افسانےصائمہ صادقلکھاری

صائمہ صادق کا افسانہ : دوزخ سے نجات

آج اسکول بند ہوۓ پانچ ماہ سے زیادہ کا عرصہ بیت گیا ۔میرو نےبی ۔اے کر رکھا تھا ۔باپ کی وفات کے بعد آگے نہ پڑھ سکی تو ماں کا بوجھ کم کرنے کے لیے اسکول میں پڑھانے لگی ۔لیکن تنخواہ نام کی کوئی چیز نہ ملی ۔۔لاک ڈاون کی وجہ سے اماں سل گارے کا جو کام کرتی ہیں وہ مزدوری بھی بند ہے ۔۔۔حالات با لکل ویسے ہو رہے جو تین سال پہلے ابا کی جنت مکانی ہونے پہ ہوۓ تھے ۔۔۔رشتہ داروں نے ایسے نظریں پھیریں‌جیسے کہ ہم اچھوت ہیں ۔کوئی در نہ کوئی آسرا ۔۔۔۔۔انہی خیالوں میں گم تھی کہ اماں کی آواز پر چونکی ۔۔۔
میرو پانی پلا دو حلق سوکھ گیا ہے ۔کام تو کچھ بنا نہیں خالی ہاتھ ہی لوٹنا پڑا ۔۔۔۔
کیا کہتے ہیں اسکول والے کب دیں گے تنخواہ ۔۔اند ر تو گھسنے نہیں دیا ۔لیکن جب پلٹنے لگی تو آپ کی پرنسپل صاحبہ کو گاڑی میں بیھٹتے دیکھا ۔وہ کہتی ہیں بی بی ابھی تنخواہ نہیں آئی اور اتنا بجٹ نہیں کہ ایڈوانس دیں ۔۔۔نوری کا کیا ہو گا کل بھی سوکھی روٹی کے ٹکڑ ے پڑے تھے وہی پانی میں بھگو کر اس کے لیے گرم کیے ۔۔
آنسو موتیوں کی طرح اس کی سوجی آنکھوں سے ٹپ ٹپ گرنے لگے ۔کیسی ماں ہو ں دو وقت کا کھانا نہیں کھلا سکتی ۔
کچھ خیال آتے ہی وہ سر پہ د وپٹہ جوڑتے ہوئے میرو کنڈی لگا لو میں ابھی آتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔میروکئی بار دروازے سے باہر جھانک چکی تھی رات کی سیاہی چھا گئی ابھی تک اماں کہیں کچھ ہو تو ۔۔۔۔۔۔نہیں ، نہیں اللہ نہ کرے ۔۔۔۔۔نوری بھوک سے بلکتے بلکتے سو گئی۔تین پہر ہو گئے اک نوالہ اس ننھی جان کے حلق سے نہ اترا تھا ۔جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا پریشانی اور اضطراب بڑھ رہا تھا ۔۔دروازے پر دستک ہوئی جوتا پاؤں میں ڈالے بنا لپکی ۔۔۔شکر ہے خدا کااماں آپ آ گئی ۔۔کیسے کیسے خیال آ رہے تھے ۔۔وہ جو گلی کے نکڑ پہ بنگلہ ہے اس بی بی صاحبہ کو اپنے بچے کی دیکھ بھال کے لیے ملازمہ چاہیے تھی ۔۔امید جاگی تھی وہ بھی ٹوٹ گئی ۔۔کہتی ہیں اپنی لڑکی بھیجوں وہ پڑھی لکھی ہے ۔۔۔۔میں منع کر آئی خود تو سارا دن بینک ہوتی ہیں اور پیچھے گھر میں شوہر ہوتاہے اس کاایسے میں اپنی جوان بچی کیسے بھیج سکتی۔۔۔اماں آپ بھی نا منع کرنا ضروری تھی ۔۔۔۔چپ کر میرو تو نہیں جانتی اس دنیا کو ۔۔۔۔اچھا اماں غصہ نہ کریں سو جائیں کل بات کرتے اس پہ۔۔۔۔بھوک رات بھر ماں بیٹی کے پیٹ میں انگڑائی لیتی رہی۔
نوری کے جسم میں جنبش نہ ہوئی ۔۔دن چڑھ آیا ہے میرو نوری کو جگا دے اماں سونے دیں اسے اٹھے گی توپھر کھانا مانگے گی ۔۔کہاں‌ سے لائیں گی ۔۔۔۔لائی ہی تو ہوں وہ کوڑا پھینکنے گئی تو ٹوکری میں دو سیب پڑے تھے تو بھی آ جا زیادہ خراب نہیں ہیں ۔۔میں دھو لیتی ہوں۔
نوری ، نوری دیکھ تو اماں تیرے لیے لال لال سیب لائی ہے تجھے پسند ہیں نا۔۔جھنجھوڑنے پہ بھی کوئی جنبش نہ پا کر میرو نے گھبرا کر ماں کوآواز دی۔۔۔
ٹھنڈی یخ اک معصوم لاش پڑی تھی۔جس کے چہرے پہ بھوک کےآثار نمایاں تھے۔۔۔محلے کی چند بوڑھی عورتیں آئیں اور دلاسے کے دو بول تک نہ بولے ۔محلے میں افواہ ۔پھیلا دی کہ کرونا سے موت ہوئی ہے۔۔۔پولیس نے لاش دفنا دی ۔پولیس موبائل میں بیٹھے انسپکٹر نے میرو کی جوانی کو اپنی للچائی نظروں سے پاؤں تا سر آنکھوں آنکھوں میں تولا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرو اور ا س کی ماں کے ٹیسٹ ہوۓ ۔۔یہ کہہ کر واپس بھیج دیاکہ جب تک رپورٹ نہیں آتی گھر سے باہر نہ نکلیں اور ہرقسم کا رابطہ ختم کر دیں ۔کسی نے جاننے کی کوشش نہ کی کہ گھرمیں بند رہی تو کیا کھائیں گی ۔۔۔۔ان مجبور آنکھوں نے سب کی طرف سوالی نظروں سے دیکھا لیکن خودداری آڑے آ گئی ۔۔۔۔۔۔۔
چھ دن گزر گیے کسی نے جاننے کی کوشش نہ کی کس حال میں ہیں نہ کوئی دروازے سے جھانکا ۔۔۔۔۔۔آج ہفتہ کی صبح پولیس کا اک اہلکار رپورٹ لے کر آیا کہ بچی بھوک سے وفات پا گئی اور میرو اور اس کی والدہ کو بھی کرونا نہیں ہے ۔۔۔ایس ایچ و صاحب نے ان کے لیے راشن اورکچھ پیسے بھیجے ہیں ۔۔ باربا ر دستک دینے پر جب دروازہ نہ کھولا تو پولیس اہلکار نے محلے والوں کی اجازت سے دروازہ توڑ دیا۔۔۔۔۔سامنے زمین پر اک خوب رودوشیزہ جس نے جوانی کی سیڑھی عبور کی تھی ۔بھوک اور افلاس نے اگر چہ اس کے چہرے کی رونق چھین لی تھی ۔۔لیکن اس کے جسم کو فرصت میں تراشا گیا تھا جو اب اپنے شباب کے جوبن پہ تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے پھٹے کپڑے بوسیدہ گھر میں بکھرے پڑے تھے ۔اک پھٹی چادر سے اس کے جسم پر کٹ جگہ جگہ پڑے نیل کے نشان اور سگریٹ کے جلے کے نشان اور جسم کی عریانی اس پر ٹوٹے قہر کو چیخ چیخ کر بیان کررہی تھی ۔
ایسا ان چھ دنوں میں جانے کتنی بار ہوا تھا ۔۔۔۔ چار پائی کے ساتھ رسی میں جکڑی ماں کے کانوں میں اس کی چیخیں گرم سیسہ بن کر پگھلی ہو ں گی ۔۔۔۔
گھر سگریٹ کی خالی ڈبیوں اور شراب سے مہک رہا تھا۔۔۔۔۔وہ خالی پھٹی نگاہوں سے آسمان کو ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی تھی ۔۔۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker