رضی الدین رضیسرائیکی وسیبلکھاری

ملتان مرا رومان : یادیں (28 ) ۔۔ رضی الدین رضی

تہذیبوں اور رسوم و رواج کے اثرات

مذاہب اور تاریخ کی بات تو ہم کرتے ہیں لیکن شہر کی تہذیب کو ہم نے کبھی موضوع ہی نہیں بنایا ۔ پانچ ہزاربرسوں کے دوران ہرحکمران اور ہرحملہ آور نے اس شہر پر اپنے مذہب کے ساتھ ساتھ اپنی تہذیب اور اپنے رسم ورواج کے ہمراہ یلغار کی۔وہ توحید پرست قرامطی ہوں ،سورج دیوتا کے پجاری ہوں یا چاند اورآگ کی پوجا کرنےوالے ان سب نے ہر دور میں اس شہر کے رسم ورواج ،تہواروں اور رہن سہن کو نیا روپ دیا۔اگر یہ سورج دیوتا کے آدتیہ مندر کے یاتریوں کا محور و مرکز رہا تو بدھ بھکشوﺅں نے بھی یہاں کی تہذیب پر اثرات مرتب کیے۔ایک زمانہ یہاں ہندومت کے عروج کابھی تھا اورپھرہندومت کی جگہ جین مت یہاں کی تہذیب و روایات پر اثرات اندازہوگئی۔


شہر کی تہذیب پانچ ہزار سال کے ملبے میں دفن ؟

ہرعہد میں اس شہر کے باسیوں نے ایک مختلف طرز زندگی اپنایا۔اس صورتحال نے شہر کاایک مجموعی مزاج متعین کیا ۔قدیم شہر آج بھی بلندی پر واقع ہے۔یہ وہ جگہ ہے جہاں شہرسے باہر دریائے راوی کی گزرگاہ تھی۔دریا ہمیشہ زندگی کی علامت رہاہے اور شہر اس کے کنارے ہی آباد ہوتے تھے اوردریا شہروں کی تہذیب وثقافت پر اثراندازہوتاتھا۔جس قدیم شہر کو ایک بلند ٹیلے پر آباد قراردیاجاتاہے اس کے بارے میں یہ بھی گمان ہے کہ یہ بلندی ٹیلے کی نہیں یہ پانچ ہزار سال کامدفن ہے جس پر آج بھی قدیم شہر سانس لے رہا ہے۔مختلف ادوار میں ہونے والی تباہیوں کے نتیجے میں جب شہر ملبے کاڈھیر بنا تو اسی ملبے کو ہموارکرکے اس پر نیا شہر آباد کیاگیا اوریوں بہت سی تباہیاں بہت سے ملبے شہر کو سطح زمین سے بلند کرتے گئے اور اسے ٹیلے پر آباد شہر قراردیاگیا۔ملتان کی قدیم تہذیب اسی ٹیلے یا ملبے میں دفن ہے۔جسے ہردور میں دریافت کرنے کی کوشش کی گئی لیکن پانچ ہزار سال کی تہذیب کو بھلا کس حد تک دریافت کیاجاسکتا ہے۔یہ تہذیب تو شاید ہزاروں سال پہلے اس وقت بھی موجودتھی جب تہذیب کالفظ بھی ایجاد نہ ہواتھا۔


گرد ، گرما، گدا و گورستان

قدیم شہر میں داخل ہوں اور اس کا طرز تعمیر ،رہن سہن اور پہناووں کو دیکھیں تو بہت سے ان دیکھے مناظر سامنے آجاتے ہیں۔تنگ و تاریک ،بل کھاتی گلیاں ۔ شہر کے باہر موجود دروازے اور ایک بلند فصیل جس کے آثار اب بھی موجودہیں شہر کا دوسرا دفاعی حصارتھے۔پہلا دفاعی حصارتو دریا ہی تھا جو شہر کے شمال سے مشرق کی طرف ایک نصف دائرہ بناتا تھا۔کچی اینٹوں سے بنائے ہوئے اونچی چھتوں والے مکان خاص طورپر شہر کی آب و ہوا اور گرم موسم کو مدنظر رکھ کر تعمیر کیے گئے تھے۔”چہارچیز است تحفہ ملتان ۔گردگرما گدا وگورستان“ کی ضرب المثل اس شہر کے مجموعی مزاج اور تہذیب کی بھی آئینہ دار ہے
( جاری )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker