پنجاب بھر میں میڈیکل یونیورسٹیز اور کالجزمیں میڈیکل انٹریٹی ٹیسٹ(ایم کیٹ)کا انعقاد ستمبر میں متوقع ہے،آئیے اس انٹری ٹیسٹ کی تاریخ پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
یہ 1998ء کی بات ہےجب پنجاب میں شہباز شریف وزیر اعلیٰ کے عہدہ پر فائز تھے،انہوں نے صوبے کے میڈکل کالجز میں داخلوں کے لیے انٹری ٹیسٹ(ایم کیٹ) منعقد کرانے کی پالیسی متعارف کرائی ،انٹری ٹیسٹ لینے کااستدلال یہ ٹھہرا کہ تعلیمی بورڈز کے تحت پنجاب بھر میں ہونے والے ایف ایس سی کے امتحانات غیر معیاری ہوتے ہیں،یوں پنجاب میں پہلا انٹری ٹیسٹ 98ء میں ملک کے معروف تعلیمی ادارے انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن(آئی بی اے) کے زیر اہتمام منعقد کیا گیا،گزشتہ کئی برسوں سے پنجاب میں یہ انٹری ٹیسٹ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز(یوایچ ایس )کے تحت لیا جارہا ہے۔
میڈیکل انٹری ٹیسٹ کا یہ سلسلہ جو کہ 98ء میں شروع ہوا،آج ملک بھرمیں جاری ہے،اسے تمام صوبائی حکومتوں کا ایک پیج پر ہونا سمجھ لیں یا اکیڈمی مافیا کی طاقت ۔۔۔بہرحال بچوں کی میٹرک اور انٹر کی چار سالہ محنت کو2گھنٹے کے انٹری ٹیسٹ کی بنیاد پر دوبارہ جانچا جاتا ہے،جب حکومت نے اپنے ہی تعلیمی بورڈز کے امتحانات اور اسناد کونہیں تسلیم کرنا اور بچوں کی چار سالہ محنت کےصرف50فیصد نمبر اور 2گھنٹے کے انٹری ٹیسٹ کےبھی 50فیصد نمبررکھنے ہیں ،توپھر تعلیمی بورڈز کو ہی ختم کردینا چاہیے،چار سالہ محنت کو دو گھنٹے کے ٹیسٹ کے برابر ٹھہرانا ان بچوں کے ساتھ انصافی ہے،بچوں کے والدین پراضافی مالی بوجھ ایک الگ پہلو ہے،اس حوالےسے تعلیمی حلقے اور والدین کی اکثریت عرصہ دراز سے انٹری ٹیسٹ کو ختم کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں،اس حوالے سے چند برس قبل پنجاب حکومت نےایک کمیٹی بھی تشکیل دی تھی جس نے انٹری ٹیسٹ کو ضروری یا ختم کرنے بارے اپنی سفارشات حکومت کو پیش کرنا تھیں،بتایا گیاہے کہ کمیٹی نے انٹری ٹیسٹ کو ختم کرنے بارے سفارش کی،لیکن حیرت انگیز طور پر ان سفارشات کو نظر انداز کردیا گیا،غریب والدین اپنا کیس ہار گئے،اکیڈمیاں جیت گئیں،صرف 2ماہ کی تیاری میں اربوں روپے کمانے والی ان اکیڈمیوں کے طاقتور مالکان کے سامنے حکومت گھٹنے ٹیک گئی، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگرحکومت نے انٹری ٹیسٹ کو اتنا ہی ضروری سمجھ لیا ہے تو وہ تمام تعلیمی بورڈز کے نظام امتحانات اور سنٹرل مارکنگ کے طریقہ کار کو جو کہ اب بہتر ہے اس کومزید بہترکرکے انٹری ٹیسٹ کو ختم کرسکتی ہے۔یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ انٹری ٹیسٹ دراصل تمام سیکنڈری بورڈز کی کارکردگی پر عدم اعتماد ہے،اگر کچھ دیر کے لیےاس مفروضے پر یقین کرلیں کہ انٹری ٹیسٹ بہت ضروری ہے تو پھر اس بات کا بھی جائزہ لینا ہوگا کہ کیا انٹری ٹیسٹ کے سو فیصد شفاف ہونے کی کوئی ضمانت ہے۔
چند سال قبل انٹری ٹیسٹ کا پرچہ پنجاب میں آؤٹ ہوگیا تھا،ہائی کورٹ نے اس کے نتائج روک لیے تھےاب بھی ایسی شکایات سامنے آتی ہیں کہ انٹری ٹیسٹ کا پرچہ بعض بااثر اکیڈمیوں کے پا س پہلے پہنچ جاتا ہے،ان حالات میں طلباء طالبات کی چار سالہ محنت کو انٹری ٹیسٹ کے برابر لانا بھی کوئی دانشمندی نہیں ،اس کے باوجود اگر پھر بھی انٹری ٹیسٹ بہت ضروری ہے اور والدین کی جیبوں سے ہرسال اربوں روپے نکلوا کر اکیڈمی مافیا کے حوالے کرنے ہیں توپھربچوں کو کالجوں میں تیاری بھی اسی پیٹرن پر کروانی چاہئے ، تاکہ وہ اس (انٹری ٹیسٹ )کے لئے پہلے سےتیار ہوں، حکومت اپنے سکولوں اور کالجز میں ایجوکیشن کو اس معیار پر لے جائےکہ اساتذہ اپنے طالب علموں کو انٹری ٹیسٹ کی تیاری خود سے کراسکیں، یوں اربوں روپے کی لوٹ ماربھی بند ہو جائے گی اور غریب والدین کے بچوں کی حق تلفی کا یہ سلسلہ بھی رک جائے گا،۔ غریب والدین کے بچوں کے حقوق کا تحفظ کرنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ انٹری ٹیسٹ جنوبی پنجاب خاص طور پر اس کے پسماندہ اضلاع کے بچوں کے ساتھ بہت بڑی ناانصافی ہے ،وہاں کے غریب والدین اتنی سکت نہیں رکھتے کہ اپنے بچوں کو بڑے شہروں میں قائم اکیڈمیوں میں بھیج سکیں اور ان کی بھاری بھرکم فیسیں ادا کرسکیں،تعلیمی حلقوں اور والدین کا عرصہ دراز سے یہ مطالبہ کہ انٹری ٹیسٹ کو ختم کیا جائے اس کو تو حکومت بوجوہ تسلیم نہ کرسکی تاہم اتنا ضرور ہوا ہے کہ اس سال منتخب سرکاری کالجز میں ایم کیٹ کی تیاری کرانے کے پائلٹ پروجیکٹ کا آغاز کردیاگیاہے،ہر ضلعی ہیڈکوارٹر کے ایک گرلز اور ایک بوائز کالج کا انتخاب کرکے ایم کیٹ کی تیاری شروع کردی گئی ہے ،ان منتخب کالجز میں کوئی بھی طالب علم بغیر اضافی فیس ادا کیے بغیر ایم کیٹ کی تیاری کرسکتا ہے،اس وقت جنوبی پنجاب کے تینوں ڈویژن ملتان،بہاولپوراور ڈیرہ غازی خان کے 23منتخب کالجز میں مجموعی طور پر 1719طلباء طالبات ایم کیٹ کی تیاری کر رہے ہیں،ان میں ملتان ڈویژن کے 8منتخب کالجز میں 575،بہاولپور کے 6کالجز میں 526اور ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے 9کالجز میں 618طلباء طالبات انٹری ٹیسٹ کی تیاری میں شریک ہیں، اگرچہ یہ تعداد بہت کم ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ جب والدین کا ان پر اعتماد بڑھے گا توان میں بچوں کی تعداد بھی بڑھ جائے گی
فیس بک کمینٹ

