رضی الدین رضیکالملکھاری

ریاستی دہشت گردی : معلوم اور نامعلوم کی کہانی .. ڈرتے ڈرتے / رضی الدین رضی

اجازت ہو اور جان کی امان ملے تو یہ سوال پوچھنے میں کوئی حرج نہیں کہ کیا ریاست مدینہ میں بھی معصوم بچوں کے والدین کو ان کے سامنے اسی طرح بے دردی سے قتل کیا جاتا تھا جیسے ہماری ریاست میں کیا گیا ؟ اور کیا ریاست مدینہ میں بھی ریاستی دہشت گردی کی گنجائش ہوتی ہے؟
یہ سوال بھی پوچھنا چاہیئے کہ والدین کو اپنے سامنے قتل ہوتا دیکھنے اور ان کی لاشوں کی ویڈیوز بنتے ہوئے دیکھنے کے بعد سپاٹ لہجے میں میڈیا کو موت کی کہانی سنانے والے بچے سے بڑی بھی کوئی جے آئی ٹی ہو سکتی ہے ؟ اوران معصوم خوف زدہ ،سہمے ہوئے بچوں کی گواہی کے بعد کیا کسی اور گواہی یا تفتیش کی گنجائش باقی رہ جاتی ہے ؟ اورریاستی دہشت گردی کا شکار ہونے والے ان بچوں کی یہ ریاست مزید بھلا کیا کفالت کر سکتی ہے؟

ایک لفظ ہم ہمیشہ سے سن رہے ہیں ’ نا قابل تلافی ‘ اس لفظ کا مطلب نہ کبھی ہم

نے جاننے اور محسوس کرنے کی کوشش کی اور نہ کبھی آپ نے اس لفظ کے بارے میں کبھی اس طرح غور کیا ہو گا ۔ ہفتہ کے روز پیش آنے والے اس واقعے نے بتا دیا کہ ’ ناقابل تلافی‘ دراصل ہوتا کیاہے ؟
جن بچوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے والدین کو ہاتھ جوڑتے اور معافیاں مانگتے اور پھر خون میں لت پٹ دیکھا ہے تحریک انصاف کی حکومت بھلا انہیں کیا انصاف دے گی ؟کیااس جرم کی کوئی تلافی ہوسکتی ہے کیا ان بچوں کو ان کے والدین مل سکتے ہیں اورکیاذمہ دار افراد کوسزادے کر ہم ان بچوں کے دکھوں کوختم کرسکتے ہیں جنہیں والدین کے بغیر زندگی کاطویل سفرتنہا کاٹنے کی سزاملی ہے ؟کیا ان بچوں کی سزامجرموں کودی جانے والی کسی بھی سزاسے زیادہ ہوسکتی ہے؟ اس کے سامنے توموت کی سزابھی بہت کم دکھائی دیتی ہے،موت کی سزادے کرتو دراصل ہم مجرموں کو تکلیفوں سے آزاد کردیتے ہیں . کیا کوئی ایسا قانون بن سکتا ہے کہ جس کے تحت مجرموں کووہی سزادی جا سکے جوانہوں نے ان بچوں کو دی ہے؟ اگرایساکوئی قانون بنانااس بظاھر مہذب معاشرے میں ممکن ہی نہیں توپھربلاوجہ کی دہائی اورشورشرابے کا کیا فائدہ؟ کیا ہوااگرہمارے سادہ لوح وزیراعلیٰ سارادن میانوالی میں گزارنے کے بعد اس واقعہ کے بارہ گھنٹے بعد گلدستہ لے کر یتیم بچوں کی عیادت کےلئے ہسپتال پہنچ گئے اورکسی پروٹوکول والے نے انہیں یہ بتانے کی جرات بھی نہ کی کہ موت والے گھر میں پھول دینا مناسب نہیں ہوتا کہ یہ اس خاندان کےلئے کوئی خوشی کالمحہ تو نہیں ہے لیکن حکمرانوں کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں اوراپنے مسائل ہوتے ہیں ،مارنے والوں نے بھی کسی کے حکم کی تعمیل

کی تھی اور بے چارے وزیراعلیٰ بھی حکم کی تعمیل کرنے ہی آئے تھے۔

گزشتہ رات ہم میں سے بہت سے لوگوں نے جاگ کرگزاری۔ شاید ہم جاگ کران بچوں کے دکھوں کا کفارہ اداکرناچاہ رہے تھے جنہیں ابھی معلوم ہی نہیں کہ آنےوالے دنوں میں کون کون سے دکھ ان کے منتظرہیں۔ یہ تکلیف دہ لمحات عمربھران بچوں کا تعاقب کریں گے۔ ممکن ہے زندگی کے کسی لمحے میں وہ انتقام لینے کی بھی ٹھان لیں۔ اور خود بھی کوئی موت کا راستہ چن لیں وردی میں ملبوس دہشت گردوں نے سب سے بڑاظلم تو یہی کیا کہ ان بچوں کو زندہ چھوڑدیااوران معصوم بچوں کی سچی گواہی کے نتیجے میں ان کا داعش والابھانڈا بھی بیچ چوراہے میں پھوٹ گیا لیکن آفرین ہے ان طاقتوراسلحہ برداروں پرکہ ہمت انہوںنے اب بھی نہیں ہاری۔ جیسے لفظ ”ناقابل تلافی “کے معانی ہم پراب آشکارہوئے ہیں بالکل اسی طرح لفظ ڈھٹائی کی معنویت بھی پہلی مرتبہ ہمارے سامنے آئی ،ہم بلاوجہ ہرکسی کوڈھیٹ کہتے رہتے ہیںڈھیٹ تولوگوں کواقتداربنا دیتا ہے اورپھروہ اپنے کالے کرتوت چھپانے کےلئے سفیدجھوٹ بولتے ہیں۔یہ واقعہ سب کے سامنے رونما ہوا ویڈیوکے اس دورمیں راہ گیروں نے فلمیں بناکرسارامقدمہ عوام کے سامنے بے نقاب کردیااوریہ بے چارے حکمران جنہیں ہرنئے ویڈیو کے ساتھ نیا بیان دینا پڑرہاہے۔ داعش کی جوکہانی انہوںنے یہ واقعہ رونماہونے سے پہلے تیارکی تھی وہ اس پرصدق دل سے قائم ہیں ،اوربچوں کے سامنے ان کے والدین کے قتل کو معمول کاواقعہ بھی کہہ رہے ہیں ۔
دوسری جانب ہم اورآپ ہیں جوکل سے اس واقعے کاماڈل ٹاﺅن والے واقعے کے ساتھ موازنہ کررہے ہیں،کچھ لوگوں کو اس بات پراعتراض ہے کہ ماڈل ٹاﺅن واقعہ پراحتجاج کرنے والے اب احتجاج کیوںنہیں کررہے ؟ اب استعفیٰ کامطالبہ کیوں نہیں کررہے؟ اوراب کیوںنہیں پوچھ رہے کہ سیدھی گولی کے احکامات کس نے جاری کئے تھے ؟ وہ اب یہ کیوںنہیں کہتے کہ ہربے گناہ کے قتل کی ذمہ داری وقت کے حکمران پرعائد ہوتی ہے اوردوسری جانب وہ ہیںجوکہہ رہے ہیں کہ جب ماڈل ٹاﺅن والاواقعہ پیش آیاتھااس وقت آپ کیوں خاموش رہے تھے اوراب شورکیوں مچارہے ہیں ۔ حضور کہناصرف یہ ہے کہ جرم کی کوئی دلیل نہیں ہوتی اور وحشت اوربربریت کاکوئی موازنہ نہیں ہوتا۔
آخری بات یہ کہ جس طرح اس مقدمے کی ایف آئی آرنامعلوم افرادکے خلاف درج ہوئی ہے اس سے اس مقدمے کے انجام کا بھی پتہ چل گیا . جس طرح اب تک کسی نے اس سانحے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوے اپنے عہدے سے استعفیٰ نہیں دیا اسی طرح کبھی یہ بھی معلوم نہ ہو سکے گا کہ وردی والے دہشت گردوں نے کس کے حکم پر یہ ظلم کیا . اور اس لیے معلوم نہ ہو سکے گا کہ ایف آئی آر میں نا معلوم افراد لکھ دے گے ہیں

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker