اختصارئےرضی الدین رضیلکھاری

رضی الدین رضی کا اختصاریہ : سمارٹ زمانے میں جھوٹ کی توند

بلاگ کو میں اختصاریہ کہتا ہوں اور اس کا آغاز میں نے” دنیا پاکستان“ سے کیاتھا۔ میرے دوست معروف کالم نگار وجاہت مسعود اس کے مدیر تھے ، پھر جب وجاہت مسعود نے” ہم سب “ کے نام سے اپنی ویب سائٹ کا اجرا کیا تو میں بھی اپنا چھابہ ” ہم سب “ پر لے گیا۔ اوراب کاشف رفیق کے اصرار پرچھابےکے ساتھ ( جو سمارٹ لاک ڈاؤ ن کے زمانے میں چھابی بن چکا ہے) ” سب نیوز “ میں موجود ہوں۔
کالم یا تحریر کے لیے چھابے کا لفظ منو بھائی نے اس وقت استعمال کیا تھا جب وہ امروز سے روزنامہ جنگ کے ساتھ منسلک ہوئے تھے اور انہوں نے کہا تھا میں اپنے کالم کا چھابہ لے کر گلی سے بازار میں آ گیا ہوں۔ وہ پرنٹ میڈیا کا زمانہ تھا لوگوں کا کاغذ قلم اور کتاب کے ساتھ مضبوط رشتہ تھا۔ پھر زمانے نے کروٹ لی اور سب کچھ ختم ہوتا چلا گیا۔ لوگ اب ڈیجیٹل زمانے میں جی رہے ہیں اور یہ ای کتاب کا زمانہ ہے۔ یو ٹیوب کی دنیا میں لوگوں کے پاس صرف جھوٹ سننے اور چسکے کے لیے وقت ہے۔ ہم قلم کار، لوگوں کو کتاب کے ساتھ تو نہ جوڑ سکے لیکن اپنی بات تو ہمیں ان تک پہنچانی ہے۔ سو جس میڈیم میں جتنی بات وہ سننا اور پڑھنا چاہتے ہیں ہمیں بھی اسی میڈیم اور اسی تناسب کو اپنا لینا چاہیے۔ جھوٹ اور چسکا ہمارا مزاج نہیں لیکن ہم جتنا سچ لکھ سکیں گے اتنا تو ہمیں لکھنا چاہیے کہ سچ سننے کی اب تاب بھی تو کسی میں نہیں۔ بلاگ یا اختصاریہ نئے زمانے کا اسلوب ہے کہ کم لفظوں میں لوگوں سے براہ راست مکالمہ کیا جائے زیب داستان کے لئے اور کالم کے ایک ہزار یا بارہ سو لفظ مکمل کرنے کے لیے جو جھوٹ سچ لکھا جاتا ہے اس میں اس کی بھی ضرورت نہیں رہتی۔ اور ویسے بھی اب تو بات ایک پیرا گراف سے بھی کم ہو کر ایک سطر تک محدود ہو گئی کہ یہ ٹویٹر کا بھی تو زمانہ ہے اور ایک سطر کی بات یہ ہے کہ ” ہم سب“ سے” سب نیوز“ تک کے سفر میں ہم نے بہت کچھ گنوا دیا بس قلم کی حرمت سلامت رکھی۔
آخری بات یہ کہ ہم نے 1983 میں جب کالم نگاری کا آغاز کیا تو کالم کا نام ” ڈرتے ڈرتے ”رکھا تھا وہ آمریت کا خوف و ہراس والا زمانہ تھا۔ آج 39 برس بعد جمہوری دور میں بھی ہم اس اختصاریے کا نام تبدیل نہیں کر رہے کہ آپ بخوبی جانتے ہیں سمارٹ زمانے میں سب کچھ مختصر ہو گیا بس ایک ڈر ہےجس کی توند نکل آئی ہے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker