میں یہ لکھوں گا اس بات سے قطع نظر کہ لوگ میرے بارے میں کیا سوچیں گے اور کیا باتیں کریں گے۔ میں اس سے پہلے بھی اپنے بارے میں ایسا لکھ چکا ہوں جس پر لوگوں نے میری ذاتی زندگی کے بارے میں باتیں بنائیں۔ یہ میرا تزکیہ نفس ہے۔ میں صرف لکھنا نہیں چاہتا ورنہ میں ڈائری لکھتا اور اسے خفیہ جگہ پر رکھتا۔ میں لوگوں کو آئینہ دکھانا چاہتا ہوں۔ میں انھیں وہ دکھانا چاہتا ہوں جو وہ کسی کو دکھا نہیں سکتے۔ میں انہیں اپنے بارے میں بتا کر اپنے نہیں بلکہ ان کے رازوں سے پردہ ہٹانا چاہتا ہوں۔
اس دس محرم کی شام غریباں میں اپنی والدہ کے ساتھ تھا۔ میں نے یوٹیوب پر علامہ طالب جوہری کی پرانی تقریر لگا دی۔ مصائب شروع ہوئے تو میں نے امی سے کہا کہ میں یہ نہیں سن سکتا۔ امی نے مجھے میرے کمرے میں جانے کی اجازت دے دی۔ مصائب کا کوئی لفظ میرے کانوں تک پہنچتا تو میرے پورے جسم میں جھرجھری دوڑ جاتی اور میں کانوں پر ہاتھ رکھ لیتا۔ شیعہ مذہب سے میری دن بدن بڑھتی ہوئی دوری شاید یہی مصائب ہیں۔ یہ میرے ٹوٹے ہوئے اعصاب کے لیے ناقابل برداشت ہیں۔ یہی نہیں بلکہ کوئی بھی دکھ اب مجھ سے برداشت نہیں ہوتا۔ میری حساسیت نے مجھے یہاں تک پہنچا دیا ہے۔
گیارہ محرم کی صبح چار بجے میں ملتان سے لاہور کے لیے روانہ ہو گیا۔ جلدی میں تھا کہ وقت پر ہسپتال پہنچ جاؤں۔ اسی جلدی میں اوور اسپیڈنگ کی وجہ سے دو بار چالان ہو گیا۔ جو کیش میں ملتان سے لے کر چلا تھا وہ لاہور پہنچتے پہنچتے ختم ہو گیا۔ بدقسمتی سے ایم ٹیگ میں بیلینس بھی ختم ہو چکا تھا۔ میں نے راوی ٹول پلازہ پر بیٹھے لڑکے سے درخواست کی کہ میرے پاس کیش نہیں ہے اس لیے مجھے کسی اور طریقے سے پیسے دینے کے لیے میری رہنمائی کریں۔ اتنے میں ساٹھ پینسٹھ برس کے ایک لمبے اور دبلے پتلے بزرگ وہاں آ گئے۔ ٹول پلازہ کے لڑکے نے ان تک میری درخواست پہنچائی۔
میرا خیال تھا کہ وہ میری مدد کریں گے لیکن میری توقع کے برعکس انہوں نے مجھے فوراً گاڑی واپس لے جانے کا حکم دے دیا۔ میں سٹپٹا گیا۔ اتنی دیر میں میرے پیچھے گاڑیوں کی ایک لمبی لائن لگ چکی تھی۔ بزرگ نے پیچھے کھڑی گاڑیوں کو بھی پیچھے جانے کا حکم صادر کیا تاکہ میرے لیے راستہ بن سکے۔ میں بادل ناخواستہ گاڑی ریورس کرنے لگا۔ پچھلی گاڑیوں والے بھی بد دلی سے پیچھے ہٹنے لگے۔ میں ایک طرف سے پیچھے ہٹنے لگا تاکہ پیچھے والوں کو زیادہ تکلیف نہ ہو۔ اتنے میں ایک بڑی بس میرے برابر آن کھڑی ہوئی۔ اگرچہ اس کے آگے بڑھنے میں کوئی رکاوٹ نہ تھی لیکن بس کنڈکٹر نے اتر کر مجھے ایک طرف گاڑی موڑ کر آگے بڑھنے کے لیے کہا۔ میں نے انکار کیا تو اس نے موٹی سی گالی دے کر بددعا دی کہ تو آج سارا دن یہاں کھڑا رہے گا۔ بس باآسانی آگے بڑھ گئی۔ میں نے ہجوم سے گاڑی نکال کر ایک طرف لگا دی۔
اگرچہ یہ صبح کا وقت تھا لیکن سورج کی تپش نے مجھے پسینے پسینے کر دیا تھا۔ میں گاڑی لاک کر کے پاس ہی موجود ٹریفک پولیس کے دفتر کی طرف چلا گیا۔ میں نے پولیس والے سے مدد کی درخواست کی تو اس نے ہاتھ کھڑے کر دیے کہ ان کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ میں نے اے ٹی ایم مشین کا پوچھا تو جواب آیا کہ وہاں دور دور تک مشین موجود نہیں تھی۔ پولیس والے نے مجھے ایم ٹیگ کے دفتر جانے کو کہا۔ میں پیدل وہاں تک پہنچا تو ایم ٹیگ کے کلرک نے مجھ سے کیش کے ذریعے ادائیگی کا مطالبہ کر دیا جو ظاہر ہے کہ میرے پاس موجود نہیں تھا۔ اس نے دو ایپس کے نام بتائے کہ ان کے ذریعے ادائیگی کر دیں لیکن ان میں میرا اکاؤنٹ نہیں تھا۔ میں نے ایک دو کالز کیں لیکن جواب میں معذرت کے ساتھ مشورے دے دیے گئے۔
"مجھے زیادہ کیش لے کر چلنا چاہیے تھا۔” میں نے خود کو ملامت کی۔ "مجھے ایم ٹیگ میں بیلینس پورا رکھنا چاہیے تھا۔” میں نے خود کو مزید کوسا۔ لیکن اب پچھتانے کا فائدہ نہیں تھا۔ میں ان دیکھی مصیبت میں پھنس چکا تھا۔
میں واپس راوی ٹول پلازہ کے عملے کے پاس پہنچا اور ان سے ان کے سپروائزر یا مینیجر کے بارے میں دریافت کیا۔ ایک لڑکے نے بھاری جسامت کے شخص کی طرف اشارہ کیا۔ میں دوڑ کر اس کے پاس پہنچا۔ اس نے ابھی مجھ سے بات شروع ہی کی تھی کہ ایک فوجی جیپ اور ٹرک ٹول پلازے میں داخل ہوئے۔ اس بھاری جسامت کے شخص نے فوراً جا کر ان کے لیے راستہ بنایا اور وہ بغیر کوئی ادائیگی کیے آگے بڑھ گئے۔ "شاید پاک فوج ٹیکس کی ادائیگی سے مستثنیٰ ہو گی۔” میں نے کڑھنے کی بجائے خود کو تسلی دی۔ بھاری جسامت والا شخص مجھے اسی لمبے اور پتلے بزرگ کے پاس لے گیا جس نے مجھے واپس جانے کا حکم دیا تھا۔ بزرگ نے کہا کہ کہ کیش کا انتظام کریں ورنہ گاڑی کھڑی رہے گی۔ میں نے اس کی منت کی کہ میں ڈاکٹر ہوں اور مجھے وقت پر ہسپتال پہنچنا ہے۔ بزرگ نے کہا کہ مجھے تجھ پر ترس آ رہا ہے اس لیے میں تجھے اپنا اکاؤنٹ نمبر دیتا ہوں، تو اس پر پیسے ٹرانسفر کر دے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ میری ذاتی مدد ہو گی اس لیے تجھے اس کی رسید نہیں ملے گی۔ میں نے بزرگ کا شکریہ ادا کیا اور پیسے ٹرانسفر کرنے لگا۔ میں نظر کی عینک گاڑی میں بھول آیا تھا۔ مجھے او ٹی پی نظر نہیں آ رہا تھا۔ میں نے دو یا تین دفعہ غلط او ٹی پی لکھ دیا۔ اتنے میں بزرگ اہلکار چلایا کہ تو یہاں سے چلا جا، بھین۔۔۔۔۔
افسر وہاں آ رہے ہیں۔ میرے اعصاب جواب دے چکے تھے ورنہ میں افسر کے پاس جا کر شکایت ضرور کرتا۔ یہ خیال بھی مجھے ابھی یہ تحریر لکھتے ہوئے آیا ہے۔ میں گھبراہٹ میں بھاگم بھاگ اپنی گاڑی تک پہنچا۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی میں نے نظر کی عینک لگائی۔ مجھے امید کی کرن نظر آنے لگی۔ میں نے فوراً پندرہ سو روپے بزرگ کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر دیے۔
میں گاڑی لے کر دوبارہ ٹول پلازہ میں داخل ہو گیا۔ لیکن بھاری جسامت والے اہلکار نے میرا راستہ روک کر مجھے ٹول ادا کرنے کا اور بصورت دیگر راستہ نہ دینے کا اعلان کر دیا۔ میں نے اسے بتایا کہ میں نے بزرگ کو رقم ادا کر دی ہے۔ اس نے بزرگ کو آواز لگائی۔ بزرگ مجھ پر چلائے کہ تو غلط دروازے سے داخل ہو رہا ہے، گاڑی پیچھے کر اور۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد مجھے کچھ بھی سنائی دینا بند ہو گیا۔ میرے پیچھے گاڑیوں کی بھیڑ لگ چکی تھی جن سے مسلسل ہارن بجائے جا رہے تھے۔ میں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ امام عالی مقام کے گریے سے بھاگنے والا ڈاکٹر علی شاذف باقری راوی ٹول پلازہ کے عملے کے ہاتھوں ذلالت اٹھا کر بآواز بلند گریہ کرنے لگا۔
میری حالت دیکھ کر بھاری بھرکم شخص اور بزرگ نے میرے لیے راستہ کھول دیا۔ گھر پہنچ کر میں نے اپنے بیٹے کو بتایا کہ میری چلانے اور احتجاج کرنے کی بیماری ٹھیک ہو گئی ہے، اب میں پاکستان کے غریب اور محنت کش عوام کی طرح ریاستی مصائب پر گریہ اور آہ و زاری کرنے لگا ہوں۔
فیس بک کمینٹ

