رؤف کلاسراکالملکھاری

مہاتیر محمد جیسی جرات کون کرے؟۔۔رﺅف کلاسرا

اسد عمر دوبارہ وزیر بن گئے ہیں۔ اس بار منصوبہ بندی کی وزارت دی گئی ہے۔ ان کی ٹی وی پر پریس کانفرنس چل رہی تھی۔ مجھے ان کی ایک بات نے اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ مجھے لگا یہ بات میں نے بیس سال پہلے بھی سنی تھی اور آج بھی سن رہا ہوں۔ وہی الفاظ، وہی کہانی اور وہی پرانا جواز۔ اسد عمر کہہ رہے تھے: چین سے اس لیے بھی قرضے لینے پڑتے ہیں کہ کوئی اور ملک قرضہ دینے کو تیار نہیں۔
جب جنرل مشرف نے ٹیک اوور کیا تو ریلوے کو چند ریٹائرڈ جرنیلوں کے حوالے کیا گیا تھا۔ چین تین سو ملین ڈالر قرضہ ریلوے کو دینے پر تیار ہو گیا۔ پہلے مرحلے میں پچھتر ریلوے انجن اور دو سو بوگیاں خریدنے کا منصوبہ تھا۔ یہ کنٹریکٹ لینے کے لیے دیگر ملکوں کی پارٹیوں نے بھی شرکت کی‘ جن میں امریکن اور جرمن پارٹیاں شامل تھیں اور ان کی ٹیکنالوجی کو دنیا بھر میں بہتر سمجھا جاتا ہے۔ اس وقت کے وزیر ریلوے نے کہا: چینی حکومت اس شرط پر قرضہ دے رہی ہے کہ کنٹریکٹ چینی کمپنی کو ہی ملیں گے۔ یوں جرمن اور امریکن کمپنیاں اس مقابلے سے آﺅٹ کر دی گئیں۔ جس چینی کمپنی کو یہ کنڑیکٹ ملا اس نے پہلے کبھی ریلوے انجن یا بوگیاں نہیں بنائی تھیں لیکن بہرحال خاموشی اختیار کر لی گئی کیونکہ قرضہ چین فراہم کر رہا تھا۔ چین نے اپنی کمپنی کو ہماری ریلوے کو بہتر بنانے کے لیے قرض دیا تھا لہٰذا طے ہوا کہ سوالات نہیں اٹھانے چاہئیں۔ اس دوران ریلوے حکام کا ایک وفد کئی دن تک چینی کمپنی کی میزبانی سے لطف اندوز ہوتا رہا۔ ہمیں بتایا گیا کہ یہ ریلوے کی ٹیکنکل ٹیم تھی جو ریلوے انجنوں اور بوگیوں کو پورا چیک کرنے کے بعد پاکستان آنے کی کلیئرنس دے گی۔ خیر ملک کے مفادات میں سب چپ رہے کہ چلیں جب ہمارا خزانہ خالی ہے اور ریلوے کی بہت بری حالت ہے تو کیا کیا جا سکتا ہے۔ کچھ عرصے بعد ریلوے انجنوں کی پہلی کھیپ پاکستان پہنچی اور جونہی پہلا انجن ریلوے ٹریکس پر آیا تو پتہ چلا چینی انجن کا فرنٹ پاکستان کے روایتی ریلوے سٹیشن سے بڑا ہے اور وہ وہاں سے نہیں گزر سکتا۔ اب یہ ایک سکینڈل تھا۔ پاکستان ریلوے کے افسران کی ایک ٹیم کئی دن چین میں اپنے میزبانوں کی میزبانی سے لطف اندوز ہوتی رہی لیکن کسی نے زحمت نہ کی وہ اپنے ساتھ پیمائش کے آلات لے کر جاتے کہ پاکستان ریلوے سٹیشن کی لمبائی اور چوڑائی کتنی ہے اور کہیں یہ انجن انگریزی دور کے بنائے گئے ریلوے سٹیشن سے بڑے سائز کا تو نہیں ہے؟ اندازہ لگائیں ہمارے ریلوے ماہرین کی قابلیت کا۔ ہر طرف تھرتھرلی مچ گئی اور سوچا جانے لگا کہ اب کیا کیا جائے؟ فوری حل یہ نکالا گیا تمام ریلوے سٹیشنز کو توڑ کر چوڑا کیا جائے۔ اس کے لیے اپنی جیب سے پیسے لگائے گئے۔ خیر چلیں یہ کام بھی ہو گیا۔ کچھ دنوں بعد پتہ چلا جو نئی بوگیاں منگوائی گئی تھیں ان میں Cracks پڑنے شروع ہو گئے ہیں۔ کچھ دن اور گزرے تو ان انجنوں میں سے زیادہ تر کو ٹریکس سے ہٹا کر رسالپور فیکٹری مرمت کے لیے پہنچا دیا گیا۔ اب ریلوے ٹریکس پر کچھ چینی انجن چل رہے تھے۔ کچھ عرصے بعد بینظیر بھٹو کا قتل ہوا اور سندھ میں جو چینی انجن اس وقت ٹریک پر تھے‘ انہیں آگ لگا دی گئی۔ یوں چین سے کروڑوں ڈالرز کے قرضے سے لیے گئے چینی انجن اور بوگیاں اپنے انجام کو پہنچے۔
دو ہزار چھ میں ریلوے حکام نے ایک عالمی ٹینڈر دیا جس میں پچھتر انجن اور دو سو بوگیاں شامل تھیں۔ جب چینی کمپنیوں نے ڈاکومنٹس جمع کرائے تو ریلوے حکام یہ مشاہدہ کرکے حیران رہ گئے کہ چھ سات برس قبل جو انجن اور بوگیاں لی گئی تھیں اس بار ان سے بہت کم قیمت لگائی گئی تھی۔ حکام کا خیال تھا اب پانچ برس بعد انہیں ریلوے انجن اور بوگیاں مہنگی ملیں گی کیونکہ اس دوران مہنگائی بڑھ گئی تھی۔ عموماً دس فیصد مہنگائی ہر سال ہوتی ہے۔ چینی کمپنی نے چالیس ملین ڈالرز کی قیمت لگائی جبکہ پچھلی دفعہ اتنی ہی تعداد میں ریلوے انجن اور بوگیوں کی قیمت چوّن ملین ڈالرز کے قریب تھی۔ سوال یہ تھا کہ اب چینی پانچ سال بعد کیوں چودہ ملین ڈالرز کم قیمت پر ریلوے انجن اور بوگیاں دے رہے تھے؟
اس وقت اسحاق خاکوانی وزیر مملکت ریلوے تھے۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ عالمی کمپنیوں سے بھی پرائسز منگوائی جائیں۔ جب چینیوں کو پتہ چلا کہ دیگر ملکوں سے بھی پارٹیاں اس سودے میں شریک ہو رہی ہیں تو انہوں نے سب سے کم بولی دی۔ اب یہ بڑی حیرانی کی بات تھی کیونکہ ان پانچ برسوں میں آئرن کی قیمتیں بڑھ چکی تھیں۔ اس سے دو تین چیزیں واضح ہوئیں کہ جنرل مشرف دور میں چین سے قرضے پر جو انجن لیے گئے‘ وہ نہ صرف مہنگے بلکہ کوالٹی میں بھی کمتر تھے۔ پہلے چینیوں کو علم تھا کہ پاکستان نے قرضے پر سود سمیت ادائیگی کرنی ہے؛ چنانچہ مرضی سے ریٹ لگا کر پاکستان کو وہ انجن بیچے گئے۔ اب جب انہیں پتہ چلا کہ پاکستان اپنے وسائل سے خریدنا چاہ رہا ہے تو فوراً اس کی قیمتیں کم کر دی گئی تھیں تاکہ کنٹریکٹ ان کے ہاتھ سے نہ نکلے۔
جب یہ خبر سامنے آئی کہ چینی پانچ سال بعد کم قیمت پر ریلوے انجن اور بوگیاں بیچ رہے ہیں تو ریلوے کی وزارت اور افسران نے یہ کنٹریکٹ کینسل کر دیا کہ کہیں یہ بڑا سکینڈل نہ بن جائے اور جنرل مشرف دور کے وزراءکے خلاف مقدمہ یا ریفرنس نہ بن جائے۔
ابھی ارشد شریف نے کچھ عرصہ پہلے نواز شریف دور میں سکینڈل فائل کیا تھا کہ پاکستان نے سکھر حیدر آباد موٹر وے بنانے کے لیے ایک چینی کمپنی سے ڈھائی ارب ڈالرز کا ایم او یو سائن کیا۔ سب سمجھے یہ چینی کمپنی ہے۔ جب وہ دستاویزات سامنے آئیں تو ڈیل پر نواز شریف کے پرانے ساتھی سیف الرحمن کے دستخط تھے۔ مطلب چینی کمپنی کو پراکسی استعمال کرکے شریف خاندان خود کو ہی یہ ٹھیکہ دے رہا تھا اور این ایچ اے کے چیئرمین نے وہ معاہدہ قطر میں سیف الرحمن کے ساتھ کیا تھا۔
اب ہمیں اسد عمر بتا رہے ہیں اور تعریفیں کر رہے ہیں کہ ہمیں کہیں اور سے قرضہ نہیں ملتا لیکن چین سے قرضوں پر چیزیں آسانی سے دستیاب ہو جاتی ہیں۔ سوال یہ ہے پاکستان یہ سب مہنگے قرضے کیسے واپس کرے گا کیونکہ ابھی قومی اسمبلی میں پیش کی گئی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ دو ہزار چھ سات میں چین پاکستان کو چار ارب ڈالرز کے قریب اشیائ بیچ رہا تھا جبکہ پاکستان چین کو ایک ارب ڈالرز کی ایکسپورٹ کر رہا تھا۔ دو ہزار سترہ میں انکشاف ہوا کہ پاکستان چین سے سترہ ارب ڈالرز کی اشیا امپورٹ کر رہا تھا جبکہ پاکستان صرف تین ارب ڈالرز کے قریب چین کو ایکسپورٹ کر رہا تھا۔ مطلب یہ ہے پاکستان کی کل ایکسپورٹ بیس ارب ڈالرز کے قریب ہیں‘ وہ سب چین سے امپورٹ پر خرچ ہو رہی تھیں۔ اب سوال یہ تھا کہ اتنے بڑے پیمانے پر کیسے چین کو رعایتیں ہم نے دیں کہ چین پاکستان سے سترہ ارب ڈالرز کما رہا تھا اور ہم صرف تین چار ارب ڈالرز کے قریب؟ اس سے اندازہ لگا لیں کہ پاکستان کے حکمران اور پالیسی میکر کیسے پاکستان کے مفادات کا تحفظ کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ اب پتہ چلا ہے‘ جب سے احمد نواز سکھیرا سیکرٹری تجارت بنے ہیں انہوں نے چین کے ساتھ مذاکرات میں تجارت میں موجود اتنے بڑے گیپ کو کم کرنے کے لیے کچھ اقدامات کیے ہیں‘ جن سے بہتری کی امید ہے۔
چین ہمارا دوست ہے اور ہمیں قرضے دے رہا ہے اور ہم دھڑا دھڑ لے بھی رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ قرضے آخر ہم اتاریں گے کیسے کیونکہ ہماری سب ایکسپورٹ کی کمائی تو چین سے امپورٹ پر خرچ ہو رہی ہے؟ یہ وہی سوال ہے جو مہاتیر محمد نے وزیر اعظم بننے بعد چینی قیادت سے کیا تھا کہ آپ نے پچھلے وزیر اعظم نجیب رازق کے ساتھ مہنگے قرضوں پر ڈیل کی تھی۔ مہاتیر نے چینی قیادت سے پوچھا: ہمیں بتائیں ہم کیسے مہنگے قرضے واپس کریں گے؟ اب سنا ہے چینی ملائیشیا سے معاہدہ دوبارہ کر رہے ہیں اور سود کم کیا جا رہا ہے۔
عمران خان جو مہاتیر محمد کو اپنا رول ماڈل سمجھتے ہیں وہ مہاتیر جیسی جرات کر لیں گے؟
ویسے داد دیں ہمیں۔ بیس سال پہلے بھی ہمارے پاس پیسے نہیں تھے اور کمرشل قرضوں پر چل رہے تھے۔ بیس سال بعد بھی پیسے نہیں ہیں۔ بیس سال پہلے بھی وہی ساہوکار تھا جس سے ہم قرضے لے رہے تھے اور بیس برس بعد بھی وہی ہے اور اس کی مرضی کے ریٹس!
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker