سر!! کسان احتجاج کر رہے ہیں.
کیا کہتے ہیں؟
وہ کہتے ہیں
1۔ زرعی ٹیوب ویلز کے لئے بجلی بلز میں ناجائز ٹیکس ختم کئے جائیں.
2۔ سستی ڈی اے پی اور یوریا کھاد کی فراہمی، بلیک میں فروخت پہ پابندی لگائی جائے.
3۔ گندم کے ریٹ عالمی مارکیٹ کے مطابق مقرر کریں.
4-سبسڈی کی بجائے کھاد، بیج، سپرے کی ڈائریکٹ قیمتیں کم کی جائیں.
8-فصلوں کی سپورٹ پرائس، وقتِ کاشت سے پہلے مقرر کی جائیں
6- کسانوں کو آسان شرائط پہ قرض، زرعی مشینری اور جدید ٹیکنالوجی مہیا کی جائے
7- گنے کی سپورٹ پرائس مقرر کر کے شوگر ملز سے کسانوں کے سابقہ واجبات ادا کروائے جائیں.
8- مڈل مین، آ ڑھتی، کمیشن شاپ کلچر ختم کر کے منڈی کو آزاد کیا جائے.
9-سولر ٹیوب ویلز، بائیو گیس پلانٹ لگانے میں تکنیکی معاونت اور سرمایہ دیا جائے
10- آبپاشی کے نظام کو جدید خطوط پہ استوار کر کے فی ایکڑ نہری پانی کے وقت میں اضافہ کیا جائے
11- زرعی زمین کی فروخت و رہائشی تعمیر پہ پابندی لگائی جائے
12- فصلوں اور مویشیوں کی انشورنس پالیسی وضع کی جائے.
کسانوں کے مطالبے سن کر ہال میں ایک قہقہہ بلند ہوا مصاحبین کی غلامانہ ہنسی کے شامل ہونے سے ایسی شیطانی گونج سنائی دی جیسے کوئی فاشسٹ تقریر کر رہا ہو.
کتنے نادان، کتنے سادہ، کتنے اندھے ہیں یہ…. کسان…
دیکھتے نہیں، سمجھتے نہیں کہ ہمارا تو پورا ملک ہی ہاؤسنگ سوسائٹی ہے اور دلالوں کے دم سے چل رہا ہے اور یہ کہتے ہیں کہ ہاؤسنگ سوسیائیٹیاں بند کرو دلالوں کو نکال دو…. پاگل ہو گئے ہیں کیا..
جی وزیر با تدبیر پھر تم نے کیا کیا…؟
آپ کے حکم کے مطابق ان کو تقسیم کر دیا ہے.
گروپ بنا دیئے ہیں.
اب یہ آپس میں لڑیں گے اور ہم اپنی مرضی کریں گے..
پھر بھی ان کے چائے پانی کا بندوبست بھی کر دو…. دو چار پرمٹ تین چار ویزے بھی دے دو اور الجھائے رکھو…
سر مطالبے سنجیدہ ہیں کہیں بغاوت نہ پھوٹ پڑے…
ہم تو تمہیں بہت بہادر سمجھتے تھے… لیکن دو ہزار بھوکے ننگے کسانوں سے ڈر گئے ہو…
سر!! مرنے والا جب مارنے پر اترتا ہے تو اس کا وار خطا نہیں جاتا..
ارے او جاہل… ان کا قائد ماؤ ہے نہ لینن ان کی کمان ہوچی منہہ کر رہا ہے نہ کاسترو…..
اب سب برائے فروخت ہیں… ریٹ لگاؤ ریٹ..
فیس بک کمینٹ

