رضی الدین رضیکالملکھاری

دکھوں کو قہقہوں میں‌اڑانے والا رلا گیا ۔۔ رضی الدین رضی

آٹھ جولائی سے ہم سب دوست جس صدمے سے دوچارہیں اسے ضبط تحریر میں لانا ،کاغذپرمنتقل کرنایاکسی محفل میں اس کااظہارکرناکس حدتک ممکن ہے میں ابھی تک اس نتیجے پرنہیں پہنچ سکا۔صرف اسی صدمے کی بات نہیں کسی بھی صدمے کی شدت کوبیان کرناشایدممکن ہی نہیں ہوتا۔اورپھررانا اعجازتوایسی ہستی تھے کہ جن کے بارے میں بات کرنا شایدمیرے لئے تو ممکن ہی نہیں۔
سب دوستوں نے اپنے اپنے اندازمیں ان کی شخصیت کو اپنے کالموں میں مجسم کرنے کی کوشش کی ۔جدائی کو ضبط تحریر میں لانے کی سعی کی لیکن جس طرح صدمے کوبیان کرناممکن نہیں ہوتا،جس طرح خوشی کولفظوں میں ڈھالناناممکن ہوتاہے اورجس طرح خوشبوکو سونگھا توجاسکتاہے بتایانہیں جاسکتااسی طرح رانااعجاز محمودکی شخصیت کوضبط تحریر میں لانا بھی آسان کام نہیں ۔بالکل اسی طرح جیسے ان کی گفتگوکوسمجھناآسان نہیں تھاجیسے ان کے لاابالی پن کو سمجھنے کے لئے ایک عمردرکارتھی جیسے یہ معلوم کرنا ممکن نہیں تھاکہ ان کافون بیٹری ختم ہونے کی وجہ سے بندہے ،بھابھی نے بند کیاہے یاخود انہوں نےکسی سے ناامیدہوکربندکردیاہے ۔ ان کی دوستی کی مختلف پرتوں اورجہتوں کوسمجھنا ہرکسی کے بس کی بات ہی نہیں تھی وہ ایک بے پناہ انسان تھااورلفظ بے پناہ بھی اس کی وسعت کے آگے کم پڑجاتاہے ۔
بہت مدت کے بعد ایک ایساشخص رخصت ہواکہ جس نے اس پورے خطے کوہی اداس نہیں کیا بلکہ اس کے چاہنے والے دنیامیں جہاں جہاں بھی موجودتھے وہ سب کو اداس کرگیا ۔موت پرہچکیاں اورآنسو تویقینی ہوتے ہیں بلکہ موت کاحسن کہلاتے ہیں لیکن بہت کم اموات ایسی ہوتی ہیں جس پراتنی زیادہ ہچکیاں سنائی دیتی ہیں اوراتنے زیادہ آنسوبہائے جاتے ہیں ۔شایدیہ ایسے لوگوں کی موت ہوتی ہے جنہوں نے آپ کو بہت زیادہ ہنسایاہوتاہے اور آپ کے ساتھ بہت زیادہ قہقہے لگائے ہوتے ہیں ۔رانااعجاز محمودکی موت ایسی ہی توہے ۔دکھوں کو قہقہوں میں‌اڑانے والے کی موت ۔
معذرت چاہتاہوں کہ آپ کو میری اس تحریر میں کوئی ربط نظرنہیں آئے گا لیکن میں بادل نخواستہ جوکچھ جیسے یادآرہاہے لکھتاچلاجارہاہوں۔میں رانا اعجاز کے بارے میں لکھ رہاہوں کہ اس کی شخصیت بھی توایسی ہی تھی ہوا کے رخ پراڑنے والے خشک پتے جیسی جواسے اڑائے پھرتی تھی لیکن یہ خشک پتہ سخت جان بہت تھاہوابھی تھک گئی ، تھکن سے نڈھال ہوگئی لیکن رانااعجاز کے قہقہوں کی شدت کم نہ کرسکی ۔
بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے بارے میں ہرشخص کایہ دعویٰ ہوتاہے کہ وہ سب سے زیادہ اسی سے محبت کرتے تھے ،وہ سب سے زیادہ اسی کے غمگسارتھے ،سب سے زیادہ اسی کے راز داں تھے اورسب سے زیادہ اسی پراعتماد کرتے تھے ۔رانااعجاز ایسے ہی چندلوگوں میں سے ایک تھے ۔انہوں نے ہم پر بہت زیادہ محبتیں نچھاورکیں اوراس اندازمیں نچھاورکیں کہ دوستوں کے لئے ان کی محبتوں کو سنبھالنابھی مشکل ہوگیاپھرجب دوستوں سے ان کی محبتیں سنبھالی نہ جاسکیں تووہ آزردہ ہوگئے ۔ وہ محبتوں کے عوض مانگتے توکچھ نہیں تھے لیکن اتناتوچاہتے تھے کہ ان کی محبتوں کو سنبھال لیاجائے ان کی محبتوں کااوران کے خلوص کاتمسخرنہ اڑایاجائے لیکن ہم سب دوست شاید نادانستگی میں بھی انہیں دکھ دیتے تھے ۔
نو جولائی کی صبح رانا اعجاز کے جنازے میں شرکت کے لئے ملتان سے چوک اعظم کے سفرکے دوران برادرم شوکت اشفاق کی گفتگوسے مجھے اندازہ ہوا کہ رانااعجاز ان کے ساتھ اپنے جن دکھوں کااظہارکرتے تھے وہ ان دکھوں سے مختلف تھے جن کا انہوں نے مجھ سے اظہارکیاتھا۔ اسی طرح مجھے یہ بھی یقین ہے کہ جو دکھ انہوں نے شاکرکوبتائے یاان کے جن دکھوں سے آصف کھیتران ،رﺅف کلاسرااورسجاد جہانیہ آگاہ ہیں وہ دکھ بھی کسی اوردوست کومعلوم نہیں ہوں گے۔رانا صاحب کے دکھ زیادہ تھے اورشاید قابل اعتماد دوستوں کے تعداد کم تھی سووہ اپناجی ہلکاکرنے کے لئے اپنے دکھ اپنے قابل اعتماد دوستوں کے سینوں میں محفوظ کرتے رہتے تھے اوران کی یہی وہ اداتھی جس کے باعث ہردوست یہ سمجھتاتھاکہ رانا عجاز اسی کو سب سے زیادہ عزیز سمجھتے ہیں۔رانااعجاز کی محبتیں سب دوستوں میں تقسیم ہونے کے باوجود سب کی جھولی میں اس اندازمیں موجودہوتی تھیں کہ ان سے سنبھالی نہ جاتی تھیں اور یہی ان کا سب سے بڑا دکھ تھا ۔
مجھے نہیں یاد کہ رانا اعجازکے ساتھ میری پہلی ملاقات کب ہوئی تھی شایدکتاب نگرپرکہ کتابوں سے محبت کرنے والوں کے لئے وہی تو ایک جگہ تھی جہاں وہ آکرکتابیں اوررسائل پڑھتے بھی تھے خریدتے بھی تھے اورادھاربھی لے جاتے تھے ۔ لیکن مجھے اتناضرور یادہے کہ رانا اعجاز کے ساتھ میری آخری گفتگویکم مئی کو ہوئی تھی اس روزانہوں نے ولی محمد واجد صاحب کے بارے میں میراایک مضمون پڑھنے کے بعد مجھے فون کیا اورپھر واجدصاحب کی یادوں کے حوالے سے میرے ساتھ طویل گفتگوکی اوربتایاکہ ایم ڈی اے کے زمانے میں کس طرح ایک غیرملکی خاتون کو ملتان کی سیرکرانے کے لئے راناصاحب نے واجد صاحب کے سپردکیاا ورپھراپناموٹرسائیکل بھی انہیں دیدیاکہ وہ رکشوں پرکرائے لگانے کی بجائے ان کے موٹرسائیکل پرغیرملکی خاتون کو ملتان کے وہ تاریخی مقامات دکھادیں جن پرتحقیق کے لئے وہ ملتان آئی تھیں۔واجد صاحب جب اس خاتون کے ساتھ شہرکی سڑکوں پرگھوم رہے تھے تورانااعجازواجد صاحب پر تحقیق کر رہے تھے اور دوستوں کوبتارہے تھے کہ دیکھوواجدصاحب کتنے خوش نظرآرہے ہیں۔ایسی بہت سے شرارتیں راناصاحب کی زندگی کامعمول تھیں وہ ایک زندہ دل انسان تھے ایک ایسازندہ دل شخص جس کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتاتھاکہ اسے موت ہرادے گی یاایسے قہقہے لگانے والا کبھی ہمیں رلابھی دے گا۔
مئی کے مہینے میں ہی ان کی علالت کی خبریں آنے لگیں لیہ میں وہ اپنے گھرپرکوروناکامقابلہ کرتے رہے اورپھر صحت یاب ہوکربہاولپورواپس آگئے ۔چندروز قبل آصف کھیتران کی زبانی معلوم ہوا کہ وہ اب ہسپتال سے گھرواپس منتقل ہوچکے ہیں اورزندگی کے معمولات میں بھی ان کی واپسی ہورہی ہے لیکن ٹیلیفون پھربھی ان کابندملتاتھا۔پھرایک روز وجاہت مسعود نے ان کی علالت پرتشویش کااظہارکیالیکن آصف کھیتران کی جانب سے امیدافزاءخبروں کے بعدہم کچھ مطمئن ہوگئے ۔ہماراخیال تھاکہ چند روز میں ہم بھی رانااعجاز سے مل آئیں گے لیکن رانااعجاز نے اس کی مہلت ہی نہ دی ۔
رانااعجاز سے ملاقاتوں کی ایک نہ ختم ہونے والی کہانی ہے ، وہ اچانک ملتان آجاتے تھے اورپھر شاکرکی دکان سے فون آتاتھاکہ رانا صاحب ملتان آچکے ہیں ہم مل کرنیاز کھائیں گے اورراناصاحب بارباراپنا فون دیکھتے تھے اورکہتے تھے کہ بہاولپورسے ایک ڈائیوو کی بس ملتان پہنچنے والی ہے ۔پانچ بجے اس بس پرمیرے مہمان نے آناہے اوراسے لینے کے لئے مجھے گاڑی درکارہوگی اورپھرجب پانچ بجے ان کے مہمان کافون بندہوگیااورہم نے پوچھناشروع کیاکہ راناصاحب گاڑی کابندوبست ہوگیاہے وہ پانچ بجے والی بس کب آئے گی توانہوں نے ٹھنڈی آہ بھر کرکہاکہ یاردعاکروسب خیریت ہوجس نے آناتھااس کافون بند ہوچکاہے کہیں ڈائیوو حادثے کاشکارنہ ہوگئی ہو۔
”راناصاحب ضروری تونہیں کہ اگرمہمان کافون بندہو گیا ہے تو اسے ڈائیوو کا حادثہ ہی سمجھ لیا جائے ،ممکن ہے کہ اس مہمان نے حسب معمول آپ سے ایزی لوڈوصول کرکے اپنافون بندکردیاہو۔“
” ہاں یہ بھی ہوسکتاہے لیکن مجھے یقین ہے کہ اس مرتبہ اس نے جھوٹ نہیں بولاہوگا،ڈائیوحادثے کاشکارہوگئی ہوگی ۔آپ اپنے رپورٹروں سے پوچھیں کہ بستی ملوک کے آس پاس کوئی حادثہ تونہیں ہوگیا“
اورمیں کہتاتھاکہ رانا صاحب جب آپ اردومیں گفتگوکرتے ہیں تومجھے ایسا لگتا ہے جیسے آپ جھوٹ بول رہے ہوں پھروہ میرے ہاتھ پرہاتھ مارتے تھے حسب معمول لمبی تان لگا کر کہتے تھے” میاں ں ں ں ں ں ں آپ بہت شرارتی ہوتے جارہے ہیں ،جبار مفتی صاحب سے پوچھیں کہ مچھلی کی دعوت کب کھانی ہے ،انہیں بتائیں کہ ”ر“ والے مہینے شروع ہوگئے ہیں اب شیدن کی دکان پرمچھلی بھی موجودہوگی “
”حضور ابھی تو اگست کامہینہ ہے ”ر“والے مہینے توشروع نہیں ہوئے “
وہ پھرقہقہہ لگاتے اورکہتے اس مرتبہ اگست میں مچھلی کھاکے دیکھواس کی تاثیر”ر“والی ہی ہوگی ۔
”لیکن آپ تو اس روز بتارہے تھے کہ اب مچھلی کھانابھی بے معنی سی بات ہوچکی ہےمچھلی کھا کے بھی طعنہ سننا پڑتا ہے پھر تاثیرکاچکر کہاں سے لے آئے “
”یہ معرفت کی باتیں ہیں میاں تاثیرکی ”ر“کواگست کے ساتھ جوڑیں تواگست بھی ”ر“والامہینہ بن جاتاہے۔“
اوراس بے ربط مضمون میں اب مجھے ریڈیوپاکستان کے وہ پروگرام یادآرہے ہیں جن میں ہم نے رانااعجاز کو بطورمہمان مائیک پربٹھایااورپھر ان کی طویل گفتگوسے گھبراکر سامعین نے پروگرام سننا بند کردیااورجب ہم نے رانا صاحب سے کہاکہ حضور سامعین پررحم کھائیں ان کے ذہنی معیار کے مطابق گفتگوکریں توانہوں نے ہنس کرآن ایئر ہی کہہ دیاکہ میاں اب ہم آپ کی سطح پرتوآنے سے رہے
رانا صاحب کی طویل گفتگوسے دوست اکثرگھبراتے تھے ،وہ ایک وسیع المطالعہ شخص تھاجس کے پاس کہنے کوبہت کچھ تھامجھ سمیت بہت سے دوست کسی مضمون یاکالم لکھنے سے پہلے یاکسی سیمینار میں شرکت سے پہلے رانا صاحب کالیکچرضرور سنتے تھے ،ان کی گفتگوایک ڈیڑھ گھنٹے سے کبھی کم نہیں ہوتی تھی ۔اوریہی وجہ ہے کہ جب ان کافون آتااورہم کسی محفل میں یاکسی کام میں مصروف ہوتے توان کانمبردیکھ کر فون اٹینڈنہیں کرتے تھے اورسوچتے تھے کہ کچھ دیر میں فرصت کے ساتھ ان سے بات کریں گے اورپھرجب ہم انہیں تلاش کرتے توراناصاحب ہم سے مایوس ہوکر کسی اورکولیکچردینے میں مصروف ہوتے تھے ۔ایک محبت کرنے والاشخص ہم سے صرف محبت کاہی طلبگارتھالیکن ہماری کم مائیگی کہ ہم اس کی بے پناہ محبتوں کوسمیٹنے سے قاصرتھے ۔
رانا صاحب سے ملاقات اچانک ہوتی تھی کہ طے شدہ ملاقات پروہ عموماََدوستوں کو چکمہ دے جاتے تھے ۔وہ پہلے آﺅپہلے پاﺅ کے اصول پرگامزن تھے سوہم میں سے جومصروف ہوتاتھاراناصاحب اسے چھوڑکردوسرے کے ساتھ چلے جاتے تھے اورجب ہم اپنی مصروفیت ختم کرکے ان کی تلاش میں نکلتے تووہ دستیاب نہیں ہوتے تھے۔پھر رات گئے فون آتا کہ میں آصف بھائی کے گھر ہوں وہیں آ جایئں ۔
ان کے دکھوں میں اضافے کی ایک وجہ ان کا محکمہ بھی تھا جہاں رانا اعجاز جیسے بہت پڑھے لکھے اور خوددار انسان کو جاہل وزیروں کے لئے گوبر گیس کی افادیت پر ، یا تبدیل ہوتے پاکستان میں رونما نہ ہونے والی تبدیلیوں کو تبدیلی ثابت کرنے والی تقریریں لکھنا ہوتی تھیں ۔ بہنوئی کی وفات پر چھٹی نہ ملی تو وہ اہل خانہ کو فیصل آباد روانہ کر کے ایک جاہل وزیر اعلیٰ کی میٹنگ میں شرکت کے لئے لاہور چلے گئے اور لاہورپہنچنے کے بعد انہیں کہا گیا تھا کہ آپ یہاں کیوں آئے بہنوئی کی تدفین کے لئے کیوں نہیں گئے ۔ رانا صاحب الٹے پاؤں لاہور سے فیصل آباد روانہ ہو گئے ۔ یہ بھی نہ کہہ سکے کہ جناب آپ نے ہی تو چھٹی دینے سے انکار کیا تھا ۔
دوست جب چلے جاتے ہیں توان کی قدرکاپھراندازہ ہوتاہے ،دوروز سے سوچ رہاہوں کہ کاش میں رانا صاحب کو وقت پرملنے چلاجاتا کاش میں ان کا ہرفون اٹینڈکرتاکسی اکتاہٹ کے بغیر ان کی طویل گفتگوسنتاان کے ساتھ اوربہت سے قہقہے لگاتے اوروہ جومجھے دوسال سے کہہ رہے تھے کہ ایک مرتبہ چودھویں کی رات میرے ساتھ چولستان میں گزارنے کے لئے بہاولپورآجاﺅ دوستوں کو بھی لے آﺅیہ شاکر ،قمررضا اورآصف اگرمصروف ہیں توتم خود ویگن میں بیٹھ کربہاولپورپہنچ جاﺅہم چولستان میں چودھویں کے چاند کاحسن دیکھیں گے ،بہت سی باتیں کریں گے ،بہت سے شعرسنے گے اورسنائیں گے لیکن افسوس چولستان میں چودھویں کی رات گزارنے کی یہ حسرت ہم دونوں کے دلوں میں ہی رہ گئی ۔زندگی کاالمیہ تویہی ہے کہ لمحے جب ہاتھ سے نکل جاتے ہیں توپھر واپس نہیں آتے جیسے رانااعجازمحمودہم دوستوں کو ہاتھوں سے ایک ہی لمحے میں نکل گئے ۔
آخر میں دو شعر کہ جو رانا صاحب مجھ سے اصرار کے ساتھ سنتے تھے اور بار بار سنتے اب سمجھ میں‌آیا کہ کیوں سنتے تھے ۔
جب کسی جاتے ہوئے کو روکنا آجائے گا
بات کرنا سیکھ لیں گے بولنا آ جائے گا
ان کو سونے دو ابھی ہم جاگ سکتے ہیں یہاں
ہم جو سو جائیں گے سب کو جاگنا آ جائے گا

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker