رضی الدین رضیکالملکھاری

جب لال کمال میں کمال ہوا : سخن ور کی باتیں /رضی الدین رضی

صحافی کی زندگی بھی عجیب ہوتی ہے اسے معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ جس ماحول میں یا جس ذ ہنی کیفیت میں دفتر جارہاہے واپسی پربھی کیا وہ اسی ذہنی کیفیت میں ہوگا ۔بسا اوقات تو دفتر جانے اور گھرواپس آنے کے درمیانی وقفے میں دنیا ہی تبدیل ہوچکی ہوتی ہے۔کبھی یوں ہوتا ہے کہ وہ بہت اداس تھکاہارابوجھل قدموں کے ساتھ دفتر میں داخل ہوتا ہے۔معمول کے مطابق اپنا کام شروع کرتا ہے پھراسی دوران کوئی ایسی خبر اس تک پہنچتی ہے کہ وہ اپنی تھکاوٹ ،اپنابوجھل پن سب کچھ بھول کر اس خبر میں گم ہوجاتاہے اور خبرمیں ایسا گم ہوتاہے کہ پھراسے اپنے گردوپیش کی بھی خبرنہیں رہتی۔اس کے بعد وہ جب دفتر سے رخصت ہوتا ہے تو بہت پرجوش ہوتا ہے ۔کوئی مسرت آمیز خبر ،کوئی امید کی کیفیت اس کی تمام تھکاوٹ دور کر چکی ہوتی ہے۔وہ معمول سے زیادہ کام کرنے کے باوجود تازہ دم ہوتاہے۔اور بعض اوقات معاملات اس کے بالکل برعکس ہوتے ہیں۔صحافت سے وابستہ افراد کیلئے یہ ایک معمول کی بات ہے۔وہ روزانہ ایسے تجربات سے گزرتے ہیں اوراب تو صحافت اتنی تیز رفتار ہوچکی ہے کہ دن میں کئی کئی مرتبہ انہیں مختلف کیفیات سے گزرنا پڑتا ہے کبھی ہنستے ہنستے رونا اور اگلے ہی لمحے روتے روتے ہنسنا پڑتا ہے۔ لیکن میں جس زمانے کی بات کررہاہوں وہ اطلاعات تک رسائی کا زمانہ نہیں تھا۔خبریں سامنے بھی ہوتی تھیں تو انہیں چھپا لیا جاتاتھا۔عوام بہت سی چیزوں سے بے خبررہتی تھی۔عوام ہی نہیں باخبر صحافی بھی درحقیقت بے خبر ہی ہوتے تھے اوربے خبر ہونے کے باوجود باخبر ہونے کا دعوی کرتے تھے۔آج کے لوگوں کیلئے ممکن ہے کہ یہ حیرت کی باتیں ہوں لیکن جو لوگ اس عہد ضیاع میں صحافت کے ساتھ منسلک رہے ان کیلئے ان باتوں میں حیرت کا کوئی سامان نہیں۔
17اگست بدھ کادن اور 3محرم الحرام ۔۔یہ 29 سال پرانی بات ہے لیکن مجھے سب کچھ اس طرح یاد ہے کہ جیسے 29 منٹ پہلے کاواقعہ ہو۔دن وہ معمول کاتھا لیکن مجھ سمیت کسی کوبھی پونے چاربجے تک یہ اندازہ ہی نہیں تھا کہ یہ دن کتنا غیرمعمولی اور کس قدرتاریخی اہمیت کاحامل ہے۔روزنامہ قومی آواز کے دفتر میں کام جاری تھا۔میگزین ایڈیٹر کی حیثیت سے میں ادارتی صفحہ بنواچکاتھا اور شاید اگلے روز کے مضامین تیارکررہاتھا کہ چاربجے کے لگ بھگ رانااکرم خالد تیزی سے رپورٹنگ روم سے باہرآئے اورہمیں خبر سنائی کہ لودھراں کے قریب بستی لال کمال میں کمال ہوگیا ہے ، ایک طیارہ وہاں گر کر تباہ ہواہے اور لودھراں کے نامہ نگار باقررضوی کاخیال ہے کہ جنرل ضیاء الحق بھی اسی طیارے میں سوارتھا۔اب تو بریکنگ نیوز مذاق بن کررہ گئی ہے لیکن اس زمانے میں ایسی ہی خبروں کو بریکنگ نیوز سمجھا جاتاتھا۔نذرعباس بلوچ بھی ہمارے ساتھ ہوتے تھے وہ بھی رپورٹنگ روم سے باہرآئے اور نعرے لگاتے ہوئے مجھے گلے لگالیا۔نیوزایڈیٹر کی کرسی پر موجوداسلم جاوید بھی’’ مرگیا ،مرگیا ‘‘کہتے ہوئے ہمارے ساتھ آن ملے۔’’نہیں مراہوگا،نہیں مراہوگا‘نیوزروم میں ایک اورآواز سنائی دی۔وہ ہرمرتبہ بچ جاتا ہے ۔پہلے تصدیق تو کرلو پھرخوشیاں منانا‘‘۔یہ رفعت عباس کی آوازتھی جو آج سرائیکی شاعری کا ایک معتبر نام ہے ۔رفعت عباس اس زمانے میں ہمارے ساتھ قومی آواز میں ہی کام کرتے تھے۔ہاں خبر کی تصدیق تو کرنی چاہیے۔ہم تیزی سے ایڈیٹر کے کمرے کی جانب روانہ ہوئے۔ایثار راعی وہاں معمول کے کاموں میں مصروف تھے۔نامہ نگارسے دوبارہ رابطے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ لودھراں اور بہاولپور کا پورے ملک کے ساتھ ٹیلی فونک رابطہ منقطع کردیاگیاہے۔اب خبر کی تصدیق کیلئے مختلف ذرائع سے رابطے کیے جانے لگے۔کچھ ہی دیر میں معلوم ہوا کہ کمشنر،ڈپٹی کمشنر سمیت انتظامیہ اورپولیس کے تمام افسران کاہنگامی اجلاس شروع ہوگیاہے۔ہماراشک یقین میں بدلنے لگا۔سب کے چہروں پر اطمینان کی کیفیت نمایاں ہونے لگی۔پھرراعی صاحب نے یہ خبر دی کہ سول ایوی ایشن سے منسلک ان کا ایک دوست ہنگامی طورپر لودھراں روانہ ہوگیا ہے۔کچھ دیر بعد ایک اور ذریعے سے معلوم ہوا کہ ملتان سے فائر بریگیڈ کی تمام گاڑیاں تیزی سے بہاولپور کی جانب روانہ ہو گئی ہیں۔یہ سب اشارے بتارہے تھے کہ ہمیں واقعی خوش ہوناچاہیے۔ہم سب صرف اپنے اطمینان کی خاطر خبر کی فوری تصدیق چاہتے تھے۔ورنہ اخبارکو تو ابھی خبر کی ضرورت ہی نہیں تھی۔اخبار کی کاپی تو رات ایک بجے جانا تھی اوراس وقت تک تو تفصیلات آہی جاتیں۔جیسے جیسے حادثے کی تصدیق ہورہی تھی دفتر میں قہقہے بڑھتے جارہے تھے۔آج سوچتا ہوں کہ کسی کی موت پر اس طرح خوش ہونا یا قہقہے لگانا کوئی اچھی بات تو نہیں ۔ ہم نے اس وقت بھی سوچا تھا کہ کیا ہمیں کسی کی موت پر اس طرح ہنسنا چاہیے لیکن ہماری اس وقت کی کیفیت کا اندازہ وہی کرسکتا ہے جس نے وہ عہدپرآشوب اپنی آنکھوں سے دیکھاہو۔جس نے اس دور میں سیاسی کارکنوں پرتشدد دیکھاہو،پھانسیاں اورکوڑے دیکھے ہوں۔جلاوطنیاں دیکھی ہوں۔سڑکوں پر احتجاج کرنیوالوں کو خودسوزی کرتے اور’’ شمع ہررنگ میں جلتی ہے سحرہونے تک ‘‘کی عملی مثال بنتے دیکھاہو۔انہیں اس موت پر ایسے ہی خوش ہوناچاہہیئے تھا ، ایسے ہی مبارکیں دینی چاہیے تھیں اوراسی طرح نم آنکھوں کے ساتھ ایک دوسرے کے گلے لگنا چاہیے تھا۔مارشل لاء دور میں مجھ سمیت صحافت کے ساتھ منسلک ہونے والوں ،خفیہ ایجنسیوں کے تعاقب اوردھمکیوں کاسامنا کرنیوالوں،فوجی افسروں سے اخبارات کی کاپیاں چیک کرانے والوں،چیکنگ کے بعددور پھینکی گئی کاپی اوراس سے اکھڑ جانے والی خبروں کو لرزتے کانپتے جمع کرنے والوں اور خوف وہراس کے عالم میں کالم اور مضامین لکھنے والوں کو یوں محسوس ہوا کہ جیسے ان کے سر سے کوئی بہت بڑا بوجھ اتر گیا ہو جیسے انہیں نئی زندگی ملی ہو یا جیسے انہوں نے نیا جنم لیاہو۔اسی دوران رانااکرم خالدکو فوٹوگرافر شہزاد انور کے ساتھ جائے حادثہ کی جانب روانہ کردیاگیا۔اس کوریج کیلئے انہیں گاڑی معروف سیاسی رہنماء ولایت حسین گردیزی نے فراہم کی تھی۔اسی دوران ایثار راعی صاحب نے نثار عثمانی صاحب سے خبر کی تصدیق کرلی تھی۔کچھ ہی دیر بعد پی ٹی وی پر قرآن پاک کی مسلسل تلاوت شروع ہوگئی۔ہم سب ٹی وی کے گرد یوں جمع ہوگئے کہ جیسے پہلی بار تلاوت سن رہے ہوں۔اس دوران اگر کوئی بات بھی کرتا تو میں اسے سختی سے جھاڑ دیتاتھا کہ خاموشی سے تلاوت سنو۔اسی دوران میں نے سائیکل اٹھائی اور حسن آرکیڈ پہنچ گیا کہ اس زمانے میں بریکنگ نیوز شاکرحسین شاکر تک پہنچانا میری ذمہ داریوں میں شامل تھا۔پی ٹی وی پر تلاوت شروع ہونے کے بعدشاکرسمیت بہت سے لوگ شکوک وشبہات کاشکارتھے کہ اس زمانے میں کسی بڑے حادثے کے موقع پر یہ تلاوت ہی خبر کا پہلا اشارہ ہوتی تھی۔کتاب نگرکا کچھ عرصہ پہلے ہی افتتاح ہواتھا شاکر نے فوراً دکان چھوڑی اور میرے ساتھ میرے دفتر ہی آگیا کہ اب باقی خبریں تو اسے اخبار کے دفتر سے ہی ملناتھیں۔معلوم ہوا کہ دفتر میں کوئی جیالا پہلے ہی مٹھائی منگوا چکاہے اور ہمارے ایک خوش نویس مولوی صدیق صاحب مٹھائی منگوانے پر غم وغصے کا اظہار کررہے تھے اوراس کو برابھلا کہہ رہے تھے۔بعد کے دنوں میں انہوں نے بدلہ یوں لیا کہ جہاں بھی ضیاء الحق کانام آتاتھا وہ اس کے ساتھ شہید کا لفظ خود لکھ دیتے تھے اور پھرشہید کی تشریح کیلئے مجھے اس حادثے کے فوراً بعد دوکالم تحریر کرناپڑے ایک کاعنوان تھا’’شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے‘‘ ،اوردوسرا کالم ضیاء الحق کے ساتھ لقمہ اجل بننے والے بریگیڈیئر صدیق سالک کے بارے میں تھااور صدیق سالک کی کتاب کے نام کافائدہ اٹھاتے ہوئے ہم نے اس کالم کاعنوان رکھا تھا’’بریگیڈیئر صدیق سالک ’’ہمہ یاراں دوزخ‘‘ ۔پھر غلام اسحاق خان ’’طیارہ پٹ گیا‘‘ کی خبر کے ساتھ ٹیلی ویژن سکرین پر نمودارہوئے۔میں تیزی سے تقریر کے نوٹس لینے میں محو تھا کہ کسی نے اچانک میرے کندھے پر ہاتھ رکھا مڑ کردیکھا تو میرے سکول کے زمانے کا دوست ظفراقبال مغل مسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ سامنے موجودتھا۔’’میں تمہیں بتانے آیاہوں کہ ضیاء الحق مر گیا مٹھائی تم نے کھلانی ہے شرط میں جیت گیا ہوں‘‘ ۔مجھے یاد آیا کہ ظفر کے ساتھ یہ شرط تو میں نے 1979ء میں لگائی تھی کہ ہم میں سے جو بھی جنرل ضیاء کی موت کی خبر سنائے گا دوسرا اسے مٹھائی کھلائے گا۔اس وقت ہم دونوں نویں جماعت میں پڑھتے تھے۔‘‘کیسی عجیب بات ہے کہ خبر سب سے پہلے مجھے معلوم ہوئی اور شرط ظفراقبال جیت گیا۔آج یہ مضمون لکھنے بیٹھا تو احساس ہوا کہ ہماری سب خوشیاں شاید عارضی ہی ہوتی ہیں۔جیت ہمارے سامنے بھی ہو توہمارے مقدر میں نہیں ہوتی۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker