ملتان (اے پی پی):نامورپلے بیک سنگر سلیم رضا کااگرچہ مسیحی گھرانے سے تعلق تھالیکن انہوں نے فلم نوراسلام کے لئے تنویرنقوی کی نعت شاہ مدینہ اس خوبصورت اندازمیں گائی کہ وہ ہمیشہ کے لئے امر ہوگئی۔
ان خیالات کااظہارریڈیوپاکستان ملتان کے سینئر براڈکاسٹرریاض میلسی نے سلیم رضا کی برسی کے موقع پراے پی پی سے بات چیت کے دوران کیا ۔انہوں نے کہاکہ سلیم رضا ماسٹر عنایت کے پسندیدہ گلوکارتھے ۔ان کے اردو گیت تو ہمیشہ سے سدا بہارہیں لیکن انہوں نے پنجاب فلموں؛ لکن میٹی؛اور’دل دیا لگیا’کے لئے بھی خوبصورت گیت گائے۔پاکستان کی فلمی صنعت کو اس کے ابتدائی برسوں میں سلیم رضا نے جوگیت دیئے وہ لازوال ہیں ۔ان کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیاجاسکتا۔سلیم رضا 4 مارچ، 1932ء کو امرتسر،برطانوی ہندوستان کے ایک مسیحی خاندان میں پیدا ہوئے۔ تقسیم ہند کے بعد وہ پاکستان منتقل ہو گئے،لاہور میں سکونت اختیاکی اوراپنانام تبدیل کرکے سلیم رضا رکھ لیا۔ان کے معروف گیتوں میں یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں (سات لاکھ)،اے دل کسی کی یاد میں،جان بہاراں رشک چمن (عذرا) اور کہیں دو دل جو مل جاتے (سہیلی) جیسے متعدد یادگار نغمات شامل ہیں۔
فلمی صنعت میں احمد رشدی،مہدی حسن،مسعود رانا،مجیب عالم اور دیگر گلوکاروں کی آمد کے بعد ان کی مانگ میں کمی آتی چلی گئی اوروہ مایوس ہو کرکینیڈا چلے گئے جہاں انہوں نے 1975ء میں موسیقی کاایک اسکول قائم کیا۔سلیم رضا 25 نومبر 1983ء میں گردوں کے امراض میں مبتلاہو کر51 سال کی عمر میں وینکوور، کینیڈا میں انتقال کر گئے۔

