سجاد جہانیہکالملکھاری

ٹاہلی والے لیٹر بکس اور عید کارڈوں کی یادیں ۔۔ سجاد جہانیہ

جہاں میں رہتا ہوں، یہاں چوبیس برس بعد واپسی ہوئی ہے۔ اب اس واپسی کو بھی تین برس ہونے کو ہیں۔ یادش بخیر! مدتوں قبل اباجی نے ملتان نام کے اس اجنبی شہر میں ایک کمرے کا چوبارہ کرائے پر لے کر بود و باش اِختیار کی۔ تب ہماری آپی جو خیر سے اب تین بچوں کی نانو ہیں، فقط ایک ہی برس کی تھیں۔ میں پہلے بھی ان کالموں میں لکھ چکا ہوں کہ وہ “بھاگاں” جو بیس برس سے گلگشت کے قبرستان میں زمیں اوڑھے سوتی ہے، اس کے بھاگ اباجی کے ہم رکاب تھے۔ سو ملتان شہر کا پہلا بےمہر موسم گرما قدیر آباد کے چوبارے میں برقی پنکھے کے بغیر گذارنے والے اس سہ رکنی خاندان نے اگلے چند برس میں محلہ اشرف آباد میں دس مرلے کا اپنا مکان بنا لیا جس کے فرش ابتدا میں چک تیرہ سے ہجرت کر کے آئی بھاگاں اپنے ہاتھوں لیپا کرتی تھی۔
برسوں وہاں قیام رہا پھر سکوٹر سے اباجی منی مورس کار پر آگئے تو اس دس فٹ کی گلی میں کار کا آنا جانا قدرے دشوار ٹھہرا، سو کوئی ڈیڑھ کنال کا قطعہ اراضی اسی اشرف آباد محلے کے اختتام پر اس جگہ خریدا گیا جہاں سے فیلڈ مارشل کے ون یونٹ کی یادگار وحدت کالونی شروع ہوتی تھی۔ کھلی ڈلی سڑکوں والی سرکاری کالونی جس کی چاردیواری نہ تب تھی نہ اب ہے، چنانچہ یہی ہمارا راستہ تھا۔ تب آبادیاں کم تھیں، جا بہ جا خالی پڑے پلاٹ کوڑیوں کے دام ملا کرتے تھے کیونکہ رئیل سٹیٹ ملک ریاضوں کے ہاتھ آنے میں ابھی کئی دہائیاں باقی تھیں، سو مزید خریداری سے یہ پلاٹ بیالیس مرلے تک پہنچ گیا۔ رفتہ رفتہ یہاں عمارت بنتی رہی جو ہماری ضرورت سے زیادہ ہوگئی تو پانچ کمروں کا ایک پورشن الگ کرکے کرائے پر اٹھا دیا گیا۔ جب اشرف آباد والا گھر چھوڑ کر ہم یہاں منتقل ہوئے تو راوی بتاتے ہیں کہ میں دو اڑھائی برس کا تھا اور پھر بیس برس یہاں رہے۔ سائیکل، موٹرسائیکل، گاڑی میں نے اسی وحدت کالونی کی سڑکوں پر سیکھے۔ یہ سوا دوکنال کا گھر جس کے تین آنگنوں میں دھریک، ٹاہلی اور شہتوت کے درخت جھومتے تھے اور جن کے سائے میں میرے بچپن اور لڑکپن کی بے شمار دوپہریں اونگھتی تھیں، اب کتنے ہی چھوٹے چھوٹے ڈربوں میں بٹ چکا ہے۔ انیس صد بانوے میں ہم بوسن روڈ کی ایک جدید آبادی میں اٹھ آئے تو جنہوں نے یہ وسیع مکان خریدا، ان کو جہاں ایک بالشت جگہ بھی خالی ملی، وہاں چھت ڈال دی۔ اب کبھی میں اس مکان کو باہر سے کھڑا ہوکے دیکھتا ہوں تو میرا دم گھٹنے لگتا ہے، پتہ نہیں اس کے مکیں کیونکر سانس لے پاتے ہوں گے۔ یہ ہے بڑھتی ہوئی آبادی کا جبر جو ہمارے درخت اور کھیت نکلتا جا رہا ہے۔



خیر! مجھے تو آپ کو کچھ اور بتانا ہے۔ میں بائیس برس کا تھا جب ہم یہاں سے گئے اور پھر چوبیس برس بعد یہاں قیام ہوا ہے۔ رشید آباد کی طرف سے شاہ شمس روڈ پر اتریں تو تھوڑی دیر بعد دونوں جانب وحدت کالونی شروع ہوجاتی ہے۔ الٹے ہاتھ پر جو دوسرا گیٹ ہے اس سے میں گھر کو آنے کے لئے داخل ہوا کرتا ہوں۔ جب پہلے یہاں رہتے تھے تب یہ گیٹ نہیں لگے تھے مگر ہمارا راستہ یہی تھا۔ اس گیٹ میں داخل ہونے کو مڑتا ہوں تو گیٹ کے داہنی طرف فٹ پاتھ پر ایک لال رنگ کا اداس سا لیٹر باکس مجھے روز نظر آتا ہے۔ اس کو دیکھ کے لمحے بھر کو میں بھی اداس سا ہوجاتا ہوں۔
پچھلے ستائیس برس میں اس لیٹر باکس کا سائز بڑھ گیا ہے، نصب ہونے کو اسے جگہ بھی بہتر میسر آگئی ہے، رنگ و روغن بھی بہتر ہوا ہے مگر اس کا پیٹ خالی ہوگیا ہے۔ جب پیٹ ہی خالی ہو تو ایسی پوشاک کا اور ایسے مکان کا فائدہ؟ اس لیٹر باکس کاماضی بھی سن لیجئے۔ میرے لڑکپن کے دنوں میں اسی موڑ پر گیٹ کے بائیں جانب ایک ٹاہلی کھڑی ہوتی تھی، اس کے تنے پر ایک بدرنگا اور سائز میں کہیں چھوٹا لمبوترا سا چوکھٹا لیٹر باکس لٹکا رہتا تھا۔ اس کو کھول کر ڈاک نکالنے کی کھڑکی بھی امتدادِ زمانہ سے ٹیڑھی میڑھی ہوچکی تھی۔ یہ لیٹر باکس خطوں سے ٹھسا ٹھس بھرا ہوتا اور پوسٹ کئے گئے نیلے لفافے ٹیڑھے کناروں والی کھڑکی سے جھانک رہے ہوتے۔ ڈر رہتا کہ کوئی من چلا خط نکال نہ لے۔ لیٹر باکس کے دہن میں ٹھونس ٹھونس کر لفافہ ڈالنا پڑتا۔
اس بدرنگے لیٹر باکس کے ذریعے میرے کتنے ہی خط، جن میں کہانیاں، چچا جان (ایڈیٹر بچوں کا کا ایڈیشن) کے نام خط، لطائف، مضامین، فیچر ہوتے، امروز، نوائے وقت، تعلیم و تربیت، پھول، فیملی میگزین اور دیگر جرائد کے ایڈیٹروں تک پہنچے۔ بیش تر چھپے، کئی ردی کی ٹوکری کا رزق بنے ہوں گے۔ قلمی دوستی کے بے شمار خطوط اسی لیٹر باکس کے ذریعے پوسٹ ہوئے۔ ان سطور کے پڑھنے والوں کو اطلاع ہو کہ ایک زمانہ اِس کالم نگار پر ایسا بھی گزرا ہے کہ روزانہ پندرہ بیس خطوط وصول کرتا اور ان کے جوابات لکھتا۔ بچپن میں کوئی کھیل کھیلا ہو تو پتہ نہیں مگر لڑکپن میں گلیوں سڑکوں باغوں کے کسی کھیل میں اپنا شامل ہونا مجھے یاد نہیں۔ میرا واحد مشغلہ تب بھی رسائل، ناول، پڑھنا اور ان میں تحریریں بھیجنا، دوپہروں کو بیٹھ کر قلمی دوستی کے خط لکھنا/پڑھنا ہوا کرتا تھا۔ میری ڈاک اتنی زیادہ ہوگئی کہ اباجی ناراض ہونے لگے۔ سو میں نے واپسی پتہ گھر کے بجائے سہیل بک سنٹر شاہ شمس روڈ، اختر لائبریری رشید آباد اور رحمان بیکری چوک رشید آباد دینا شروع کردیا۔ اول الذکر دونوں لائیبریریاں تھیں جہاں سے میں کرائے پر ٹارزن، عمروعیار، عمران سیریز کے ناول لے کر پڑھا کرتا تھا۔ اب یہ تینوں ہی ختم ہوچکے۔ اختر اور سہیل بھائی پتہ نہیں کہاں ہوتے ہیں۔ رحمان بیکری والا صدیق فیصل آباد شفٹ ہوگیا۔ بہرحال ان تین پتوں پر میری ڈاک آتی مگر جاتی اسی بدرنگے لیٹر باکس کے ذریعے تھی۔
رمضان کے دنوں میں عید کارڈ خریدنے کے لئے مالی وسائل مہیا کرنے کا مجھے اسی طرح “وَختہ” پڑ جاتا جیسے پچھلے دس ماہ سے وزیراعظم عمران خان کو پڑا ہوا ہے۔ قلمی دوستوں کی ایک طویل فہرست پھر لوکل دوست اور کزنز وغیرہ، سب کے لئے کارڈ خریدنا ہوتے۔ ان پر ڈاک ٹکٹ لگانے کا خرچ الگ۔ رمضان کے پہلے دن سے ہی گھنٹہ گھر کی عمارت کے مغربی جانب جو دس بارہ کتابوں کی دکانیں ہیں، ان کے آگے لمبے لمبے سٹال عید کارڈوں کے لگ جاتے جہاں دو روپے سے لے کر پندرہ روپے مالیت تک کے عید کارڈ سجے ہوتے۔ گلی محلے کی دکانوں پر تو ایک روپے والا کارڈ بھی مل جایا کرتا تھا۔ کیا دن تھے، محلے کی سہیلیاں، سکھیاں اک دوجے کو مہندی، چوڑیاں، سویاں تحفے میں دیتیں تو ساتھ میں یہی ایک دو روپے والا کارڈ بھی ہوتا جس پر کئی رنگوں سے اشعار اور نیک خواہشات رقم کی جاتیں، ٹیکنالوجی نے سب ہڑپ لیا۔ “اک دھوپ تھی کہ ساتھ گئی آفتاب کے”
بہرحال میں ایک فہرست بناتا کہ کون کون ہیں جنہیں دو روپے والا کارڈ جائے گا، کن کو تین، پانچ والا اور وہ ایک دو خوش نصیب کون ہوں گے جن کے لئے دس، بارہ یا پندرہ روپے والا کارڈ خریدنا ہوگا۔ پھر اس کے مطابق بجٹ ارینج کیا جاتا۔ بڑی محبت اور محنت کے ساتھ ایک ایک کارڈ لکھ کر لفافہ بند کرنا، رشید آباد کے ڈاک خانے سے لائے ہوئی بیس پچیس پیسے والی ٹکٹ کی چسپاندگی۔ یہ پلندہ تیار ہوجاتا تو میں اس بدرنگے لیٹر باکس کو لفٹ نہ کرواتا کہ اس کا دہن چھوٹا تھا جس میں ڈالتے ہوئے کارڈ مُڑ تُڑ جاتا تھا۔ رشید آباد ڈاک خانے کے باہر لگے بڑے لیٹر باکس میں یہ کارڈ پوسٹ کرنے جاتا۔ یہ ڈاک خانہ کبھی اپنی عمارت نہ پا سکا۔ تب بھی رشید آباد سے عیدگاہ کی طرف جاتے ہوئے ایک دکان میں ہوا کرتا تھا، اب بھی ریواڑی محلہ کی ایک دکان میں ہے۔ کبھی ڈاک خانے کا کوئی اہل کار مجھے اتنی ساری تعداد میں کارڈ پوسٹ کرتے دیکھ لیتا تو کہتا میاں مجھے پکڑا دو میں مہر لگا کر روانہ کردیتا ہوں۔ کارڈ بادل ناخواستہ اسے دینا پڑ جاتے مگر مجھے بےچینی سی رہتی۔ وہ تسلی نہ ہوتی جو اپنے ہاتھ سے لیٹر باکس میں ڈال کر ہوا کرتی۔
وہ ٹاہلی نہیں رہی، اس پر لٹکا ہوا وہ بدرنگا لمبوترا، ٹوٹی کھڑکی اور بھرے پیٹ والا لیٹر باکس بھی نہیں رہا۔ اس کی جگہ گول اور سڈول لیٹر باکس بڑے وقار سے فٹ پاتھ پر کھڑا ہے، اس کا دہن بھی کھلا ہے مگر پچھلے تین برس سے میں نے کبھی کسی کو اس کے منہ میں خط ڈالتے نہیں دیکھا۔ اجڑی ریاستوں کے نوابوں کی مانند یہ لیٹر باکس اجلے لباس کے پیچھے خالی پیٹ رکھتا ہے۔ اب تو محکمہ ڈاک نے آٹھ روپے والے لفافے کی قیمت بیس روپے کردی ہے، گویا اپنے ہی تابوت میں آخری کیل۔ ایک روایت تھی کہ ختم ہوئی۔ وہ کارڈ اور خط جو بھیجنے والے کے لمس کی خوش بو لئے ہوتے تھے، اب بے روح اور بے لمس برقی پیغامات میں بدل گئے ہیں۔ ٹاہلی نہیں رہی، شکستہ لیٹر باکس نہیں رہا، عید کارڈ اور خط نہیں رہے تو کیا ہوا۔ میرا لڑکپن بھی تو نہیں رہا، جوانی بھی تو وقت کے غبار میں گم ہوگئی اور اب کچھ راہ پر بڑھاپے کی دہلیز دکھائی دینے لگی ہے۔ ہر آغاز کا اختتام ہوتا ہے۔ ہر ابتدا، انجام آشنا ہوا کرتی ہے۔ روائتیں بنتی اسی لئے ہیں کہ اک روز گل سڑ جائیں اور ان کی راکھ پر نئی روائتیں اپنی بنیاد رکھیں۔ “ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں”۔ رہے گا تو بس میرے اللہ کا نام

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker