افسانےسائرہ راحیل خانلکھاری

اِذنِ رُخصت (3 ) ۔۔ سائرہ راحیل خان

آج سے پہلے بھی کئی بار میں ایسے فیصلے لے چُکی تھی۔ مگر قدم خود با خود اسکی طرف پلٹ آتے تھے۔ یا پھر شاید قسمت مجھے ایک ہتمی اور مستحکم فیصلے کے لیے تیار کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“فرض کرو جو گر نا لوٹ پائی تو بھی کیا فرق پڑتا ہے؟ کیا یہ چند فاصلے ہمارے دلوں میں حائل ہو جائیں گے؟ یا پھر اس صورت ہماری محبت ختم ہو جائے گی؟ نہیں! ختم لوگ ہوتے ہیں، جسم ہوتے ہیں، وقت ہوتا ہے ،،،، محبتیں ہمیشہ باقی رہتی ہیں۔۔۔۔۔ ادوار بدلتے ہیں ، کردار بدلتے ہیں ، صورتیں بدل جاتی ہیں مگر محبت سدا ایک سی رہتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ محبت کے تقاضے بدل سکتے ہیں ، بنیاد اور اساس نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم محبت کو منتخب نہیں کرتے ، نا اسے جیتے ہیں۔ بلکہ محبت ہمارا انتخاب کرتی ہے اور محبت ہی ہمیں جیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محبت وقت ، حالات ، جسموں یہاں تک کے سانسوں کی قید سے آزاد ہوتی ہے۔ محبت جسموں کا نہیں روحوں کا سفر ہے، جیسے روحیں لافانی ہیں ویسے ہی محبت بھی کبھی نا فنا ہونے والا جذبہ۔ اور ایک بار جو منتخب کر لیے جائیں ، پھر وہ رہیں چاہے نا رہیں ،،،، محبت انہیں صدیوں تک جیتی رہتی ہے۔۔۔۔۔۔ انشا اللہ ہماری محبت بھی ہمیں تا قیامت جیتی رہے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
میں نے اسکا اُداس زرد پڑتا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں لیتے ہوئے محبت کی حقیقت سے اشکار کروانا چاہا۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے ہمیشہ کی طرح میری بات سے اتفاق کرتے ہوئے، ہتھیار ڈال دیے۔۔۔۔۔۔ میری طرف حسرت سے دیکھا اور چند اشعار پڑھے۔
جو ہمیشہ کی طرح اُس نے صورتحال کے پیشِ نظر، فِلبدی کہے تھے۔۔۔۔۔۔

“تُم اِذنِ رخصت سُنا رہے ہو،،،،،،
تمہارے تیور بتا رہے ہیں
نا لوٹ آنے کا ہے اِرادہ
سو چھوڑ کر مجھکو جا رہے ہو،،،،،،،،،،”

اپنے ہاتھوں کے پیالے میں اسکا چہرہ سجائے ، میں چند لمحے مہبوت ہو کر اسے دیکھتی رہ گئی۔ میں وہ مہربان صورت اپنی آنکھوں میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لینا چاہتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر ایک آخری بار اسکے بکھرے بال میں نے اپنی انگلیوں سے سنوارے اور وہاں سے چلی آئی ۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بے شک کس قدر کٹھن تھا اس کے پہلو سے اٹھ آنا۔۔۔۔
آج جیسے وہ میرے جنازے پر آیا تھا۔ تھکا ماندہ، اُنہیں الجھے، بکھرے بالوں کے ساتھ۔ میں اسکو ازنِ رخصت تو دے آئی تھی لیکن یہ بھول گئی تھی دلوں کے سوداگر کبھی اتنے کچے سودے نہیں کرتے۔ جب عہد و پیمان روحوں کے درمیان ہوں تو جسموں کے قید خانے ان میں حائل نہیں ہوتے۔ جس سے میں رخصت لے آئی تھی وہ خود منزل بن کر میری مسافت تمام کر چکا تھا۔
فرشتوں نے مسکراہٹ کے ساتھ آسمان سے اجازت لی اور دونوں مسافروں کو لے کر انکی ابدی منزل کی طرف گامزن ہوئے۔ “ازنِ رخصت” مل چکا تھا۔۔۔۔ایک عالم ناپائیدار سے جاویداں اور ابدی زندگی کے لئے۔۔۔۔۔۔۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker