔ مگر سرمایہ دارانہ نظام کے طاغوتی کارندوں نے اس عورت کو اپنے مالی مفادات کے لیے ایک ایسا کھلونا بنا لیا جو ان کی چابی سے چلتا ہے۔مغربی طاقتوں نے فن اور ادب کے نام پر جنسی آ زادی اور بے راہروی کو عام کیا اور پسماندہ ملکوں کے ذرائع ابلاغ اور نشر و اشاعت کے تمام مراکز پر اس کی ترویج میں مصروف ہوئے گویا مشرق میں ایک سماجی بغاوت کی راہ ہموار کی جا رہی ہے جہاں اگلی نسل امتیازات اور روایات کو چھوڑ کر سرکشی اختیار کرے اور جنسی آ زادی کے سیلاب میں ڈوب جائے تاکہ طاقتور مغرب ان پسماندہ معاشروں کو خوب لوٹ کھسوٹ سکےاور غفلت اور بے حسی میں نیم بے ہوش معاشرہ مغرب کی جنسی آزادی کے سحر میں گرفتار اپنی سیاسی سماجی اور اقتصادی غلامی سے بے خبر رہے ۔۔
مغرب کی عورت جب اپنی طاقت سے اقتصادی میدانوں میں نکلی تو اس سے جڑے خاندانی مذہبی اور اجتماعی احساسات کمزور پڑ گئے مردوں کے برابر آ کر اس نے ایک ایسی آ زادی کے میدان میں قدم رکھا جہاں وہ اپنی لطیف سچائیوں کو بھول کر فطری اور روحانی تقاضوں کو توڑ کر خود مختار اور آزاد ہو گئی ۔۔یہ ایک تباہ کن رد عمل تھا اس سختی جبر اور حقوق کی پامالی کا کہ جس کے بعد وہ عورت اب مجبور نہیں تھی کہ وہ قربانی دے ایثار کرے اور افراد خانہ کے لیے اپنی ضروریات کو پس پشت ڈال دے یہ عورت عشق فداکاری ایثار روحانی اور اخلاقی قدریں سب بھول کر فقط اپنی ذات کے لیے جینے کا جذبہ لے کر آگے بڑھی طلاق اور گھر ٹوٹنے سے معاشرہ سماجی حوالے سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے لگا بچوں کے لیے قربانی دینے کا تصور عقلی طور پر ٹھکرا کر عورت معاشرے سے اجتماعی تعلق کمزور کر کے ایسی تنہائی کا شکار ہو گئی کہ خود کشی تک جا پہنچی کیونکہ اخلاقی اقدار میں ایثار و قربانی اور وفا ہی انسان کو اجتماعی زندگی کا کامیاب فرد بناتے ہیں شاید اس لیے مغرب میں خواتین کے خودکشی کے بے شمار واقعات سامنے آتے رہتے ہیں مردوں کی نسبت عورتوں میں یہ شرح زیادہ ہے خودکشی کی یہ شرح ایک سنگین سماجی مسئلے کی صورت مغرب کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے ۔ مذہب انسان کو ایک دوسرے سے مربوط کر کے خدا تک پہنچاتا ہے اور مادر پدر آ زادی انسان کو انسانی اور الہی راستوں سے بے تعلق کر کے ہر فرد کو ایک دوسرے سے بے نیاز کر دیتی ہے!! یاد رہے کہ تنہائی اورخود کشی دو ہمسائے ہیں جن کی دیواریں ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہیں ۔
عورتوں میں آزادی کی خواہش اور مردوں کا ذمہ داریوں سے فرار ان دو المیوں نے نکاح اور گھر جیسی نعمت کو مغرب سےچھین لیا گھر بنے بھی تو اتنی تاخیر سے کہ ان گھروں میں خالص جذبوں کی حرارت نہ رہی نہ ہی گھر کی وہ خوبصورت وحدت تشکیل پا سکی جس میں مرد اور عورت ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو کر ایک بہترین اور خوبصورت چار دیواری کی بنیاد رکھتے ہیں پھر اس ٹوٹے پھوٹے گھریلو نظام میں جو اپنی رغبتوں اور آ زاد جنسی رابطوں سے تھک ہار کر بالاخر ایک گھر بنا لیا گیا وہ ایک بے جان اور بے ذائقہ رشتوں کی صورت وبال بن گیا اور دکھاوے کے لیے ہاتھ پکڑنا مصنوعی جذبوں کا اظہار کرنا اور پھر اپنا معاش کمانے کے لیے اپنے راستوں پر نکل جانا یہ گھر نہیں بلکہ دو تھکے ہارے لوگوں کا ایک باہمی سمجھوتہ ہے جہاں خوشیاں نہیں جذبات نہیں بلکہ مجبوری کے رشتے ہیں حتی کہ اس گھر کا بچہ بھی اس سرد مہری اور خود غرضی کا تیسرا کردار بن کر سامنے آتا ہے نہ ماں باپ بچے کے لیے اپنا وقت قربان کرنے پر تیار ہیں اور نہ بچہ ماں باپ کے لیے کوئی وقت نکال سکتا ہے میاں بیوی اس سے پہلے کے بے شمار جنسی تجربات کے بعد اب اس منزل پر پہنچ چکے ہیں کہ انہیں ایک دوسرے میں کوئی کشش نظر نہیں آتی سو پورا گھر ایک سخت سرد مہری میں ہوٹلوں اور کلبوں میں پناہ ڈھونڈتا ہے ۔۔۔
عورت نے چھین کر آ زادی تو لے لی مگر سرمایہ دارانہ نظام نے اپنے مفادات کے تحت گھر کی جنت سے منہ موڑتی عورت کو جنس اور ہوس کے اس استحصال میں اپنا شکار بنا لیا جہاں فنون لطیفہ جو لطیف احساسات پر مبنی سلسلے تھے اسے عورت کے برہنہ وجود کی عیاشی کا ذریعہ بنا دیا گیا گویا سرمایہ دارانہ نظام عورت کو بطور تفریح پیش کر کے اصل مسائل سے دور رکھنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ عورت کو اپنی مصنوعات کا اشتہار بنا کر اسے اپنے مادی مقاصد میں بطور کنیز استعمال کرتا ہے ۔۔۔
آج مشرق کی عورت بھی اپنے معاشرے کے غیر حقیقی اور جاہلانہ جبر سے فرار حاصل کرنا چاہتی ہے اور مغرب ایسے مفرور قیدی کا بآسانی شکار کر رہا ہے۔۔مشرقی معاشرے نے عورت کو حقیر کمزور اور شوہر کی کنیز بنا کر رکھنا چاہا اور اس نے مغرب کی چکا چوند کی طرف قدم بڑھانے شروع کیے ہیں ہم اس عورت کو حضرت فاطمہ اور حضرت زینب کے کردار میں ڈھلنے کے مشورے دیتے ہیں جس کی قوت فکر میں اتنی طاقت بھی نہیں کہ وہ ان عظیم الشان انسانی اقدار کی محافظ اور باعظمت ہستیوں کو پہچان سکے جنہوں نے قدم قدم پر انسانیت، محبت، ایثار ،شجاعت ،وفا اور استقامت کے طاقتور معجزے دکھائے ہماری عورت کو عالمانہ محفلوں میں علمی و تبلیغی اجتماعات میں قران و حدیث و فلسفہ کی امور میں یہاں تک کہ مساجد میں بھی جانے کی اجازت نہیں دی جاتی وہاں فقط مرد جمع ہوتے ہیں عورت صرف مجلس عزا تک جا سکتی ہے جہاں پر اسے ان باعظمت خواتین کی لامثال کردار کی بجائے ان کے غم سنا کر گریہ کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے یہی عورت مغرب کی آزادی کے نعرے کا شکار ہوتی ہے یہ آزادی علم و دانش تخلیق و تہذیب اور تمدن کی آزادی نہیں نہ اس کی شعوری سطح اور فکر و نظر کی بلندی کی آزادی ہے بلکہ یہ آزادی شکاریوں کی وہ قینچی ہے جو اس کی چادر کاٹنے کے در پے ہے ۔۔۔اور دوسری طرف مغربی مصنوعات کی پجاری وہ عورت ہے جس نے اپنے میک اپ اور ظاہری لبادے کو رنگین بنانے کے لیے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیا ہے اس مصیبت میں نہ پچھلی روایتی عورت اس مغربی یلغار کے مقابلے ڈٹ سکتی ہے اور نہ ہی وہ جدید عورت جس کی مثال ایک چابی کی گڑیا کی سی ہے ۔۔ان فکری حملوں کا مقابلہ کرنے کی اہل وہ عورت ہے جو نئے سرے سے خود کو دریافت کرنا چاہتی ہے جو مغرب کے نجس ہاتھوں میں کھیلتی نعرہ آزادی لگاتی اس عورت کے کریہہ چہرے کی حقیقت بھی جان چکی ہے اور کہنہ روایات میں پھنسی بیچاری عورت کی حقیقت سے بھی خوب آ گاہ ہے یہی وہ خواتین ہیں جو اس وقت تمام حقیقتوں سے واقف ہو کر شکاریوں کے جال میں پھنسی ہوئی بے راہ عورتوں کے سانچے میں ڈھلنے کے لیے تیار نہیں ہیں وہ اپنی ذات کے لیے آ زادی اور انتخاب کا حق چاہتی ہیں حقیقی آ زادی اور حقیقی انتخاب اور وہ مثالی انتخاب !!پیغمبر کی بیٹی فاطمہ ہے!! جناب فاطمہ کی ولادت اس معاشرے میں ہوئی جہاں آبرو مند مرد بیٹے کا باپ بننا پسند کرتا تھا یہ قبائلی عہد مادری عہد سے پدری عہد میں داخل ہو چکا تھا یہاں عزت کا نشان فقط مردوں کی اونچی پگڑیاں تھیں بچی کے لیے سب سے بہتر داماد قبر قرار دی گئی تھی . بیٹی کو دفن کر دینا خاندانی عزت کے تحفظ کے لیے ضروری تھا عورت معاشی حوالے سے بھی ایک ناکارہ بوجھ سمجھی جاتی تھی عورت فقط ضعف ،ذلت اور پستی کی علامت تھی البتہ بنی ہاشم کی عورتیں صاحب عزت تھیں قرآن نے غیرت عزت اور پگڑیوں کو رد کرتے ہوئے اسے فقط اقتصادی مفادات کا شاخسانہ قرار دیا سورہ انعام اور سورہ اسراء میں خدا فرماتا ہے کہ اپنی اولاد کو مفلسی کے خوف سے قتل نہ کرو ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اور انہیں بھی رزق عطا کرتے ہیں۔۔یہاں بیٹے سے محروم شخص کو ابتر کہا جاتا تھا یعنی جو بانجھ ہو بے ثمر ہو۔۔بے مایہ ہو!! اس کے مقابلے میں حضرت فاطمہ کی عطا پر لفظ کوثر یعنی برکت کی تمثیل بیان فرمائی گئی یعنی کثرت اولاد کی خوشخبری سنائی گئی ..
(جاری ہے )
فیس بک کمینٹ

