عصر حاضر میں ترقی یافتہ اقوام کی معیشت و معاشرت میں عورتیں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ اور تمام شعبہ ہائے زندگی میں مردوں کے شانہ بہ شانہ کارہائے نمایاں کر رہی ہیں اور اپنے ملک و ملت کی ترقی میں ہاتھ بٹا رہی ہیں۔ کیونکہ مسابقت اتنی بڑھ چکی ہے کہ خاندان کے ہر فرد کو کام کرنا ضروری ہوگیا ہے۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان نے باقی دنیا سے اس ضمن میں کیا سیکھا؟ اور خواتین کی افرادی قوت میں شرکت بڑھانے کے امکانا ت کیلئے کیا لائحہ عمل طے کیا ہے؟ بدقسمتی سے پاکستان میں خواتین کی پیشہ ورانہ اشتراکیت کا تناسب دنیا بھر کے ممالک میں سب سے کم ہے۔ یہاں تک کے ہمسایہ ممالک جیسے نیپال، بھوٹان، سری لنکا، بنگلہ دیش ، بھارت اور افغانستان کی شرح افرادی قوت برائے ملازمت پیشہ خواتین پاکستان سے بہتر ہے۔ یعنی جنوب ایشیائی ممالک میں ہمارے سارے ہمسائے ممالک میں ملازمت پیشہ خواتین کا تناسب ہم سے بہت بہتر ہے جو ان ممالک کی اقتصادی و معاشی ترقی میں نہ صرف مثبت کردار ادا کر رہا ہے بلکہ خواتین کو خود مختار اور با اعتماد بھی بنا رہا ہے۔ جو آئندہ نسلوں کی تعلیم و تربیت میں بھی معاون و مددگار ہو سکے گا ۔
پاکستان میں کام کرنے والی خواتین کی شرح تناسب 25 فیصد ہے، جو خطہ کا سب سے کم ترین تناسب ہے۔ کمال حیرت امر یہ ہے کہ تمام تر بنیاد پرستی اور سخت قدامت پسند ی کے باوجود افغانستان میں خواتین کے پیشہ ورانہ شراکت کی شرح تناسب پاکستان سے زیادہ ہے۔ اعداد و شمار اس بات کی کھلی نشاندہی کر رہے ہیں کہ ترقی یافتہ ممالک میں کام کرنے والی خواتین کی شرح 70-50 فیصد تک ہے، جو ملک اور خواتین دونوں کیلئے یکساں سودمند ہے۔
ُپاکستان میں افرادی قوت کے حوالے سے پیشہ ور مردوں اور خواتین کے تناسب کا با آسانی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ مردوں کی بہ نسبت خواتین کی پیشہ ور یا ملازمت کرنے کی شرح نہایت کم ہے ، مردوں کا افرادی قوت میں تناسب قریب 80 فیصد ہے، جو عورتوں کی ملک میں آبادی کے تناظر میں بہت زیادہ ہے۔ اور یہ شرح قریب دو دھائیوں سے اپنی جگہ قائم ہے، اعلی تعلیم یافتہ خواتین کی موجودگی کے باوجود یہ تناسب بڑھ نہیں پا رہا ۔ لہذا معاشرتی اقتصادیات غیر متوازن ہے اور بوجھ ایک طرف کے کاندھوں پر بڑھتا ہی جا رہا ہے۔
پاکستان میں عمومی طور پر خواتین یا تو گھروں میں (ماسی Maid ) بطور کام کرتی ہیں یا کھیتوں میں مزدوری، لہذا ان کے کام کو باضابطہ پیشہ ورانہ ملازمت میں گنا ہی نہیں جاتا، عورتوں کا افرادی قوت میں کم ترین تناسب ، ممکنہ پیداواری استعداد کے کے ضائع ہوجانے کی نشاندہی کرتا ہے۔ جس کا دوطرفہ نقصان مسلسل پہنچ رہا ہے یعنی ملک کی پیداواری صلاحیت کا نقصان دوسری جانب عورتوں کی خود مختاری و خود انحصاری کا نقصان۔
ملازمت پیشہ خواتین غیر پیشہ ور خواتین سے زیادہ فعال اور فیصلہ کرنے کی عمدہ صلاحیتوں کی حامل ہوتی ہیں وہ اپنی ذاتی زندگی، اپنے کنبہ اور اپنے خاندان کیلئے نہ صرف بہتر فیصلے کرسکتی ہیں بلکہ اپنے اردگرد دوسری خواتین کی بہ نسبت بہتر ممکنہ مالی معاونت بھی کر سکتی ہیں جو خاندان کے پروان چڑھنے اور خوشحالی میں نمایاں کردار ادا کرسکتا ہے۔ اس کا بخوبی اندازہ ہم ایک ہی خاندان کی دو عورتوں کے درمیان موازنہ کرکے لگا سکتے ہیں۔ کام کرنے والی خاتون خاندان کیلئے زیادہ سازگار اور سود مند ہوگی بہ نسبت کام نہ کرنے والی خاتون کے۔ پاکستان میں عمومی خواتین کام کرنا چاہتی ہیں مگر ہماری قدامت پسندانہ سوچ اور فرسودہ روایات کی وجہ سے کر نہیں پاتی ہیں ساتھ ساتھ اور بہت سی دیگر خانگی اور سماجی وجوہات ہیں، جن میں سب سے بڑی وجہ خواتین کا گھر سے نکل کر کام کرنا ہے۔ ہمارے معاشرے میں آج بھی خواتین کا گھر سے باہر کام کرنے کیلئے نکلنا ایک بہت ہی معیوب بات سمجھی جاتی ہے جو خواتین کے افرادی قوت میں شراکت کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کئی عوامل اور ہیں جو پاکستانی خواتین کو گھر سے باہر نکل کر کام کرنے کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ جیسے۔ خاندانی یا سماجی پابندیاں، عورتوں کے کام کرنے کیلئے ناسازگار و نامناسب ماحول، دفتر یا کارخانے کا غیر محفوظ ماحول ، کام کے دوران ممکنہ جنسی ہراسگی کا خدشہ او ر معقول سفری سہولیات کا میسر نہ ہونا بھی ان وجوہات میں شامل ہیں۔
اس ضمن میں ضرورت اس امر کی ہے کہ عورتوں میں خواندگی کی شرح کو بڑھایا جائے، انہیں پیشہ ورانہ ماحول کی جانب راغب کیا جائے، انہیں محتلف ہنر ، برائے صنعت و حرفت کی تربیت مفت یا کم قیمت پر فراہم کی جائے۔ ساتھ ساتھ اگر یہ خواتین کاروبار کرنا چاہیں تو ان کی آسان شرائط پر مالی معاونت بھی کی جائے تو یہ ملک و ملت کیلئے ایک نہایت ہی سود مند و کارآمد سرمایہ کاری ثابت ہو سکتی ہے۔ ملک کے اقتصادی و معاشی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے ارباب اختیار کو چاہئے کہ خواتین کو صنعت، تجارت، اور معیشت کے دھارے میں شامل کرنے کے مربوط اقدامات کریں اور انہیں برابری کی بنیاد پر ملازمت و کاروبار کے مواقع فراہم کئے جائیں تو امید یہ کی جاسکتی ہے کہ ہماری خواتین بھی دنیا کی دیگر خواتین کی طرح ملک کی ترقی اور معیشت کی بہتری کیلئے نہایت سودمند ثابت ہو سکتی ہیں۔
فیس بک کمینٹ

