کبیروالا کے سینئر شاعر ، نعتیہ مسدس ”ماحی “ کے خالق حکیم سید ساغر مشہدی مختصر علالت کے بعد دو اکتوبر کی صبح انتقال کر گئے ان کی عمر 78 برس تھی ۔ساغر مشہدی مرحوم کا اصل نام سید محمد ظفر علی تھا تاہم وہ اپنے تخلص ساغر مشہدی کے نام سے معروف تھے ۔ساغر مشہدی 1944 میں ہندوستان میں پیدا ہوئے اور ہجرت کرکے ان کے آباء و اجداد تلمبہ میں آ کر آباد ہوگئے ۔ابتدائی تعلیم تلمبہ میں حاصل کی بعد ازاں انہوں نے گورنمنٹ طبیہ کالج بہاولپور سے فاضل طب کی تعلیم حاصل کی اور چار برس کراچی میں حکیم محمد سعید دہلوی کے مطب پر کام کرتے رہے۔ بعد ازاں کچھ عرصہ میلسی اور چار سال ملتان میں مطب ہمدرد کے انچارج رہے اور حکمت کرتے رہے ۔
ساغر مشہدی نے 1968 میں شاعری شروع کی اور ڈاکٹر اسلم انصاری سے شاعری میں اصلاح لیتے رہے۔
ساغر مشہدی نے 1973 میں ریڈیو پاکستان ملتان پر پہلا مشاعرہ پڑھا۔ ساغر مشہدی نے محکمہ صحت میں سرکاری ملازمت کر لی اور سول ہسپتال کبیروالا میں بطور حکیم تعینات ہوئے اور یہیں سے ریٹائر ہوئے۔ کبیروالا آنے کے بعد وہ یہاں کے مستقل مکین ہوگئے اور آخری وقت یہیں قیام پذیر رہے۔
ساغر مشہدی ہر صنف سخن میں شاعری کرتے تھے تاہم حمد، نعت ،منقبت ،مسدس اور رباعی میں وہ ایک نمایاں شناخت اور مقام کے حامل تھے ۔1985 میں ان کی مسدس کی کتاب ماحی شائع ہوئی جس میں120 بند پر مشتمل نعتیہ مسدس شامل ہے
وہ غزل اور نظم بھی کہتے تھے ۔رفاہ انٹر نیشنل یونیورسٹی فیصل آباد میں طالب علم عمران منظور نے پروفیسر ڈاکٹر رفعت ریاض کی زیر نگرانی ” تدوین غزلیات ساغر مشہدی “ کے عنوان سے ایم فل کا مقالہ تحریر کیا ہے ۔ساغر مشہدی فن موسیقی سے بھی شغف رکھتے تھے اورموسیقی کی باقاعدہ تعلیم حاصل کررکھی تھی۔
وہ ملتان ،خانیوال، کبیروالا اور تلمبہ کے ادبی حلقوں اور سرگرمیوں میں بہت فعال تھے۔کسی زمانے میں وہ ادبی تنظیم ” بزم ادب” تلمبہ کے جنرل سیکرٹری بھی رہے۔وہ نوجوان شعراء کی رہنمائی بھی کرتے تھے۔وہ ایک ہنس مکھ ، ملنسار،خوش مزاج اور خوش کلام شخصیت تھے۔
ساغر مشہدی آقائے دوجہاں ﷺ کی شان میں ثناء خوانی اور اہل بیت عظام ؓ کے فضائل ومناقب اور شہدائے کربلا کے شان میں سلام ،مرثیہ اور نوحہ لکھنے کو زیادہ ترجیح دیتے تھے تاہم انہوں نے غزلیات بھی کہی ہیں۔ساغر مشہدی کی شاعری میں برجستگی کے ساتھ ساتھ نادر تشبہیات و تلمیہات اور تراکیب کا استعمال جگہ جگہ ملتا ہے۔ان کی شاعری میں ہمیں لاتعداد موضوعات ملتے ہیں اور ان موضوعات میں زندگی کے تمام رنگ شامل ہیں
ساغر مشہدی کو 30 ستمبر کی شام دوستوں کی محفل میں فالج کا اٹیک ہوا انہوں فوری طور پر کبیروالا ہسپتال لے جایا گیا جہاں تشویشناک حالت کے باعث انہیں نشتر ہسپتال ملتان شفٹ کردیا جہاں دوران علاج وہ 2اکتوبر کی صبح وہ اس جہان فانی سے کوچ کر گئے ۔ساغر مشہدی کے پسماندگان میں ایک بیوہ، چار بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔
ان کی نماز جنازہ مرکزی امام بارگاہ حسینیہ سادات خانیوال روڈ میں پڑھائی گئی اور مقامی قبرستان میں انہیں سپرد خاک کردیا گیا۔ نماز جنازہ میں ، قمر رضا شہزاد ، رضی الدین رضی، نوازش علی ندیم ،حسنین اصغر تبسم ،بابا طالب بٹالوی ،ریاض شاہد پنیاں،سید سہیل عابدی، ندیم ناجد، فیصل ہاشمی ،عمار یاسر مگسی ،تاثیر جعفری ،ڈاکٹر یوسف سمرا،طارق جاوید، مجتبی ظفر سیال،محسن رضا شافی ،محمد علی ایاز،عالمگیر ہراج، سید فرخ رضا،حمزہ شاہ ،عبد الستار خاور، ڈاکٹر شرافت بھٹہ،غلام اکبر ایری،سید جاوید اختر،سید منتظر مہدی، سید احتشام رضا،اطہر یوسف خان بھٹہ ملک طاہر شفیق، ڈاکٹر سید کاشف علی ،سید عدیل اظہر ، سید شہزاد رضا،مبشر حسن خان بھٹہ ،منتظر مہدی ہانس ،شفیق احمد خان بھٹہ سمیت اہل علاقہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔
فیس بک کمینٹ

