ملتان ۔۔ گردو پیش نیوز ۔۔معروف دانشور ،صحافی اورسابق ڈائریکٹرتعلقات عامہ بہاولپوررانااعجازمحمود کی پانچویں برسی آج منائی جا رہی ہے وہ 8 جولائی 2020 میں56برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے ۔رانا اعجاز محمود ذیابیطیس سمیت مختلف عوارض کاشکارتھے۔
وفات سے چندہفتے قبل انہیں تشویشناک حالت میں لیہ منتقل کیاگیاتاہم طبیعت سنبھلنے کے بعد وہ واپس بہاولپورواپس آگئے۔ ان کی طبیعت اب بہترہوچکی تھی
۔ آٹھ جولائی بدھ کے روزوہ حرکت قلب بند ہوجانے سے انتقال کرگئے ۔
رانااعجازمحمودکاتعلق چوک اعظم ضلع لیہ سے تھا۔ابتدائی تعلیم لیہ سے حاصل کی۔گریجوایشن گورنمنٹ کالج ساہیوال سے کی ۔1987ءمیں محکمہ تعلقات عامہ پنجاب کے ساتھ منسلک ہوئے اورلیہ ملتان ،لاہور اوربہاولپورسمیت مختلف شہروں میں فرائض انجام دیئے ۔
اسی دوران انہوں نے افسرتعلقات عامہ ایم ڈی اے کی حیثیت سے بھی کام کیا۔رانااعجاز محمود ڈائریکٹرتعلقات عامہ بہاولپورکی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے تھے۔
رانا اعجاز محمود کی وفات کے بعد ان کی یاد میں ملتان میں صرف دو تقریبات ہوئیں ۔
ایک تقریب ظہور دھریجہ صاحب نے جھوک کے دفتر میں منعقد کی تھی جب کہ دوسری تقریب کا اہتمام ان کی پہلی برسی کےموقع پر ملتان آرٹس کونسل کی ادبی بیٹھک میں کیا گیا ۔ اس تقریب میں صرف آٹھ سے نو افراد شریک ہوئے تھے جن میں قیصر نقوی ، قمر رضا شہزاد ، سجاد جہانیہ حبیب الرحمان بٹالوی ، ارشد بخاری ، ضمیر قریشی ، تاج محمد تاج اور رضی الدین رضی شامل تھے ۔ اس کے بعد زود فراموش ملتانیوں نے ملتان سے محبت کرنے والے رانا اعجاز کو دوبارہ کبھی یاد نہیں کیا ۔۔ افسوس مرشدی ہم نے آپ کو بھی بھلا دیا ۔۔
فیس بک کمینٹ

