شفقت اللہ لغاریکالملکھاری

ماڈل ٹاؤن ، ساہیوال اور موت سناتے بچے .. شفقت اللہ لغاری

وطن عزیز میں آئے روز ایسے واقعات کا ہونا لمحہ فکریہ ہے ،کسی کی عزت داؤ پر ،کسی کی جائیداد قبضہ مافیا کے غنڈوں کے پاؤں میں ،کوئی انصاف کے لیے در در کی دھول چاٹتا ہوا،کسی کے ماں باپ اپنے لخت جگر کی گم شدگی کی دہائیاں دیتے ہوے، کوئی ناجائز مقدمات کی زد میں ،کوئی مہنگائی کےہاتھوں خستہ حال ،کوئی بےروزگاری سے خودکشیوں کا متمنی ،مایوس ہوا تو دو دن سے اخبار اور ٹی وی سے دور رہا آج اکیڈمی سے واپس آکر خبرنامہ دیکھنا چاہا تو دو بچوں کی آپ بیتی نے مفلوج کر کے رکھ دیا اور ذہنی تناؤ بڑھا تو قلم اٹھایا تو سبکتگین کی ہرنی والی کہانی ذہن میں گھومنے لگی،پھر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی وہ تصویر خواب کیطرح ذہن میں سمانے لگی جہاں مرنے کے لیے ایک ہرنی درندوں کے سامنے اس لئے پیش پیش ہے کہ اس کے بچے کو جانے دیں اور وہ موت کے منہ میں جاتے ہوئے کنکَھیوں سے بھاگنے والے اپنی بچے کو دیکھ کر فرط مسرت میں مگن ہے. پھر مجھے وہ واقعہ رلانے لگا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجلس میں دیر سے پہنچے تو صحابہ نے دیر کی وجہ پوچھی تو سروردوجہاں نے فرمایا جس راستے سے میں نے گزرنا تھا وہاں آج ایک کتیا اپنے بچوں کے ساتھ موجود تھی میرے گزرنےپر ممکن ہے کہ کتیا کوتکلیف ہوتی کہ یہ شخص میرے بچوں کو کوئی تکلیف نہ پہنچائے تو اس لیے مجھے لمبا چکر کاٹنا پڑا جس کی وجہ سےدیر سے پہنچ رہا ہوں، اور کسی صحابی کا کسی گھونسلے سے پرندے کے بچے اٹھانا اور پرندے کا بے قرار ہونا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فورا تاکید کرنا کہ بچے گھونسلے میں واپس چھوڑ دیں. پھر کسی جنگ کا واقعہ نبوت کے زمانےکا ہے جس میں ایک بچہ روتا ہے ہائے میرے ابو شہید ہو گئے ہیں تو سرکار دو عالم اس بچے کو اٹھا کر کہتے ہیں کہ آج سے میں آپ کا باپ ہوں. طائف میں پتھر کھا کر دعافرما رہے ہیں کہ اللہ پاک ان کو ہدایت دے یہ نہیں جانتے. افسوس کہ ہم اسی نبی کے پیروکار ہو کر بھی رحم سے عاری ہیں.


آج کا ساہیوال کا واقعہ پورے مسلمانوں کی چیخیں نکال گیا ہے جہاں چار انسانوں کی زندگیوں کو محافظوں نے نگل لیا. کیا خبر ان نہتے ماں باپ کو کہ جوشہنائیوں کے خواب آنکھوں میں سجا کر زیورات کی چھنکار اور سائے میں خوں آلود تھے. ہائے ماں باپ ننھے پھولوں کو آخری وقت تک باہوں میں چھپائے بیٹھے تھے کہ ان نقاب پوش محا فظوں پر ہمارےمعصوم اچٹتی نگاہ بھی نہ ڈالیں کیونکہ سنسانی اور وحشت میں ڈوبے ان محافظوں کے داغدار چہرے مستقبل میں ہمارے بچوں کے اذہان کو خوف زدہ کیے نہ رکھیں مگر حیف ان ا ہلکاروں پرجو خود کئی دفعہ اپنے بچوں کوایک دن میں سینے سےلگاتے ہیں لیکن دوسروں کے بچوں کو معلوم نہیں کیسا شیشہ دکھانےکے لئے والدین کو جدید اسلحہ سے بھون ڈالتے ہیں.سرخ سلام ان بچوں کو جو ظلم سے نڈھال ہونے کی بجانے سیسہ پلائی دیوار بن کراتنے حوصلے سے لوگوں کواپنے والدین کی موت کی آپ بیتی سناتے ہوئےاستقامت کا پہاڑ بنے ہوئےہیں. میں ایک دن موٹر بائیک سے معمولی گرا اور مختصر خراش آئی جب میرے بیٹے کوپتہ چلا تو اس کی ہچکیاں بندھ گئیں کہ میرے ابا کو چوٹ تو لگی ہے. جن کے والدین گولیوں سے چھلنی ہوئے ان کے دماغ سے یہ واقعہ کس طرح شروع اور اختتام پذیر ہوگا کہ ہمارے ماں باپ اور گولیاں……. معلوم نہیں قانون کے رکھوالوں نے قانون کی اوٹ میں یہ کھیل کیوں کھیلا کیا یہ انعام لینا چاہتے تھے کہ بچوں کو تو ہم نے بچا لیا. اگر یہ لوگ مجرم تھے تو پھر تیرہ سالہ بیٹی اور اس کی ماں کس قانون کے تحت بندوقوں سے چھلنی کی گئیں. مجھےتو جلیانوالہ سانحہ…. ماڈل ٹاؤن واقعے کے وہ خوں آلود بوڑھے ،جوان اور مائیں بھولی ہیں حتی کہ جنگ آزادی کا یہ واقعہ بھی پرانا ہو گیا ہے کہ میجر ہڈسن نے کسی مغل شہزادے کا خون پیا تھا…..

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker