تجزیےسلمان عابدلکھاری

سینٹ کا انتخابی معرکہ ۔۔ سلمان عابد کا تجزیہ

مکالمہ

حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان نئی سیاسی جنگ مارچ میں ہونے والے سینٹ کے انتخابات ہیں ۔52نشستوں پر انتخابات کا انعقاد ہونا ہے ۔یہ نشستیں 12مارچ کو ختم ہونے والی ہیں ۔ان میں 17نشستیں پاکستان مسلم لیگ ن ، آٹھ آٹھ نشستیں پیپلز پارٹی ، پی ٹی آئی ،4 ایم کیو ایم ، 2جے یو آئی ، نیشنل پارٹی 2، عوامی نیشنل پارٹی ، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی ، جماعت اسلامی ، بلوچستان نیشنل پارٹی ایک ایک اور آزاد پانچ امیدواروں کی نشستیں خالی ہونی ہیں ۔حکومت یا وزیر اعظم عمران خان نے مارچ میں ہونے والے سینٹ کے انتخابات کو فروری میں کروانے کا اعلان کرکے نئی محاذ آرائی کا آغاز کردیا ہے ۔
سینٹ کے حالیہ 52نشستوں پر ہونے والے انتخابات حکومت اور حزب اختلاف کے لیے خصوصی اہمیت کے حامل ہیں ۔ بالخصوص حالیہ سینٹ کے انتخابات کے نتائج پر سب سے زیادہ دلچسپی حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کی ہے ۔ کیونکہ موجودہ سینٹ میں حزب اختلاف کی نشستوں کی تعداد زیادہ ہونے سے حکومت کو عملی طو رپر قانون سازی کرنے میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔اسی پس منظر میں حکومت کی بڑی دلچسپی فوری سینٹ کے انتخابات اور اس کے نتیجے میں سینٹ میں سیاسی برتری او راپنی مرضی کی قانون سازی میں موجودمشکلات کوکم کرنا ہے ۔حزب اختلاف کو اس بات کا پوری طر ح احساس ہے کہ اگر سینٹ میں تحریک انصاف کو برتری حاصل ہوجاتی ہے تو اس کے نتیجے میں حکومتی پوزیشن مضبوط اور حزب اختلاف کی پوزیشن نہ صرف کمزور ہوگی بلکہ سخت قانون سازی بھی حزب اختلاف کے لیے نئی مشکلات پیدا کرسکتی ہے ۔
سینٹ کے حالیہ انتخابات کے حوالے سے حکومتی سطح پر دو فیصلے کیے گئے ہیں ۔ اول ان انتخابات کو مارچ کی بجائے فروری میں کروانے کا حتمی فیصلہ کیا جارہا ہے ۔اس فیصلہ کے لیے حکومت الیکشن کمیشن سے رجوع کیا جارہا ہے ۔ دوئم سینٹ کے انتخابات میں سیکرٹ بیلٹ کی بجائے شو آف ہینڈ یا اوپن بیلٹ کا طریقہ کار اختیا رکیا جائے ۔اس فیصلہ کے لیے حکومت نے فیصلہ کیا وہ آئین کی شق 186کے مطابق فوری طور پرسپریم کورٹ سے صدارتی ریفرنس کی صورت میں رجوع کیا جائے ۔کیونکہ اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے حکومت کو مشورہ دیا تھا کہ وہ معاملہ کی حساسیت کے پیش نظر آئین کی شق 186کے تحت سپریم کورٹ کی رائے لینا مفید ہوسکتا ہے ۔ایک مسئلہ انتخابات کا شو آف ہینڈ کا بھی ہے ۔ اٹارنی جنرل کے بقول یہ انتخابات شو آف ہینڈ کے تحت بھی ہوسکتے ہیں او راس کے لیے کسی آئین میں ترمیم کی بجائے الیکشن ایکٹ 2017کو تبدیل کرنا ضروری ہے ۔
سینٹ کے ممبران کی مدت 11مارچ 2021میں ختم ہورہی ہے او راگر ان انتخابات کو کروانا ہے تو یقینی طور پر یہ انتخابات ایک ماہ کے اندر ہی ہوسکتے ہیں ۔یعنی 11فروری سے 11مارچ کے درمیان یہ انتخابات ہوسکتے ہیں ۔ اسی طرح ان انتخابات کا فیصلہ حکومت نے نہیں بلکہ عملی طور پر ایکشن کمیشن کو ہی کرنا ہے ۔ حکومتی تجویز پر فیصلہ کا اصل اختیار بھی الیکشن کمیشن کے پاس ہی ہے ۔ کیونکہ خود سے حکومت کسی بھی صورت میں انتخابی شیڈول جاری نہیں کرسکتی ۔اسی طرح آئین کی شق226کے تحت وزیر اعظم کے سوا تمام انتخابات خفیہ رائے شماری کی بنیاد پر ہی ہوسکتے ہیں ۔اگرچہ حکومتی موقف ہے کہ وہ بغیر کسی ترمیم کے شو آف ہینڈ کی مدد سے انتخابات کرواسکتے ہیں ۔لیکن سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد جو عملی طور پر انتخابات کے طریقہ کار پر وسیع تجربہ رکھتے ہیں ۔ ان کے بقول حکومت کو سینٹ کے الیکشن شو آف ہینڈ سے کرانے کے لیے آئین کے آرٹیکل 226, 59اور سینٹ الیکشن ایکٹ 2017کی اہم شق 221میں بھی ترامیم کرنا ہوں گی ۔اس لیے آئینی ترمیم سے قبل سینٹ الیکشن قانونی طور پر شو آف ہینڈ سے نہیں ہوسکتا ۔ان کے بقول آئین میں ترمیم کا طریقہ کار دستور پاکستان میں درج ہے ، اسے کسی صدارتی آرڈنینس کے زریعے نہیں بدلا جاسکتا۔
حکومت آئینی ترمیم کی بجائے سپریم کورٹ پر بھروسہ کررہی ہے او راسی کے فیصلہ کی مدد سے آگے بڑھنا چاہتی ہے ۔ یہ کام آسان نہیں بلکہ مشکل ہوگا ۔اگر سپریم کورٹ کا فیصلہ حکومت کے حق میں نہیں ہوگا تو یقینی طور پر سیاسی اور قانونی محاذ پر سبکی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔بظاہر ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے فروری میں انتخابات کا اعلان کرکے سیاسی پلجھڑی چھوڑی ہے او راسے بھی اندازہ ہے کہ قانونی محاذ پر یہ کام آسان نہیں جو وہ کرنا چاہتی ہے ۔ اصل مقصد اس بحث کو چھوڑنے کا حزب اختلاف پر سیاسی دباو کو بڑھانا ہے ۔ کیونکہ حزب اختلاف کی جماعتوں کا اتحاد پی ڈی ایم مسلسل اسمبلیوں سے اجتماعی طور پر استعفوں کی بات کررہی ہے ۔ بقول مولانا فضل الرحمن جو خود پی ڈی ایم کے سربراہ ہیں وہ موجودہ اسمبلیوں سے سینٹ کے انتخابات کے حق میں نہیں ۔ پی ڈی ایم کی قیادت کا بیانیہ یہ ہے کہ ہم ہر صورت میں مارچ سے قبل حکومت کو گھر بھیج دیں گے ۔
جہاں تک سینٹ کے انتخابات کا شو آف ہینڈ سے کروانے کا تعلق ہے تو یہ مطالبہ تحریک انصاف کا ہمیشہ سے رہا ہے ۔ ماضی میں عمران خان نے اپنے ہی ارکان اسمبلی کو سینٹ کے انتخابات مےں اپنی وفاداری بدلنے یا پیسوں کی عوض ووٹ بیچنے کی باداش میں درجن سے زیادہ اپنے ارکان اسمبلی کو پارٹی سے نکال دیا تھا ۔ یہ ہی سلوک پیپلز پارٹی او رپی ایم ایل این سمیت دیگر جماعتوں کے صوبائی ارکان اسمبلی نے بھی کیا لیکن یہ جماعتیں اپنے ہی ارکان اسمبلی کے خلاف کوئی بڑا فیصلہ نہ کرسکے ۔ سینٹ کے انتخابات میں ارکان اسمبلی کی خریدو فروخت کا جو بدنما کھےل جاری ہے وہ واقعی بند ہونا چاہیے ۔ شو آف ہینڈ یا اوپن بیلٹ پر بظاہر مسلم لیگ ن بھی حامی نظر آتی ہے ۔اس موجودہ صورتحال میں اگر سینٹ کے انتخابات ہونگے تو اس میں شوآف ہینڈ یا اوپن بیلٹ کا بڑا فائدہ حزب اختلاف کی جماعتوں کو ہوگا کہ ان کے ارکان حکومتی لالچ میں اپنے ووٹ کو پارٹی فیصلہ کے برعکس استعمال نہیں کرسکیں گے ۔لیکن اس میں ترجیحی فہرست کے مسائل درپیش ہیں ۔ البتہ اوپن بیلٹ کا آپشن زیادہ کارگر نظر آتا ہے اور خود اٹارنی جنرل نے بھی اسی تجویزکا عندیہ دیا ہے ۔
بظاہر اس وقت حکومت او رحزب اختلاف کے درمیان سینٹ کے انتخابات کے تناظر میں قانونی پہلو وں سے زیادہ سیاسی اعصابی جنگ کا زیادہ غلبہ ہے ۔ دونوں اطراف سے اعصابی جنگ میں ایک دوسرے کو سیاسی محاذ پر شکست دینا یا ان کو سیاسی طور پر کمزور کرنا ہے ۔ حکومت کی حکمت عملی یہ ہے کہ اس اعصابی جنگ سے حزب اختلاف کے استعفوں کی سیاست کے غبارے سے ہوا نکالی جائے جبکہ حزب اختلاف بڑا دباو ڈال کر حکومت کو گھر بھیج کر یا اسمبلیوں سے استعفی دے کر سینٹ کے انتخابات کو پس پشت ڈالنا چاہتی ہے ۔حکومت کا موقف ہے کہ اول تو حزب اختلاف اسمبلیوں سے استعفے کا کارڈ نہیں کھےلے گی او راگر کھیلا تو تین صوبو ں کا الیکٹرول کالج برقرار رہے گا ۔انتخابات کی صورت میں حکومتی برتری کے واضح امکانات ہیں۔ ان انتخابات کے بعد سینٹ میں حکومت کی تعداد 55جبکہ حزب اختلاف کی 49تک ہوسکتی ہیں جو حکومت کے لیے ایک بڑی سیاسی جیت کو پیدا کرے گی۔کیونکہ حکومت سینٹ مےںبرتری کے بعد نیب کے قوانین میں اپنی مرضی او رمنشا کے مطابق کچھ قوانین میں ترمیم کرکے احتساب کے معاملے پر بڑا کردار ادا کرنا چاہتی ہے اور یہ ہی حزب اختلاف کا بڑا خوف بھی ہے جس کا وہ راستہ روکنا چاہتی ہے ، لیکن اس کی کامیابی کے امکانات محدود ہیں۔
( بشکریہ : روزنامہ ایکسپریس )

 

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker